محترم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍فروری 2010ء میں محترم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب کا تفصیلی ذکرخیر مکرم چوہدری رشید الدین صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرم باجوہ صاحب کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد محترم چوہدری شیر محمد صاحب کے ذریعہ آئی جنہوں نے عنفوان شباب میں ہی بیعت کر لی۔ جبکہ اُن کے والد مکرم چوہدری علی بخش صاحب نمبردار اُن کی مخالفت کرتے تھے۔ بیٹے کی خواہش کے باوجود وہ کسی احمدی عالم کی بات سننے کے روادار نہ تھے۔ مرکز سلسلہ سے آنے والے علماء انہی کے چوپال میں آکر قیام کرتے۔ وہیں ایک کونہ میں نمازیں پڑھتے، درس دیتے اور تقاریر کرتے۔بزرگ نمبردار صاحب کو یہ باتیں پسند نہ تھیں۔ تقاریر کے وقت وہ چوپال کے دوسرے کونہ میں موجود رہائشی کمروں میں جا بیٹھتے تاکہ احمدیت کا ذکر اُن کے کانوں میں نہ پڑے۔ اسی طرح کئی سال گزر گئے۔ ایک دفعہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ وہاں تشریف لے گئے۔ اور ایک دن لوگوں کے سامنے مسائل تصوف اور روحانی حقائق بیان کرنے شروع کئے۔ حسب دستور نمبردار صاحب وہاں سے اٹھ کر کچھ دُور ایک کمرہ میں جا بیٹھے۔ حضرت مولانا صاحبؓ نے اپنی آواز بلند کر دی تاکہ نمبردار صاحب کے کانوں تک کچھ نہ کچھ کلماتِ خیر پہنچ جائیں۔ ایک تو تقریر ان کے ذوق کے مطابق تھی اور دوسرے مولانا صاحبؓ کا دلی خلوص کام کر رہا تھا چنانچہ نہ چاہنے کے باوجود نمبردار صاحب کے ذوق تصوف کو تسکین ملی اور روحانی حقائق ان پر اثر انداز ہوئے۔
تقریر کے بعد حضرت مولانا صاحبؓ حسب پروگرام روانہ ہونے لگے تو نمبردار صاحب نے پیغام بھجوایا کہ اگروہ آج روانگی ملتوی کر دیں تو رات کو میں ان کی تقریر ان کے سامنے بیٹھ کر سنوں گا۔ چنانچہ آپؓ نے روانگی ملتوی کر دی اور رات کو فلسفۂ ایمان اور مسائل تصوف پر تین گھنٹے تک تقریر کی۔ اگلے دن بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا اور آخر انہیں انشراح صدر حاصل ہو گیا اور انہوں نے اپنے کئی ساتھیوں سمیت بیعت کر لی۔
محترم چوہدری علی بخش صاحب تعلیم یافتہ اور زیرک انسان تھے۔ بیعت کے بعد انہوں نے ایمان اور اخلاص میں جلد جلد ترقی کی اور بہتوں سے آگے نکل گئے۔ وصیت بھی کر دی جو اُن کی جائیداد کے لحاظ سے ایک بڑی قربانی تھی۔ وفات کے بعد آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
مکرم باجوہ صاحب کے بچپن میں تعلیمی سہولتوں کا فقدان تھا۔ خوشحال گھرانہ تھا۔ خاندان میں چودھراہٹ کے علاوہ نمبرداری بھی تھی اور آپ سب سے بڑے اور لاڈلے بیٹے تھے۔ لیکن اس شان و شوکت اور چوپال کی رونق کو تیاگ کر آپ تعلیم حاصل کرنے میں جت گئے۔ بی اے آپ نے دُور دراز واقع بہاولپور سے کیا۔ میں نے ایک دفعہ دریافت کیا کہ آپ کیوں اتنی دور چلے گئے۔ کیا اس سے ورے کوئی کالج موجود نہیں تھا ؟ بے ساختہ فرمایا کہ اس وقت ریاست بہاولپور پر عباسی خاندان کے نوابوں کی حکومت تھی اورساری ریاست میں تعلیم مفت تھی۔
بی اے کرنے کے بعد 1942ء میں آپ وائسرائے کے سیکرٹریٹ دہلی میں ملازم ہوگئے۔ 1945 ء میں حضرت مصلح موعودؓنے تعلیم یافتہ احمدی نوجوانوں کو زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو آپ نے بھی لبیک کہا اور مارچ 1945ء میں قادیان حاضر ہو کرمربیان کلاس میں داخل ہو گئے۔ اسی سال دسمبر میں آپ کا تقرر لندن میں بطور مربی سلسلہ ہو گیا۔ چار سال بعد فروری 1949 ء میں واپس پاکستان آئے اور ڈیڑھ سال قیام کیا۔ جولائی 1950ء میں آپ امام مسجد فضل لندن مقرر ہوئے اور پھر پانچ سال بعد 1955ء میں مستقل طور پر پاکستان تشریف لائے۔
آپ بتایا کرتے تھے کہ جب میں نے زندگی وقف کرنے کے بعد اپنی ملازمت سے استعفیٰ دیا تو میرے انگریز افسر نے بڑے تعجب کا اظہار کیا اور از راہ ہمدردی مجھے بہت سمجھایا اور بار بار کہا کہ اتنی اچھی سرکاری ملازمت کو نہ چھوڑو۔ تمہارا کام تسلی بخش ہے۔ میں جلد تمہاری ترقی کے لئے سفارش کرنے والا ہوں اور آئندہ بھی ترقی کے بڑے مواقع ہیں۔ مَیں نے انہیں بتایا کہ دین کی خدمت کے لئے میں نے امام وقت کی آواز پر لبیک کہا ہے اب میں ہرگز پیچھے نہیں رہ سکتا۔ وہ بہت حیران ہوئے۔ پھر کئی سال بعد لندن میں قیام کے دوران اس انگریز افسر سے ملاقات ہوگئی۔ اور وہ کبھی کبھی میرے پاس آتے رہے اور کہتے کہ تم نے اچھا کیا کہ دنیا چھوڑ کر دین کی خدمت اختیار کر لی۔ یہ اچھا اور تسلی بخش سودا ہے۔
مکرم باجوہ صاحب کی شادی دھرگ میانہ ضلع سیالکوٹ کے ایک معزز زمیندار خاندان میں ہوئی۔ آپ کے خسر محترم چوہدری عنایت اللہ صاحب اپنے علاقہ کے ذیلدار تھے اور وسیع تعلقات اور اثر و رسوخ رکھنے والے مخلص احمدی تھے۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا شوق تھا۔ چنانچہ اپنی بچی کی شادی کے موقعہ پر انہوں نے ایسا پروگرام بنایا کہ علاقہ کے با اثر لوگوں تک بطریق احسن پیغام حق پہنچ جائے۔ مرکز نے آپ کی درخواست پر اعلان نکاح کے لئے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ کو بھجوا دیا۔ حضرت مولانا صاحبؓ نے ’’حیات قدسی ‘‘ میں ایک تبشیری الہام کے عنوان کے تحت اس تقریب کا ذکر فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ اس موقع پر تمام مذاہب کے لوگ مدعو تھے اور اُن سے خطاب کرنے سے قبل مَیں نے مسجد میں جاکر دعا کی تو پنجابی شعر الہام ہوا جس میں بشارت اور تسلّی تھی۔ چنانچہ خطبہ نکاح کے دوران ایسے معارف میری زبان سے جاری ہوئے کہ تمام حاضرین نہایت محظوظ ہوئے اور بار بار اس بات کا اظہار کیا کہ ایسے حقائق اس سے پہلے سننے میں نہیں آئے۔
محترم باجوہ صاحب کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ مکرم ڈاکٹرچوہدری ظہیر احمد باجوہ صاحب نائب امیر جماعت امریکہ آپ کے چھوٹے بیٹے ہیں۔
محترم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب سے میری شناسائی 1955 ء میں ہوئی جب آپ لندن سے واپس ربوہ تشریف لائے اور نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ اُس وقت ناظر تھے۔ 1957 ء میں ہماری کلاس نے شاہد پاس کیا تو حضرت صاحبزادہ صاحبؓ نے خاکسار کو کام کے لئے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ اس طرح قریباً ایک سال تک مجھے محترم باجوہ صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ آپ کی تحریر پختہ ، مختصر اور موثر ہوتی تھی۔ خطوط میں آپ عموماً اس فقرہ کا اضافہ فرماتے کہ آپ کو سلسلہ کی روایات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان دنوں آپ کبھی کبھی رسالہ ’’ لاہور‘‘ میں ایک کالم بھی لکھا کرتے تھے جو مختصر مگر دلچسپ ہوتا تھا۔ آپ کی دینی گفتگو بھی بڑی مؤثر اور تسلی بخش ہوتی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے 26 دسمبر1955 ء کو جلسہ سالانہ کی اپنی افتتاحی تقریر میں نوجوانوں کو قرآن شریف اور حضرت مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ کی مثال دی۔ حضور نے فرمایا : ’’لندن میں ہمارے ایک مبلغ ہوتے تھے چوہدری ظہور احمد باجوہ۔ وہ آج کل ناظر رشد و اصلاح ہیں۔ ان کے ساتھ بعض دفعہ لوگوں کی گفتگو ہوتی تھی، بعض دفعہ انگریزوں کی اور بعض دفعہ جو بڑے بڑے ہوشیار اور جہاندیدہ پیغامی مبلغ وہاں ہیں ان کی۔جب وہ سوال یا جواب آتا تو ہمیشہ ان کا خط پڑھ کر میرا دل کانپتا تھا کہ یہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں۔ مگر ہمیشہ ہی میں نے دیکھا کہ جب میں ان کا جواب پڑھتا تھا تو دل خوش ہو جاتا تھا۔ وہ ایسا مکمل اور اعلیٰ جواب ہوتا تھا کہ میرا دل مانتا تھا کہ اس شخص کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے۔‘‘
محترم باجوہ صاحب دفتری امور میں بڑے باقاعدہ انسان تھے۔ عین وقت پر دفتر پہنچتے۔ پورا وقت موجود رہتے۔ ضروری کاموں کے سوا کہیں ادھر ادھر نہ جاتے۔ دلجمعی اور دلچسپی سے کام کرتے۔ دفتر کا ہر کام ان کے ذہن میں مستحضر ہوتا اور ان کی خواہش اور کوشش ہوتی کہ سب کام وقت پر سرانجام دئے جائیں۔
مسجد اقصیٰ کا انتظام نظارت اصلاح و ارشاد کے ماتحت ہوتا ہے۔ آپ ریڈیو پر موسمیاتی خبریں سنتے تاکہ جمعہ کے دن نمازیوں کے لئے حالات کے مطابق انتظام کیا جا سکے۔ کام مکمل کرنے کی خواہش میں رکھ رکھاؤ کا زیادہ خیال نہ رکھتے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے دن قریب تھے۔ آپ جلدی میں دفتر سے نکلے اور فرمایا کہ مجھے جلد از جلد جلسہ گاہ تک پہنچاؤ، ابھی اطلاع ملی ہے کہ حضورؓ معائنہ کے لئے وہاں تشریف لے جا رہے ہیں۔ اس وقت موٹریں تو میسر نہ تھیں۔سائیکل کے پیچھے کیریر پر وہ بیٹھتے نہ تھے۔ فرماتے کہ مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ میں نے آگے انہیں بٹھایا اور سائیکل دوڑائی۔ ہمارے پہنچنے کے دو منٹ بعد حضرت مصلح موعودؓنے تشریف لے آئے، جلسہ گاہ کا معائنہ فرمایا اور تیاری کو مکمل پا کر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ تھوڑی دیر بعد ہم بھی اسی طرح سائیکل پر دفتر واپس آگئے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی نگرانی میں قریباً پانچ سال تک نظارت اصلاح و ارشاد کا انتظام آپ نے بڑی کامیابی سے چلایا۔ حضرت مصلح موعودؓ کا اعتماد آپ کو حاصل تھا۔ جب لمبی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا تو حضورؓ نے آپ کو ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد مقرر فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے بطور ناظر زراعت ، ناظر صنعت و تجارت ، ناظر امورعامہ اور ایڈیشنل ناظر تعلیم القرآن لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ آپ صدر، صدر انجمن احمدیہ بھی رہے۔ غرض اس ممتاز خادم سلسلہ کا آخر عمر تک اوڑھنا بچھونا سلسلہ احمدیت کی خدمت ہی رہا۔
غالباً 1960 ء میں جبکہ خاکسار بطور مربی سلسلہ کوئٹہ میں مقیم تھا تو مکرم باجوہ صاحب مختلف جماعتوں کا دورہ کرتے ہوئے کوئٹہ بھی تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے خاکسار کے غریب خانہ پر قیام فرمایا کہ آپ کے ہاں قیام بے تکلفی کی وجہ سے خوشگوار رہے گا۔ سادگی اور بے تکلّفی آپ کا خاص وصف تھا۔ ایک رات سونے سے قبل میرے بھائی نے آپ کو تہبند پہنے دیکھا تو پوچھا کہ کیا آپ لندن میں بھی رات کو تہبند ہی پہنا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ لندن میں تو مَیں نے تہبند نہیں پہنا لیکن پاکستان واپس آنے کے بعد پہلی رات سے ہی مَیں نے تہبند پہننا شروع کر دیا تھا۔
محترم ظہور باجوہ صاحب نے ایک واقف زندگی کے طور پر ساری زندگی سادگی اور کفایت شعاری سے بسر کی اور کسی طرف طمع کی نظر سے نہیں دیکھا۔ مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب سابق امام مسجد فضل لندن و وکیل الزراعت تحریک جدید سے آپ کے قریبی تعلقات تھے۔ جب سندھ میں غلام محمد بیراج بنا تو انہوں نے وہاں ایک وسیع رقبہ حاصل کیا۔ اب انہیں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اس زمین کو آباد کرسکے۔ انہوں نے اس بارہ میں مکرم باجوہ صاحب سے رابطہ کیا۔ مکرم باجوہ صاحب نے اپنے گاؤں کے ایک بزرگ جو ان کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے کو مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب سے ملا دیا۔ باہمی معاہدہ تحریر ہونے لگا تو مکرم چوہدری صاحب نے محترم باجوہ صاحب سے کہا کہ آپ بھی حصہ دار بن جائیں۔ فرمایا کہ ایک حصہ میرا ہوگا اور ایک آباد کرنے والے کا اور تیسرا حصہ آپ کا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بڑا زور دیا لیکن باجوہ صاحب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ آپ زمین خریدنے والے اور یہ آباد کرنے والے، میرا کوئی تعلق نہیں، میں مفت میں کیسے حصہ دار بن جاؤں، آپ کی زمین آپ کو مبارک ہو۔ کوئی عام زمیندار ہوتا تو وہ ضرور لالچ میں آ جاتا لیکن مکرم باجوہ صاحب اس طرف بالکل مائل نہ ہوئے اور آخر تک اپنے اس فیصلہ پر خوش رہے۔ بحیثیت واقف زندگی سادگی اور کفایت شعاری آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Nl6f3]

اپنا تبصرہ بھیجیں