محترم میاں منیر احمد بانی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍فروری اور 2؍مارچ 2011ء میں محترم میاں منیر احمد صاحب بانی مرحوم کا ذکرخیر اُن کے برادراصغر مکرم شریف احمد بانی صاحب کے قلم سے شائع ہؤا ہے۔ قبل ازیں مرحوم کا محرّرہ ایک مضمون 28 جولائی 2006ء کے اسی کالم میں شائع ہوچکا ہے جس میں بیان شدہ بعض یادداشتیں ذیل کے مضمون سے حذف کردی گئی ہیں۔
محترم میاں منیر احمد بانی صاحب 2؍اپریل 1932ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے اور 78 سال کی عمر میں 14 جون 2010ء کو کلکتہ میں وفات پاگئے۔ آپ موصی تھے اور اپنی زندگی میں وصیت کا سارا حساب صاف کر چکے تھے۔ تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے لندن میں بھی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
آپ کے والد محترم میاں محمد صدیق بانی صاحب بچوں کی تربیت کے خیال سے 1941ء میں چنیوٹ سے قادیان آبسے اور اپنے تینوں بیٹوں کو تعلیم الاسلام سکول میں داخل کروادیا۔ محترم میاں منیر احمد صاحب نہایت ذہین تھے۔ ہمیشہ اپنی کلاس میں فرسٹ آتے اور میٹرک کے امتحان میں یونیورسٹی میں نمایاں پوزیشن لے کر وظیفہ کے حقدار ٹھہرے۔ دینی مقابلوں میں بھی اعلیٰ کارکردگی دکھاتے۔
محترم منیر احمد بانی صاحب دفتر اوّل کے مجاہدین میں شامل تھے۔ آپ خود لکھتے ہیں کہ ایک دن مَیں والدہ صاحبہ کے ہمراہ ایک بار حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہواتو حضورؓ نے والدہ صاحبہ سے تحریک جدید میں شمولیت کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ مَیں اور سیٹھ صاحب 1934ء سے ہی شامل ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ آپ دونوں کے متعلق تو مجھے علم ہے، مَیں بچوں کے بارہ میں پوچھ رہا ہوں۔ اس پر والدہ صاحبہ نے اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی طرف سے دس روپے سالانہ کے حساب سے دس سال کے لئے مبلغ پانچ صد روپے وہیں ادا کردیئے۔ حضورؓ نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ رقم دفتر میں بھجوادی اور دو تین روز بعد ہمیں اپنے دستخط سے مزیّن سرٹیفکیٹ خود عطا فرمائے۔
حضرت امّ طاہرؓ نے ہماری والدہ کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ اس پہلو سے بھی حضورؓ کا خاص قرب ہمیں حاصل تھا۔ مرحوم کو قادیان سے عشق تھا۔ ہر سال جلسہ پر حاضر ہوتے۔ اساتذہ آپ سے بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ جب تعلیم الاسلام کالج لاہور میں تھا حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ پرنسپل تھے۔ حضورؒ ہمیشہ ’میرا خاص شاگرد‘ اور’ میرا منیر‘ کہہ کر آپ کو یاد فرمایا کرتے۔ کئی دفعہ شکار پر اپنے ہمراہ بھی لے گئے۔ اسی طرح محترم میاں محمد ابراہیم جمونی صاحب (ہیڈ ماسٹر) آپ کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’… آپ کا مضمون، آپ کے زمانہ قادیان کے بارہ میں پڑھنے کا موقعہ ملا۔ آپ کو آپ کے سکول کے زمانہ یعنی آپ کے بچپن سے ہی زیادہ تر جانتا ہوں۔ آپ کی سعادتمندی اور اساتذہ کے ادب و احترام کی آپ کی صفت سے خاص طور پر متأثر تھا اور ہوں لیکن اس زمانہ کے بعد آپ نے جس صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بالخصوص مشاہدہ کا ملکہ، وہ تو واقعۃً ایک نہایت قابل قدر چیز ہے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے Observation is selective۔ لیکن آپ نے Selection والی تو کوئی بات چھوڑی ہی نہیں۔ ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں اور نہایت عمدہ انداز اور الفاظ میں اسے بیان کرتے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے مالک ہیں اور اخلاص و اخلاق کے پیکر۔ کہتے ہیں دنیا میں دو اشخاص ایک دوسرے سے حسد نہیںکرتے: باپ اور استاد۔ بیٹا اور شاگرد چاہے کتنا ہی بلند اور ارفع ہوجائے، باپ اور استاد ان سے حسد نہیں کرتا۔ بس یہی کیفیت میری ہے۔ آپ کے والد مرحوم میںجو نمایاں اوصاف تھے ۔ اللہ کے فضل سے سب آپ نے اپنا لئے ہیں جن کا عملی ثبوت دیکھ کر میں بیحد خوش ہوں… میرے دنیا میں سینکڑوں شاگرد ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ دلی محبت ہے۔ لیکن منیر۔ منیر ہی ہے۔‘‘
جماعت احمدیہ کلکتہ بڑی فعّال جماعت ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے اس کا بیشترحصہ پنجابی حضرات پر مشتمل تھا جو کاروبار یا ملازمت کے سلسلہ میں یہاں مقیم تھے۔ ان کا بڑا حصہ چنیوٹ سے تعلق رکھتا تھا اور یہ نسبتاً خوشحال تھے اور مالی قربانی میں دل کھول کر حصہ لیا کرتے تھے۔ 1963ء میں کلکتہ میں ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر ہوگئی۔ آہستہ آہستہ اکثریت پاکستان چلی گئی۔ پرانے خاندانوں میں دونوں بھائی یعنی میاں منیر احمد بانی اور میاں نصیر احمدبانی بھی ہیں۔ جو حتی المقدور اپنی اولادوں کے ساتھ خدمت کے لئے کوشاں رہے۔ برادرم منیر احمد صاحب آخری وقت تک جماعت کے ایک فعال ممبر رہے۔ مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ آپ کو جوانی کی عمر میں ہی سخت قسم کی ذیابیطس لاحق ہو گئی تھی جس کی وجہ سے صحت بہت کمزور ہو گئی تھی۔ دن میں تین دفعہ انسولین کا انجیکشن لگانا پڑتا تھا۔ لیکن بیماری کے باوجود آخری وقت تک سخت محنت کرتے رہے۔ کبھی کام سے ناغہ نہیں کیا اور بڑی خوبی یہ تھی کہ انتہائی زندہ دل اور خوش مزاج انسان تھے۔ ہر ملنے والا آپ کا مدّاح ہو جاتا۔
قرآن مجید سے آپ کو بہت محبت تھی ۔ ایک یا دو پارے آپ نے حفظ بھی کئے تھے۔ آخری عمر میں زیادہ تر حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کبیر ہی آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھی۔ MTA کے آنے سے پہلے TV دیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود آپ کے گھر میں TV نہیں تھا۔ جب MTA کا اجرا ہؤا تو پھر گھر میں TV آگیا۔ لیکن میں نے انہیں کبھی MTA کے علاوہ اَور کوئی چینل دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
1974ء میں جب ہمارے والد محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی کی وفات ہوئی تو اس وقت انہوں نے خدمت خلق کے بہت سے کام شروع کر رکھے تھے۔ جن میں سے کچھ کا تعلق درویشان قادیان سے تھا اور مختلف شہروں میں بیوگان اور یتامیٰ کو وظائف اور امداد کا سلسلہ تھا۔ اُن کی وفات کے بعد برادرم منیر احمد صاحب نے یہ تمام کام اسی طرح جاری رکھے بلکہ مزید کئی نئے وظائف بھی جاری کئے اور یہ سلسلہ 1974ء سے لے کر 2010ء میں آپ کی وفات تک مسلسل 36 سال جاری رہا۔ یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ آپ کے بھائی محترم میاں نصیر احمد صاحب بانی اب ان تمام کاموں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کا بیٹا عزیزم تنویر احمدبانی (قائد خدام الاحمدیہ کلکتہ) بھی خدمت کے میدان میں بہت مستعد ہے۔
محترم منیر بانی صاحب اپنے والد کے دیئے ہوئے سبق پر ہمیشہ کاربند رہے کہ سخت محنت کرو، اسی میں عظمت ہے۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ اسی کی راہ میں خرچ کرو یہی ہماری پیدائش کی غرض ہے۔ چنانچہ خدمت خلق کے نئے طریقے سوچتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کو خیال آیا کہ مستحق افراد کی امداد روپے پیسے سے ہم کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی اشد ضرورتوں پر یہ رقم خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم لوگ جو انواع و اقسام کے میوہ جات سارا سال کھاتے ہیں ان غرباء نے تو کبھی یہ پھل چکھے بھی نہیں ہوں گے۔ اس خیال کے آتے ہی آپ نے اچھی خاصی تعداد میں اعلیٰ درجہ کے آم منگوائے اور پارسل بنواکر ہر غریب احمدی کے گھر پر خود جاکر دے کر آئے۔ چند روز بعد ایک دوست کہنے لگے کہ مَیں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ہر دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ نے کسی آم یا پھل پر ہمارا نام بھی لکھا ہے؟ لیکن جب آپ نے آموں کا تحفہ بھیجا تو دل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھولا نہیں ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/MOqXu]

اپنا تبصرہ بھیجیں