محترم میجر افضال احمد صاحب شہید

جماعت احمدیہ کے سپوت اور پاکستانی فوج کے دلاور افسر محترم میجر افضال احمد صاحب مورخہ 19؍ جون 2009ء کو باجوڑ جنوبی وزیرستان میں پیشہ ورانہ شجاعت اور اعلیٰ احساس فرض کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بعمر 33سال شہید ہو گئے۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23 جون 2009ء میں اس حوالہ سے مکرم ایف شمس صاحب کی رپورٹ شامل اشاعت ہے۔
محترم میجر افضال صاحب چار ماہ سے باجوڑ میں پاکستان آرمی کی طرف سے تعینات تھے اور دس دن سے پاک افغان بارڈر مٹکؔ میں بہادری سے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ 19جون کی دوپہر اپنے دستے کے ساتھ پیدل گشت کر رہے تھے کہ چٹانوں کے پیچھے چھپے ہوئے شرپسندوں نے ان پر فائر کھول دیا۔ اس اچانک حملے کا جواب آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جوانمردی سے دیا اور 15سے زائد شرپسند ہلاک کئے جن میں سے چھ کو آپ نے ڈھیر کیا۔ لیکن اسی دوران ایک گولی آپ کے سر میں پیوست ہو گئی اور آپ شہید ہوگئے۔ آپ کی میت باجوڑ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور اور پھر بذریعہ موٹر وے سرگودھا پہنچی۔ جہاں سے دس گاڑیوں پر مشتمل فوجی افسران و اہلکاروں کا قافلہ میت کو فوجی اعزاز کے ساتھ ربوہ لایا۔ اس قافلہ کی قیادت بریگیڈئر نوید احسن اور بریگیڈئر نصیر اکبر منہاس کر رہے تھے۔ دارالضیافت میں ہزاروں کی تعداد میں احباب نے ملک کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر احمدی فوجی افسر کا آخری دیدار کیا۔ مسجد مبارک میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین عام قبرستان میں عمل میں آئی۔ آپ خداتعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔
پاکستان آرمی نے اپنے اس بہادر فوجی افسر کو الوداع کہنے اور سپرد خاک کرتے وقت سلامی دی اور ایک فوجی افسر نے پاکستان آرمی کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مرحوم کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کا تعارف کروایا اور آپ کے کارنامے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس کے بعد قبر پر پھولوں کی دس چادریں چڑھائی گئیں جن میں صدر پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے چڑھائی گئی چادریں شامل ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران میجر افضال شہید کے بارہ میں آرمی افسران نے برملا کہا کہ ہمارے لئے یہ بہادری کی ایک اعلیٰ مثال ہے اور لڑنے کا جو حق تھا وہ انہوںنے ادا کردیا۔ اس موقع پر پاکستان کے بڑے ٹی وی ، ریڈیو چینل اور متعدد اخبارات کے نمائندگان کوریج کے لئے موجود تھے۔
مکرم میجر افضال احمد صاحب 7نومبر 1976ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مکرم اقبال احمد بھٹی صاحب تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ٹنڈوالہ یار سندھ میں حاصل کی۔ میٹرک 1992 ء میں راولپنڈی سے کیا۔ F.Sc نصرت جہاں انٹر کالج ربوہ سے 1994ء میں کیا۔ 1995ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا اور 12؍ اکتوبر 1997ء کو کمیشن حاصل کیا۔ مختلف کورسز پاس کرتے ہوئے 2006ء میں میجر کارینک حاصل کیا۔ اپنی عسکری زندگی کے دوران لاہور، پنوں عاقل اور شنکیاری میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ جولائی 2008ء میں FC (فرنٹیئر کانسٹیبلری، وزیرستان سکائوٹس) میں تبدیل ہوکر خدمات جاری رکھیں۔ پہلے شمالی وزیر ستان میں تعینات ہوئے اور 4ماہ سے باجوڑ میں خدمات بجالا رہے تھے۔
میجر افضال شہید بہت سی خصوصیات اور بہترین اخلاق کے حامل تھے۔ آپ ذہین، ہنس مکھ، ٹھنڈے مزاج کے بہادر نوجوان تھے۔ ہمیشہ مالی قربانی میں پیش پیش رہتے، ہر شخص آپ سے ملاقات کے بعد آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ تہذیب اور نفاست کی اعلیٰ مثال تھے۔
مرحوم نے پسماندگان میں بوڑھی والدہ کے علاوہ اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/d7gJk]

اپنا تبصرہ بھیجیں