محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13 مارچ 2010ء میں مکرم قدیر احمدطاہر صاحب معلم وقف جدید کے قلم سے محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم ڈاکٹر صاحب ہر پہلو سے نافع الناس وجود تھے۔ آپ صوفیاء کی سرزمین یعنی اہالیان سندھ کے لئے ایک تحفۂ خداوندی تھے۔آپ نہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر تھے بلکہ خدمت خلق کرنے والے ایک پُرجوش اور کامیاب داعی الی اللہ بھی تھے۔ آپ نے ایک سادہ سے کلینک سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا اور اپنی زندگی میںہی اس کو ایک بہت بڑے اور جدید ہسپتال کی شکل میں ڈھال لیا جس میں ہر قسم کے جدید آلات اور آپریشن تھیٹر تک موجود ہے۔ (آپ کی وفات تک ہسپتال کی توسیع کا کام جاری رہا۔)
خاکسار ایک دفعہ ایک مریض کو لے کر آپ کے پاس پہنچا، کافی رش تھا خاکسار نے ایک پرچی پر اپنا نام اور آنے کی وجہ لکھ کر آپ کے کمرہ میں بھجوائی تو محترم ڈاکٹر صاحب نے فوراً خاکسار کو مریض کے ساتھ کمرہ میں بلا لیا مکمل چیک اَپ کرنے کے بعد دوائیاں لکھ کر دیں۔ خاکسار نے بتایا کہ یہ غریب آدمی ہے تو اپنے میڈیکل سٹور پر فون کرکے ہمیں کہا جا کر دوائی لے لیں اور پھر خود ہی پوچھنے لگے کہ ان کے پاس کرایہ ہے؟ خاکسار نے اثبات میںجواب دیا تو پھر مطمئن ہو گئے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
محترم چوہدری ناصر احمد واہلہ صاحب امیر ضلع عمرکوٹ نے بتایا کہ ان کے والد صاحب بیمار ہو گئے۔ اُس دن محترم ڈاکٹر صاحب کو جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت کے لئے روانہ ہونا تھا، جب ڈاکٹر صاحب کو بتایا تو کہنے لگے کہ میں نے اڑھائی بجے دوپہر نکلنا ہے اس سے پہلے ان کو لے کر آ جائیں۔ جب ہم مریض کو لے کر پہنچے تو ڈاکٹر صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ والد صاحب کو دیکھ کر ہسپتال فون کیا کہ فلاں فلاں ٹیسٹ کرکے مجھے بتائیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ سفر پر روانہ ہوگئے۔ ہم نے ہسپتال جاکر ٹیسٹ کرائے تو محترم ڈاکٹر صاحب نے ٹرین میں سفر کے دوران فون کرکے ہسپتال کے ڈاکٹرز سے ٹیسٹوں کے متعلق پوچھا اور دوائیں بتائیں اور جلسہ سالانہ کے تینوںدن صبح کے وقت ہمیں اور ڈاکٹر صاحبان کو فون کرکے صورت حال پوچھتے اور ہدایات دیتے رہے۔
اس قسم کے اَن گنت واقعات ہیں کہ آپ اپنے مریضوں کے فون نمبرزا پنی جیب میں ڈالے رکھتے اور ان کے علاج معالجہ کی فکر میں رہتے۔ محترم واہلہ صاحب نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک غیر از جماعت دوست (مجید نامی) کو محترم ڈاکٹر صاحب کے پاس بھجوایا۔ وہ ہارٹ کا مریض تھا اور اس کی اینجیو گرافی ہونی تھی۔ ابتدائی دوائی دینے کے بعد مریض سے کہنے لگے میں ربوہ جا رہا ہوں اگر آپ بھی ربوہ آ جائیں تو میں اپنی نگرانی میں اور کم خرچ پر آپ کا علاج کرا دوں گا۔ وہ مریض جمعہ کے دن دارالضیافت ربوہ پہنچ گیا اور ہفتہ کے دن صبح 7 بجے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ گیا تو وہاں محترم ڈاکٹر صاحب کو اپنا منتظر پایا جنہوں نے نہایت ہی کم خرچ میں اور اپنی نگرانی میں علاج کرایا اور ساتھ ہی ایک مہمان کی زیارت مرکز بھی کرا دی۔
