مرد اور عورت کی حسیات میں فرق کی وجہ – جدید تحقیق کی روشنی میں

مرد اور عورت کی حسیات میں فرق کی وجہ – جدید تحقیق کی روشنی میں
(ناصر محمود پاشا)

قبل ازیں یونیورسٹی کالج آف لندن میں مکمل کی جانے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی درد کو محسوس کرنے کی حس کم ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ایسے بچے، ادھیڑ عمر میں پہنچنے کے بعد، جسم کو سردی یا گرمی لگنے کی حس سے محروم ہوکر مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ایسی ہی ایک دلچسپ رپورٹ جو جریدے ’’نیوروسائنس‘‘ میں شائع ہوئی ہے- اس میں بیان شدہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی انگلیاں عام طور پر سائز میں مردوں سے چھوٹی ہوتی ہیں لیکن چھونے کی صلاحیت زیادہ رکھتی ہیں۔ کینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں نابینا افراد پر یہ تحقیق کی جاری تھی کہ بصارت سے محرومی کی وجہ سے اُن کی انگلیوں میں چھوکر محسوس کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ اِس تحقیق کے دوران ماہرین نے نابینا خواتین کی انگلیوں میں محسوس کرنے کی حِس نابینا مردوں کی نسبت دس فیصد زیادہ دیکھی تو مزید تحقیق سے معلوم کیا کہ یہی فرق بینا افراد میں بھی موجود ہوتا ہے۔
یہ تجربات کرنے والے ماہر گولڈرِک کا کہنا ہے کہ چھونے کا احساس انگلیوں کی جلد کے نیچے موجود مخصوص نسوں کے ذریعے دماغ کو منتقل ہوتا ہے اور انگلیوں کی لمبائی خواہ کچھ بھی ہو، اُن میں چھو کر محسوس کرنے والے اعصاب کی تعداد تقریباً برابر ہوتی ہے۔ چنانچہ انگلی چھوٹی ہونے کی صورت میں یہ اعصاب ایک دوسرے کے زیادہ قریب واقع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی چھوکر محسوس کرنے کی حِس نمایاں زیادہ ہوتی ہے جو عمر بڑھنے اور انگلیوں کے سائز میں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/fXpmm]

مرد اور عورت کی حسیات میں فرق کی وجہ – جدید تحقیق کی روشنی میں” ایک تبصرہ


    Warning: Use of undefined constant qalam_comment - assumed 'qalam_comment' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /homepages/34/d544898200/htdocs/clickandbuilds/KhadimeMasroor/wp-content/themes/qalam/comments.php on line 51
  1. فائزہ رفعت نے کہا:

    چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے، جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔ یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ چیونٹیاں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ یا ایک کروڑ تیس لاکھ سال قبل بھڑ نما اجداد سے تعلق رکھتی ہیں اور آج ان کی 12،000 (بارہ ہزار) سے زائد اقسام موجود ہیں۔ چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہے۔
    چیونٹی اپنے وزن سے 50 (پچاس) گنا زیادہ وزن اٹھا سکتی ہے اور 30 (تیس) گنا زیادہ وزن کھینچ سکتی ہے، اور ان کی بعض نسلیں خود سے سو گنا زیادہ وزن اٹھانے کی سکت رکھتی ہیں۔

    0

اپنا تبصرہ بھیجیں