محترم چودھری بشیر احمد وڑائچ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍مارچ 2001ء میں مکرم اعجاز احمد وڑائچ صاحب اپنے والد محترم چودھری بشیر احمد وڑائچ صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں احمدیت کا آغاز آپ کے ذریعہ سے ہوا اور پھر جوانمردی سے آپ نے مصائب کا مقابلہ کیا۔
آپ کی عمر 22 سال تھی جب آپ سخت بیمار ہوئے اور بچنے کی امید نہ رہی۔ اس حالت میں آپ کو خیال آیا کہ نیک اعمال آپ کے پاس نہیں ہیں، اللہ کو کیا جواب دیں گے۔ چنانچہ آپ نے تہیہ کیا کہ اب نماز چھوڑیں گے نہ تہجد۔ پھر خدا تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی اور اپنے اس عہد کو آپ نے آخر دم تک نبھایا۔ 20 سال کی عمر سے آپ نے قرآن کریم گاؤں کے احمدی امام سے پڑھنا شروع کردیا تھا۔ اختلافی آیات کی تشریح سمجھنے سے آپ احمدیت کی سچائی کے قائل ہوگئے اور 1957ء میں احمدیت قبول کرلی۔ اس پر آپ کی شدید مخالفت ہوئی اور جائیداد سے عاق کردیا گیا۔ آپ کچھ روز کے لئے اپنے ماموں کے ہاں آگئے جو مخلص احمدی تھے۔ آپ کے والد صاحب نے اپنے دوسرے بیٹے محترم نذیر سلیم صاحب کو کراچی سے بلایا اور آپ کے پیچھے بھیجا تاکہ آپ کو سمجھاکر احمدیت سے توبہ کروائیں۔ جب وہ ماموں کے ہاں پہنچے اور آپ سے تبادلہ خیال کیا۔ پھر احمدی مربی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی احمدیت قبول کرلی اور پھر دونوں بھائی واپس گاؤں چلے گئے۔ جب آپ کے بھائی واپس کراچی چلے گئے تو آپ کی مخالفت پھر زور پکڑ گئی حتی کہ قتل کے منصوبے بھی بنائے گئے۔ اس پر آپ اپنی والدہ کے کہنے پر سندھ چلے آئے۔ ہر سال آپ اپنے والد کو رقم بھجوادیتے۔ چار سال بعد وہ خود آپ کے پاس سندھ آئے اور کہا کہ تم جو چاہو مذہب اختیار کرو، ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ چنانچہ آپ اپنے والد صاحب کے ہمراہ واپس گاؤں رجوعہ آگئے۔ یہاں جماعت کی بہت خدمت کی توفیق پائی۔ 18 سال زعیم انصاراللہ رہے، اتنا ہی عرصہ جماعت کے سیکرٹری مال اور 22 سال تک جماعت کے صدر رہے۔ 1985ء میں گاؤں میں بجلی آئی اور آپ اپنی وفات تک احمدیہ مسجد کا بجلی کا بل ذاتی طور پر ادا کرتے رہے۔ احمدیہ مسجد نئی بنوائی تو خود نگرانی کی اور اپنی ملحقہ زمین بھی مسجد میں شامل کردی۔ جماعت کو نیا رنگین ٹی وی بھی لے کر دیا۔
آپ بہت قانع اور متوکّل انسان تھے۔ بلاتفریق مذہب ہر ایک سے ہمدردی اور محبت رکھتے لیکن احمدیت کے نام پر بہت غیرت رکھنے والے تھے۔ ہر طبقہ میں مقبول تھے۔ روزانہ نماز تہجد کے بعد ہر احمدی کے گھر پر جاکر دستک دیتے اور نماز فجر کے لئے بیدار کرتے۔ 27؍اگست 2000ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ جنازہ میں تین سو سے زائد غیرازجماعت بھی شامل ہوئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں