محترم چوہدری محمد شفیع صاحب زیروی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اکتوبر 2008ء میں مکرمہ الف۔ قدوس صاحبہ کے قلم سے اُن کے والد محترم چودھری محمد شفیع صاحب زیروی کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔
محترم چودھری محمد شفیع صاحب جٹ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ انڈیا کے شہر زیرہ میں یکم مارچ 1936ء کو پیدا ہوئے۔ پاکستان بنا تو سارا خاندان چیچہ وطنی کے ایک گاؤں میں آ بسا۔ اس خاندان میں احمدیت یوں آئی کہ آپ کے نانا مکرم چوہدری عبداللہ ذیلدار صاحب جو زیرہ کے بہت بڑے زمیندار تھے، کسی عدالتی کام کے سلسلے میں زیرہ شہر گئے جہاں اسی دن جماعت احمدیہ کے جلسہ سیرۃالنبیﷺ کو ناکام کرنے کے لئے مخالفین نے شدید پتھراؤ کیا جس سے حضرت منشی اروڑے خانصاحبؓ بھی زخمی ہوئے۔ اُن کی حالات دیکھ کر چودھری صاحب نے وجہ پوچھی تو حالات معلوم ہونے پر کہنے لگے کہ سچے لوگوں کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔ یہ شخص کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا جو آنحضرت ﷺ کی شان بیان کرے اور لوگ اسے لہولہان کردیں۔ پھر آپ نے اسی وقت کسی تحقیق کے بغیر احمدیت قبول کرلی اور اتنے مخلص احمدی ہوئے کہ اسی دن سے عدالتی اور زمین کے معاملات اپنے بڑے بیٹے کے سپرد کرکے کہا کہ ان کاموں میں کہیں نہ کہیں مبالغہ آرائی سے کام لینا پڑتا ہے اور حضرت صاحب کہتے ہیں ’’جو جھوٹ بولتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں‘‘۔
احمدیہ مسجد آپ کے گھر سے کافی فاصلہ پر تھی لیکن آپ دیگر نمازوں کے علاوہ نماز تہجد بھی مسجد میں جاکر ادا کرتے۔ چندہ باقاعدہ دیتے۔
محترم چودھری محمد شفیع صاحب نے ابتدائی تعلیم تو شہر زیرہ سے حاصل کی۔ پھرM.A. انگریزی تک پاکستان میں تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کا کچھ عرصہ ربوہ میں بھی گزارا جہاں آپ کے ماموں مکرم فتح محمد صاحب رہائش پذیر تھے۔ اور اسی دوران ایک واقعے کے بعد قبول احمدیت کی سعادت بھی حاصل کی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ 1964ء میں آپ کو ایسا بخار آیا جو کسی صورت اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ کوئی دوا اثر نہ کرتی۔ ایک روز خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا جنہوں نے آپ کی کمر پر دو تین بار تھپکی دی اور کہا ’’بیٹے آپ خدا کے فضل سے بالکل ٹھیک ہو جاؤگے، آپ تو بالکل ٹھیک ہو‘‘۔ اس خواب کے بعد بخار نہیں تھا اور نہ دوبارہ ہوا۔ بغیر کسی دوائی کے خداتعالیٰ نے صحت یاب کر دیا۔ آپ نے اسی دن بیعت فارم پُر کردیا۔
آپ کی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ والہانہ وابستگی اور عقیدت آپ کی شخصیت کا روشن پہلو تھی۔ ہر قسم کی پریشانی میں دعا کرکے پُرسکون ہوجاتے اور کہا کرتے کہ جس کا خدا دوست ہو جائے اسے بھلا دنیا کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔
قرآن کریم سے عشق تھا۔ تلاوت کرتے تو رقت طاری ہوجاتی۔ سلسلہ پر تنقید برداشت نہ کرتے۔ کتب حضرت اقدسؑ کا مطالعہ بہت گہرائی سے کرتے۔ دعوت الی اللہ کا بہت زیادہ شوق تھا اور مواقع سے پورا فائدہ اٹھاتے۔
آپ نے قریباً 25سال ہائی ڈویژن میں سینیئر سپرنٹنڈنٹ کے طور پر لاہور میں کام کیا۔ اپنے دفتر میں جب احمدی ہونے کا بتایا تو مخالفت شروع ہوگئی اور برتن بھی علیحدہ کردیا گیا۔ پھردیگر مقامات پر ٹرانسفر ہوتی رہی اور ہر جگہ مخالفت جاری رہی۔ آخر آپ نے تنگ آکر ریٹائرمنٹ لے لی اور معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔ جلد ہی ایک ایسا افسر آیا جس نے آپ کو دفتر بلاکر نہایت احترام سے پرائیویٹ طور پر ملازمت کی پیشکش کی۔ ایسے میں آپ نے اپنا گلاس دفتر میں خود الگ رکھا لیکن دفتر والا گلاس اکثر ٹوٹ جاتا اور دوسرے احباب ہمیشہ آپ کا گلاس مانگ کر پانی پیتے۔
دوسروں کے آرام کا باریکی سے خیال رکھتے۔ گھر کے قریب مسجد تھی۔ نمازی گھر کے سامنے سے گزرتے تھے اس لئے گھر میں فرش نہ دھونے دیتے کہ باہر زمین پر کیچڑ ہوجائے گا اور نمازیوں کو دشواری ہوگی۔ بیٹے کی شادی پر بھی دف بجانے سے منع کردیا تاکہ شور سے مسجد کے احترام میں خلل نہ آئے۔
آپ کو خاندان میں بھی کافی مخالفت کا سامنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹیوں اور تین بیٹوں سے نوازا۔ سب کی تربیت اور شادیاں سلسلہ کی تعلیمات کے مطابق کیں۔ احمدیت کی خاطر ہر طرح کی قربانی کے لئے ہردم تیار رہتے۔
2007ء میں قادیان جانے کی توفیق بھی ملی۔ بتایا کرتے کہ قادیان جاکر ایک احمدی نیا جنم لے کر آتا ہے۔ جماعتی کاموں میں بھی بہت شوق اور لگن سے حصہ لیتے۔ کچھ عرصہ جائیداد کے سیکرٹری رہے۔ سیکرٹری تعلیم القرآن تو وفات تک رہے۔
محترم چودھری صاحب 21؍ اپریل 2008ء کو حسب معمول نماز تہجد اور نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن سے فارغ ہوئے تو اچانک ہارٹ اٹیک ہونے سے وفات پاگئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/GXCC3]

اپنا تبصرہ بھیجیں