محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب

محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب 7؍جنوری 2001ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍جنوری 2001ء میں آپ کے مختصر حالات زندگی شائع ہوئے ہیں۔
آپ 25؍ستمبر 1922ء کو امرتسر میں محترم میاں سراج الدین صاحب (مؤذن مسجد اقصیٰ قادیان) کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم نے 1916ء میں قبول احمدیت کی سعادت حاصل کی تھی۔ آپ نے 15؍اگست 1946ء کو زندگی وقف کردی اور فوج سے فارغ ہوکر دسمبر میں قادیان آگئے۔ 23؍جون 1949ء کو مولوی فاضل کیا اور پھر فرقان فورس میں خدمات بجالائے۔ 29؍اکتوبر 1950ء کو پہلی بار بطور مبلغ غانا بھجوائے گئے۔ بعد میں آپ نے نائب پرنسپل جامعہ احمدیہ، قائمقام پرنسپل جامعہ احمدیہ، سیکرٹری حدیقۃالمبشرین اور سیکرٹری مجلس نصرت جہاں کے طور پر خدمت کرنے کے علاوہ غانا، امریکہ جرمنی اور شرق اوسط میں بطور امیر و مشنری انچارج بھی خدمت کی توفیق پائی۔
23؍جنوری 2000ء کو آپ کی رخصت کی درخواست پر حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: ’’عطاء اللہ کلیم صاحب نے بڑی لمبی خدمت کی ہے اور اب ان کی صحت بھی ایسی نہیں کہ بھرپور کام کرسکیں، ان کو رخصت دے دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنے بے انتہاء فضلوں سے نوازے‘‘۔
آپ کے غانا میں قیام کے دوران آپ کے مضامین اور خطوط قومی اخبارات میں شائع ہوتے رہے جن کی تعداد 72 ہے۔ 1962ء میں آپ نے غانا میں اخبار ’’دی گائیڈنس‘‘ جاری کیا اور ادارت کے فرائض بھی خود سرانجام دیتے رہے۔ قیام امریکہ کے دوران پندرہ روزہ ’’النور‘‘ اور ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ شروع کئے۔ نیز اردو و انگریزی میں لاتعداد مضامین لکھے، مقالے پڑھے اور مختلف قسم کا لٹریچر طبع کروایا۔ غانا، امریکہ اور جرمنی کے مختلف ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں پر آپ کے انٹرویو اور تقاریر کثرت سے نشر ہوئے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے 1963ء میں بستر علالت پر ہونے کے باوجود ایک بار آپ کے والد صاحب کو بلاکر ایک اخبار میں طبع ہونے والی تصویر دکھائی، جس میں آپ غانا کے صدر کے ساتھ بیٹھے ہیں، اور فرمایا:’’دیکھو ہمارے کلیم کو خدا تعالیٰ نے کتنی عزت دی ہے‘‘۔
1970ء میں دورہ مغربی افریقہ کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے آپ کو وہ پگڑی عطا فرمائی جو حضورؒ نے پہنی ہوئی تھی۔ نیز حضورؒ نے ربوہ واپس تشریف لانے پر اپنے خطبہ جمعہ میں جن مربیان کرام کے لئے مقام نعیم کا ذکر فرمایا اس میں آپ کا بھی نام لیا اور آپ کی اہلیہ اوّل محترمہ نسیمہ بیگم صاحبہ کی خدمات کا بھی ذکر فرمایا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں