محترم مولانا امام الدین صاحب

محترم مولاناامام الدین صاحب مرحوم (مشنری انچارج انڈونیشیا) 1928ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں جماعت چہارم کے طالب علم تھے جب آپ نے خواب دیکھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے ہمراہ دنیا فتح کرنے کے لئے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے ہیں۔آپ نے بھی ہمراہ جانے کی اجازت چاہی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ کی طرف جانے کااشارہ ہؤا۔چنانچہ 1934ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی وقف زندگی کی تحریک پر آپؓ نے بھی لبیک کہا اور 9؍جنوری 1935ء کو آپ کے سپرد پہلی خدمت کی گئی۔ 1938ء میں تحریک جدید کے بورڈنگ کے ٹیوٹر مقرر ہوئے، جون 1946ء میں پہلی بار بطور مبلغ سنگاپور روانہ ہوئے، دسمبر1949ء میں انڈونیشیا بھجوائے گئے جہاں8برس تک جماعت کی تنظیم نو کرنے کے علاوہ کئی مساجد بھی تعمیر کروائیں۔چونکہ جلسہ کرنے کی اجازت نہ تھی اس لئے انفرادی تبلیغ کرتے رہے۔ 1957ء میں آپ کا تقرر جاوا میں ہوااور 1964ء میں انڈونیشیا کے دارلحکومت جاکرتہ میں رئیس المربیان مقررہوئے جہاں سے 1967ء میں ربوہ واپس آئے۔
محترم مولاناصاحب کا ایک انٹرویو جو مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ جولائی1970ء میں شامل اشاعت تھا، روزنامہ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍نومبر1996ء میں شائع ہواہے۔
محترم مولاناامام الدین صاحب نے انٹرویو میں مزید بتایا کہ تبلیغ میں انفرادی رابطہ بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے اور لٹریچر میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ بہت عمدہ کتاب ہے۔ اپنے انٹرویو میں مولانا موصوف انڈونیشیا کے احمدیوں کی قربانیوں اور مبلغین کی قبولیت دعا کے اعجازی واقعات کا بیان بھی کرتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں