محترم چودھری عطا محمد صاحب آف گولیکی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11مارچ 2011ء میں مکرم وسیم احمد شمس صاحب مربی سلسلہ کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے اپنے والد محترم عطا محمد صاحب آف گولیکی ضلع گجرات کا ذکرخیر کیا ہے۔
محترم منشی احمد دین صاحب آف گولیکی 1925ء میں کسی قریبی گاؤں کے سکول میں استاد تھے۔ انہوں نے خواب میں ایک خوبصورت کتاب پر لکھا ہوا دیکھا: ’’مرزا صاحب اہم ہستی‘‘۔ اور پھر فوری طور پر بیعت کرلی۔ آپ شادی شدہ تھے اور قبل ازیں آپ کی چار بیٹیاں پیدا ہوکر وفات پاچکی تھیں۔ احمدیت قبول کرنے کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے چھ بیٹے عطا فرمائے۔ سب سے چھوٹے بیٹے کی پیدائش کے وقت آپ کی عمر 62 سال تھی۔ خدا کے فضل سے سب بیٹے میٹرک پاس کرگئے جو اُس زمانہ میں خصوصاً دیہات میں بہت مناسب تعلیم تھی۔ سب بیٹے پکّے نمازی اور اچھے اخلاق میں شہرت رکھتے تھے۔ ان بچوں میں سے تیسرے نمبر پر محترم چودھری عطا محمد صاحب تھے جو 28؍اپریل 1930ء کو پیدا ہوئے۔ 1957ء میں لاہور کے پرائمری سکول میں ملازمت اختیار کرلی۔ 1959ء میں شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ اپنے بڑے بیٹے (مضمون نگار) کو وقف کیا۔ آپ کو اپنی مجلس خدام الاحمدیہ کی بطور زعیم سات سال تک خدمت کی توفیق عطا ہوئی۔ اُن دنوں آپ سالہاسال تک جماعتی میٹنگز میں لجنہ ضلع لاہور کے نمائندہ بھی رہے۔ کسی نے صدر لجنہ (محترمہ سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ بنت حضرت سید میر محمد اسماعیل صاحبؓ) سے پوچھا کہ ہر بار اِن کو ہی کیوں لجنہ کا نمائندہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: مجھے ان سے پردہ نہیں کرنا پڑتا وہ خود پردہ کرتے ہیں۔
1967-68ء میں جب دارالذکر لاہور کی تعمیر ہورہی تھی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ کوئی جماعتی عہدیدار ہمہ وقت وہاں نگرانی کے لئے موجود رہے۔ اس پر محترم امیر صاحب کے ارشاد پر آپ نے مسلسل دو سال اپنی فیملی کے ساتھ دارالذکر کے ایک چھوٹے سے سٹور میں رہ کر خدمت کی توفیق پائی۔
آپ کو مذہبی تعصّب کا بارہا نشانہ بنایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر ہمیشہ آپ کی حفاظت فرمائی۔ 1974ء میں آپ نے اپنا تبادلہ لاہور سے کھاریاں کروالیا اور بقیہ زندگی وہیں گزاردی۔ آپ ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ بتایا کرتے تھے کہ آپ نے اپنی ہوش میں کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی۔ جلسہ سالانہ ربوہ میں باقاعدہ شامل ہوتے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے کلام سے عشق تھا۔ مضمون نگار کو بچپن میں ہی درّثمین کا اکثر حصہ زبانی یادکروایا۔ درّثمین کا یہ مصرعہ بہت پسند تھا اور ورد زبان رہتا:

’’تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں‘‘

2009ء میں آپ کی اہلیہ کی وفات ہوئی۔ جبکہ 31دسمبر 2010ء کو آپ نے وفات ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LVgW3]

اپنا تبصرہ بھیجیں