ہمارے پڑوس میں ایک غیر از جماعت سندھی دوست سائیں بخش خاصخیلی رہتے ہیں جو علاج کی غرض سے محترم ڈاکٹر صاحب کے پاس جایا کرتے تھے اور اس طرح ان کی ڈاکٹر صاحب سے ذاتی واقفیت ہو گئی۔ وہ ہارٹ کے مریض تھے۔ایک دن ڈاکٹر صاحب ان کو کہنے لگے کہ اب آپ کا صرف ایک ٹیسٹ رہتا ہے جو کراچی سے ہو گا اور اس ٹیسٹ کی فیس سولہ ہزار روپے ہے اور آپ اگر آج اندراج کروائیںتو ایک ماہ بعد ٹیسٹ کے لئے آپ کی باری آئے گی، آپ اپنا فون نمبر مجھے دے جائیں میں بھی کچھ کوشش کروں گا۔ دوسرے تیسرے دن محترم ڈاکٹر صاحب نے خود مریض کو فون کیا کہ میں نے آپ کے ٹیسٹ کے لئے وقت لے لیا ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر ٹیسٹ ہو جائے گا اور آپ کی فیس بھی کم کرکے 3000 روپے کروادی ہے۔ جب محترم ڈاکٹر صاحب کی شہادت ہوئی تو اس دن یہ شخص بھی اپنے مسیحا کو یاد کرکے رو رہا تھا۔
محترم ڈاکٹر صاحب کا وجود انسانی شکل میں رحمت کا فرشتہ تھا۔ آپ کے چہرہ کی مسکراہٹ ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنا لیتی۔ ایک ہی دفعہ ملنے والا اعلانیہ طور پر اقرار کرتا کہ آپ سب سے زیادہ اُسے پیارکرتے ہیں۔ جسمانی مریض ہوں یا روحانی مریض آپ کی بات سننے کے لئے ہمیشہ بیتاب رہتے۔ جب آپ بولتے تو سامعین انتہائی احترام کے ساتھ ہمہ تن گوش رہتے۔
محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب اکثر فری میڈیکل کیمپس لگایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ جمعہ کے دن عمر کوٹ شہر کے نزدیک ایک گاؤں رئیس امید علی لاشاری کی گوٹھ میں میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ دیگر اضلاع سے بھی ڈاکٹرز بلائے ہوئے تھے۔ میڈیکل کیمپ وڈیرے کے ڈیرہ پر تھا۔ نماز جمعہ کے لئے احمدی ڈاکٹرز تیاری کرکے جب قریبی مسجد میں جانے لگے تو میزبان نے بتایا کہ ہم نے آپ کے لئے نماز جمعہ کا انتظام اپنے گھر میں ہی کیا ہوا ہے حالانکہ میزبان خود احمدی نہیں تھے۔ چنانچہ وہاں کی اکثر آبادی نے محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کی معیت میں نماز جمعہ ادا کی۔ دراصل محترم ڈاکٹر صاحب کے گرویدہ لوگ ہر جگہ ملتے تھے اور اُن کی محبت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ یہ علاقہ احمدیوں کا ہے یا غیروں کا۔
ایک معزز ہندو نے محترم ڈاکٹر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے بڑاجذباتی ہو کر کہا کہ ہم ہندو لوگ دیوتا کی پوجا کرتے ہیں اور ڈاکٹر منان صدیقی ہمارے لئے ’’دیوتا‘‘ کی جگہ پر تھا اور کہنے لگے ہمیں بڑا یقین ہے کہ وہ جنت میں بڑے آرام سے رہ رہے ہیں۔ ایسے مذہب کا آدمی جس کا جنت دوزخ کا تصور بالکل مختلف ہے وہ محترم ڈاکٹر صاحب کو ’’بَلْ اَحْیَاءٌ‘‘کا مصداق قرار دے رہا تھا۔
محترم ڈاکٹر صاحب ہر طبقہ کو دعوت الی اللہ کرتے۔ آپ کے ذریعہ ہزاروں سعید روحوں کو قبول حق کی توفیق ملی۔ ہمیشہ کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ مہمان دوستوں کو زیارتِ مرکز کرائی جائے۔ ایک دفعہ عید کے موقع پر آپ تقریباً 15مہمان دوستوں کے وفد کو لے کر ربوہ پہنچے۔ عید کا موقع ایسا ہوتاہے کہ ہر آدمی اپنے بیوی بچوں میں یہ خوشی کے لمحات گزارنے کی جستجو کرتا ہے مگر محترم ڈاکٹر صاحب کی حقیقی خوشی یہی تھی کہ ان روحانی بیماروں کی شفایابی کے لئے کچھ کیا جائے۔ واپسی پر آپ بڑے خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عید کی چھٹیوں میں بھی دعوت الی اللہ اور پیغام حق پہنچانے کا انتظام کر دیا ۔ آپ چونکہ امیر ضلع بھی تھے آپ کی ہر میٹنگ دعوت الی اللہ سے شروع ہوتی اور دعوت الی اللہ پر ہی اختتام پذیر ہوتی۔
محترم ڈاکٹر صاحب کا خلافت کے ساتھ ایک قابل رشک اور قابل تقلید تعلق تھا۔ اپنے پیارے امام کی ہر آواز پر لبیک کہتے۔ اگر کسی میٹنگ یا موقع پر یہ بات ہوتی کہ یہ کام مشکل ہے تو فو راً کہتے کہ جب امام وقت نے کہہ دیا ہے توپھر اس میں مشکل کیسی؟ اور فرماتے کہ یہ کام ہو کر ہی رہے گا۔ آپ کی زندگی کا مطمح نظر یہی تھا کہ ’’سب سے پہلے احمدیت‘‘۔ ایک دفعہ عید کے موقع پر آپ ایک غیر از جماعت دوست کو عید ملنے گئے جو ایک بہت بڑے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ آپ نے اسے عید کے تحفہ کے طور پر جماعتی CD پیش کی اور پیغام حق پہنچایا۔
احمدی طلباء میں علمی ذوق پورا کرنے کے لئے آپ نے اپنے والد محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب سے منسوب ایک تعلیمی ایوارڈ بھی شروع کیا ہوا تھا جس میں پوزیشن ہولڈرز احمدی طلباء و طالبات کو سند امتیاز، شیلڈ اور نقد انعامات دیتے۔
ہمیشہ آپ کو فکر ہوتی کہ ضلع کی تمام جماعتوں کے چندہ جات وقت پر سو فیصد ادا ہوں۔ خصوصاً تحریک جدید اور وقف جدید کے بارے میں آپ بہت کوشش اور محنت کرتے۔ آپ ذاتی طور پر بھی صف اوّل کے بہترین مجاہدین میں سے تھے اور احباب جماعت کو بھی ہمیشہ تحریک جاری رکھتے۔ آپ نے ایک دفعہ ایک میٹنگ میں اظہار فرمایا کہ ہمارا ضلع تحریک جدید میں پہلے ایک دو نمبروں پر آ جائے۔ جبکہ اوّلین دس اضلاع میں تو تقریباً یہ ضلع ہمیشہ ہی رہتا تھا۔ خداتعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کی تکمیل کے سامان بھی اس طرح پیدا کردیئے کہ تحریک جدید کے سال 2007-2008ء میں جب کہ آپ کی قربانی کو چند ہفتے ہی ہوئے تھے۔ تو اس وقت ضلع میرپور خاص کی دوسری پوزیشن تھی۔ اس وقت اس بات کا بہت چرچا ہوا کہ محترم ڈاکٹر صاحب کی کوششیں آپ کی قربانی کے بعد بھی اپنی تاثیرات دکھلا رہی ہیں اور من حیث الجماعت ضلع بھر کے احمدی محترم ڈاکٹر صاحب کی بلندیٔ درجات کے لئے تہہ دل سے دعائیں کر رہے تھے۔
ان تمام تر خوبیوں اور نمایاں اخلاق کے ساتھ ساتھ محترم ڈاکٹر صاحب ایک اچھے مہمان نواز بھی تھے۔ بڑی بڑی دعوتیں کرتے، علاقے کی نمایاں اور اہم شخصیات کو بلاتے اور پیغام حق پہنچاتے۔ رمضان المبارک میں افطار ڈنر کے طور پر اور پھر عید کے موقع پر بھی بہت اچھی دعوت کا اہتمام کرتے۔ ہر واقف زندگی کو دعوت پر بلانے والوں میں سرفہرست رکھتے۔
آپ کے بارے میں علاقہ بھر کے لوگ برملا اظہار کرتے ہیں کہ ایسا انسان صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پیاروں میں مقام عطا فرمائے۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LRDaU]

اپنا تبصرہ بھیجیں