محترم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اگست 2003ء میں محترم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ10؍اگست 2003ء کو بعمر 92 سال سرگودھا میں انتقال فرماگئے اور اگلے روز بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں تدفین عمل میں آئی۔
محترم شاہ صاحب 2؍دسمبر 1911ء کو گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں محترم سید حیات شاہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ بہت غربت اور مشکلات میں بچپن گزرا۔ 1927ء میں مڈل پاس کیا۔ اسی سال قادیان جاکر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوگئے۔ 1934ء میں مولوی فاضل کیا۔ کچھ عرصہ پرائیویٹ ملازمت کی۔ 1938ء سے 1941ء تک ادارہ الفضل میں ملازم رہے اور مئی 1942ء سے بطور مربی سلسلہ خدمت کا آغاز کیا۔ آپ نے پاکستان کے متعدد شہروں میں خدمات سرانجام دیں ۔ پھر نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقامی اور 1983ء میں نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ مقررہوئے۔ دسمبر 1997ء تک آپ خدمت کی سعادت پاتے رہے۔
آپ جماعتی علم کلام اور موازنہ مذاہب کا گہرا علم رکھتے تھے۔ ابتداء سے مناظروں کے ذریعہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اخبارات ورسائل میں آپ کے پانچ سو سے زائد مضامین شائع ہوئے۔ تین درجن سے زائد کتب اور رسائل آپ نے تصنیف کئے۔ قرآن کریم سے خصوصی شغف تھا اور روزانہ ایک پارہ تلاوت کرتے تھے۔ ربوہ میں رمضان المبارک میں پندرہ سال تک درس القرآن دیا۔ آپ ایک عارف باللہ، دعاگو اور عالم باعمل بزرگ تھے جن کی ساری زندگی درس و تدریس اور خدمت دین میں گزری۔
آپ کا نکاح 13؍جنوری 1936ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے مکرمہ سیدہ صالحہ بانو صاحبہ دختر مکرم سید امیر حسن صاحب بریلوی کے ہمراہ پڑھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو 7 بیٹیاں اور 2 بیٹے عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Tgv1e]

اپنا تبصرہ بھیجیں