مسیح موعودؑ کے زمانہ میں طاعون سے متعلق پیشگوئی کا ظہور

انجیل کے مطابق حضرت عیسیٰؑ نے واقعہ صلیب سے قبل آخری وعظ میں اپنی آمدِ ثانی کی یہ علامات بیان فرمائیں کہ اس زمانہ میں قحط پڑیں گے ، زلزلے آئیں گے، خوفناک بین الاقوامی جنگیں ہوں گی۔ سورج، چاند اور ستاروں میں نشانات ظاہر ہوں گے۔ اور یہ بھی کہ وبائیں پھیلیں گی۔ پھر یہ لطیف تمثیل بیان فرمائی کہ جب انجیر کے درخت پر کونپلیں نکلتی ہیں تو تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔ اسی طرح جب تم ان باتوں کو ہوتا دیکھو تو سمجھ لینا کہ خدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔
چنانچہ مذکورہ بالا امور حضرت مسیح موعود ؑکی آمد پر نشان بن کر ظاہر ہوئے۔ آپؑ کی زندگی میں ہندوستان میں قحط پڑا۔ آپؑ کی پیشگوئی کے مطابق کرناٹک وغیرہ میں زلزلے آئے۔ خوفناک عالمی تباہی کی پیشگوئی جنگ عظیم کی صورت میں پوری ہوئی۔ آپؑ کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے سورج اور چاند کو گرہن لگا۔ اس طرح آپؑ نے پنجاب میں خوفناک طاعون پھیلنے کی پیشگوئی اُس وقت شائع فرمائی جب اس وبا کے کوئی آثار نہ تھے۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍اگست 2004ء میں مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب کے قلم سے حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی بابت طاعون کے مختلف پہلوؤں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
طاعون ایک خطرناک جرثومے Yersinia Pestisکے حملے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا دودھ پلانے والے جانوروں اور چوہوں کو بھی اپنا نشانہ بنا سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ طاعون تین قسم کی ہے۔ ایک خفیف جس میں صرف گلٹی نکلتی ہے اور تپ نہیں ہوتا۔ دوسری اس سے تیز کہ اس میں گلٹی کے ساتھ تپ بھی ہوتا ہے۔ تیسری سب سے تیز، اس میں تپ نہ گلٹی بس آدمی سویا اور مر گیا۔ ہندوستان میں دیہات میں ایسا ہی ہوا ہے۔
مذاہب کی تاریخ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے طور پر کئی بار طاعون کے پھیلنے کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلی اقوام پر بھیجا گیا۔ جب تم سنو کہ کسی جگہ پر طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب تم کسی جگہ پر ہو اور وہاں پر طاعون ہو جائے تو وہاں سے فرار مت ہو۔
مصر سے ارض مقدس ہجرت کرتے ہوئے جب بنی اسرائیل نے ’’من‘‘ کے ملنے کے بعد بھی گوشت نہ ملنے کا رونا رویا تو خدا تعالیٰ نے اُن کی طرف بٹیر بھیجے جنہیں انہوں نے کھانا شروع کیا ہی تھا کہ خدا کا قہر ان پر بھڑکا اور ان میں سخت وبا پھیل گئی۔ ان مرنے والوں کی قبریں ’’قبروت ہتاوہ‘‘ کے مقام پر بنائی گئیں جس کا مطلب ہے: ’’حرص کی قبریں‘‘۔ پھر بنی اسرائیل نے موآبیوں کے علاقہ میں پڑاؤ کیا تو ان میں سے بہت سے بدکاریوں میں مبتلا ہوگئے اور اس کے علاوہ ایک دیوتا بعل فغور کی پرستش بھی کرنے لگ گئے۔ اس کی پاداش میں بھی ان میں وبا پھیل گئی تھی جس کے متعلق محققین کی رائے ہے کہ یہ طاعون تھی۔ اس کے علاوہ
حضرت داؤد ؑ کے عہد میں بھی مختصر مدت کے لئے بنی اسرائیل میں طاعون بھیجی گئی تھی جس سے ستر ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
بائبل کے مطابق بنی اسرائیل کی دشمن افواج میں طاعون بطور سزا کے بھی پھیلی۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ کے بعد اور حضرت داؤد ؑ سے قبل بنی اسرائیل کی فلستیوں سے جنگ ہوئی اور بنی اسرائیل کو شکست ہو گئی تو وہ مقدس صندوق جس میں بنی اسرائیل کے مقدس صحائف تھے، فلستیوں نے چھین کر اپنے
بت خانے میں رکھ دیا۔ اس کی پاداش میں طاعون فلستیوں میں پھیل گئی جس نے اس وقت تک اُن کی جان نہیں چھوڑی جب تک فلستیوں نے یہ مقدس صندوق خود بنی اسرائیل کے حوالے نہیں کر دیا۔
پھر حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے عہد کے بعد یہوواہ کے بادشاہ حزقیاہ کے زمانہ میں اسور (Assyria) کے بادشاہ سخرب نے یہوواہ پر دھاوا بولا تو یہوواہ کے لوگوں کو پیغام بھجوایا کہ اب تک ہم نے جن ممالک پر قبضہ کیا ہے ان کے خداؤں نے ان کو کون سا بچا لیا ہے جو تمہارا خدا تمہیں بچا لے گا۔ یہوواہ کے بادشاہ اور اس وقت کے نبی دونوں نے خدا کے حضور فریاد کی تو اُسی رات کو خدا کے فرشتے نے اسور کے لشکر کو ہلاک کرنا شروع کر دیا اور شاہِ اسور کو واپس جانا پڑا۔ کچھ عرصہ کے بعد اپنے وطن میں اُس کے بیٹے نے ہی اُسے ہلاک کردیا۔ مؤرخ ہیروڈوٹس کے مطابق اسوری لشکر پر چوہوں نے حملہ کر دیا تھا۔ طاعون چوہوں کے ذریعہ پھیلتی ہے۔ اس لئے خیال ہے کہ سخرب کے لشکر میں طاعون نے تباہ کاری مچائی تھی۔
دنیاوی تاریخ میں بھی طاعون کا نمایاں ذکر ملتا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں طاعون کی ایک خوفناک وبا افریقہ یا وسطی ایشیا سے پھیلنی شروع ہوئی جو 542ء تک مصر تک پہنچ گئی۔ پھر دریائے نیل کے ساتھ بڑھتے بڑھتے اسکندریہ پہنچی جہاں سے بحری مسافروں کے ذریعہ جراثیم قسطنطنیہ تک پہنچے۔
چین میں 610ء میں طاعون کا آغاز ہوا اور پھر یورپ بھی اس کی زَد میں آگیا۔ بعض ممالک میں ایک تہائی سے زائد آبادی اس کا شکار ہوگئی۔ دنیا بھر کا اقتصادی نظام درہم برہم ہو گیا اور تاریکی کے ایک نئے دَور کا آغازہوا۔ 640ء تک طاعون کی اس عالمی وبا کا سلسلہ مختلف ممالک میں گردش کرتا رہا کیونکہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں شام اور عراق کے علاقوں میں طاعون کی شدید وبا پھیلی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ شام کی افواج کے سالار تھے اور حضرت عمرؓ بہت سے اکابر صحابہؓ کے ہمراہ شام کے دورہ پر تشریف لے جارہے تھے۔ جب آپؓ حجاز اور شام کی سرحد پر سرغ کے مقام پر پہنچے تو طاعون پھیلنے کی خبر ملی۔ بہت سے مشوروں اور اختلاف رائے کے بعد حضرت عمرؓ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ نیز ارشاد فرمایا کہ مسلمان افواج نشیبی اور مرطوب جگہ سے نقل مکانی کرکے بلند اور صحت افزا مقام پر پڑاؤ کریں۔ اس حکمت عملی سے طاعون ختم ہونی شروع ہوئی۔ لیکن اس وبا میں حضرت ابوعبیدہ ؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ شہید ہو گئے۔
1347ء میں ایشیا سے پھر طاعون کی عالمی وبا کا آغاز ہوا۔ بحری جہازوں کے وسیلے سے اس وبا نے اٹلی کے ساحلی شہروں میں قدم رکھا اور تجارتی راستوں پر پھیلتے پھیلتے ایک سال کے اندر ہی انگلستان پہنچ گئی۔ متاثرہ علاقوں میں بیس سے چالیس فیصد آبادی موت کے منہ میں چلی گئی۔ ساڑھے تین کروڑ افراد ہلاک ہوئے اور دنیا کا اقتصادی ڈھانچہ ایک بار پھر تباہ ہونے لگا۔
پھر 1665ء میں لندن میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ جس گھر میں کوئی طاعون کا مریض ہوتا اس کے دروازہ پر سرخ گلاب بنا کر یہ الفاظ لکھ دئیے جاتے کہ ’’خدا ہم پر رحم کرے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہوتا کہ گھر کے افراد باہر قدم نہیں نکال سکتے۔ گاہے بگاہے گھروں سے چیخ وپکار کی آواز اٹھتی کہ ہمارے مُردے کو باہر نکالو اور ایک سرکاری گاڑی مردے جمع کر کے ایک بڑے گڑھے میں پھینک آتی۔ لندن کی پندرہ فیصد آبادی طاعون کا شکار ہوگئی۔ اس وقت لندن کی آبادی صرف 93؍ہزار تھی۔ اتفاق سے ایک رات بادشاہ کا بیکر سوتے وقت آگ بجھانا بھول گیا تو چند گھنٹوں میں آگ تیزی سے بھڑک اٹھی اور پانچ روز کے اندر اندر شہر کا اکثر حصہ نذر آتش ہوگیا۔ لیکن آگ کے ساتھ اکثر چوہے بھی مر گئے اور طاعون کا زور یکلخت ختم ہو گیا۔
اب تک طاعون کی آخری عالمی وبا حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں پھیلی ہے۔ اس کا آغازچین کے صوبہ یونان سے ہوا۔ 1894ء میں یہ بحری جہازوں کے ذریعہ ہانگ کانگ پہنچ گئی۔ ابھی تک یہ دریافت نہ ہوا تھا کہ اس کے جراثیم کونسے ہیں اور یہ کیسے پھیلتی ہے۔ چنانچہ گورنمنٹ سول ہسپتال کے انچارج نے جاپانی سائنسدان Kitasato کو ہانگ کانگ بلایا اور Colonial Health Service نے سوئس ڈاکٹر Alexaner Yersin کو ہانگ کانگ بھجوایا۔ دونوں نے تقریباً ایک ساتھ ہی اس کا جرثومہ دریافت کیا جس کا نام Pasteurala Pestis رکھا گیا لیکن بعد میں اسے دریافت کرنے والے کے نام پر Yersinia pestis رکھ دیا گیا۔
ستمبر 1896ء میں ہندوستان کے ساحلی شہر بمبئی میں طاعون پہنچی تو انگریز حکمرانوں پر دباؤ بڑھنے لگا کہ اس وبا پر قابو پایا جائے۔ دیگر ممالک نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ہندوستان پر تجارتی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ 1896ء میں بمبئی میں طاعون سے 2219؍اموات رجسٹرڈ کی گئیں۔ دوسری طرف جاپان، فلپائن اور امریکہ کے ساحلی علاقوں میں بھی طاعون پہنچ گئی۔ البتہ ہندوستان میں حکومتی مشینری تیزی سے حرکت میں آئی۔ جس گھر میں طاعون کا مریض ہوتا اس کا فرش اکھیڑ کر اس میں فینائل ڈال دیا جاتا، دیواروں پر چونا پھیر دیتے اور چھت میں سوراخ کر دیتے تا کہ کمرے ہوادار ہو جائیں۔ اور تو اور گھر کا سازو سامان بھی نذر آتش کر دیا جاتا۔ سمندری پانی سے نالیوں کو دیوانہ وار دھونے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس طرح طاعون رُک نہیں سکتا تھا۔ پھر ریلوے اسٹیشنوں پر تیسرے درجہ کے مسافروں کا معائنہ شروع کروادیا گیا۔ اس پر لوگ حکومت کے خلاف بھی بھڑک اٹھے اور آبادی کا ایک بڑا حصہ طاعون کی دہشت اور حکومتی اقدامات سے خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگا۔
7؍اکتوبر 1896ء کو روس میں پیدا ہونے والے یہودی النسل سائنسدان Weladmer Haffkine کو کلکتہ سے بمبئی طلب کیا گیا۔ تین سال قبل وہ ہیضہ کی وبا پھیلنے پر اس سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ ایجاد کرچکے تھے۔ اس بار گرانٹ میڈیکل کالج میں ایک لیبارٹری قائم کرکے کام شروع کیا گیا۔ پہلے طاعون کے بیکٹیریا کی خاطر خواہ مقدار کی پرورش کرکے اسے 70سینٹی گریڈ پر گرم کر کے ہلاک کیا گیا اور یہ مواد ٹیکے میں استعمال کیا گیا۔ ابتدائی تجربات کے بعد 10؍جنوری 1897ء کو طاعون سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ تیار کر لیا گیا۔ ہیفکائن نے لوگوںکی موجودگی میں پہلا ٹیکہ اپنے آپ کو لگایا تاکہ اس کو محفوظ سمجھا جائے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ چند ہفتوں کے بعد جب ایک جیل میں طاعون پھیلنی شروع ہوئی تو وہاں پر اس ٹیکہ کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا اور ٹیکہ لگوانے والوں میں کسی شخص کی طاعون سے موت نہیں ہوئی۔
4؍فروری 1897ء کو ہندوستان میں حکومت نے وبائی امراض کا قانون بنایا جس میں صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے بہت سے اختیارات دئیے گئے۔ اس سال بھی طاعون زیادہ تر بمبئی تک محدود رہی جہاں پر 47710؍افراد کی موت ہوئی۔ یوپی، مدراس اور پنجاب میں محدود پیمانے پر لوگ طاعون سے متاثر ہوئے۔ تاہم حفاظتی ٹیکہ کی وجہ سے اس بات کے واضح آثار نظر آرہے تھے کہ وبا کو کامیابی سے روک لیا جائے گا۔ مگر 6؍فروری 1898ء کو حضرت مسیح موعود ؑ نے ’’طاعون‘‘ کے نام سے ایک اشتہار میں فرمایا: ’’ایک اور ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے … خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اورچھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔…‘‘
اس اشتہار میں آپ ؑنے فرمایا کہ لوگ گورنمنٹ کے حفاظتی اقدامات پر خوامخواہ بدظنی نہ کریں بلکہ حکومت سے تعاون کریں۔ نیز گورنمنٹ کو بھی توجہ دلائی کہ ان اقدامات کو عملی جامہ پہناتے وقت پردہ کا خیال رکھا جائے اور رعب کی بجائے خوش اخلاقی سے ان اقدامات کی افادیت سمجھائیں۔
اس اشتہار میں یہ پیشگوئی بھی فرمائی گئی تھی کہ پنجاب میں عنقریب طاعون پھیلے گی۔ زیادہ سے زیادہ دو سال میں اس کا آغاز ہو جائے گا۔ نیز بہت سے مقامات پر پھیلے گی اور نہایت خوفناک ہوگی۔
جب یہ اشتہار شائع کیا گیا تو اُس وقت تک ہندوستان میں طاعون سے جو اموات ہوئی تھیں ان میں سے 99%صرف بمبئی میں ہوئی تھیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ 15؍اکتوبر 1897ء کو ضلع جالندھر میں کھٹکار کلاں کے گاؤں میں طاعون نمودار ہوئی تھی اور اس پیشگوئی کے وقت تک صرف ضلع جالندھر اور ہو شیار پور کے چند دیہات میں طاعون پہنچی تھی۔ 1897ء میں پنجاب میں صرف 197؍ افراد اس سے ہلاک ہوئے۔ لیکن پیشگوئی شائع ہونے کے بعد جلد ہی طاعون نے پنجاب میں پھیلنا شروع کیا اور 1898ء میں 2019؍ افراد اس سے ہلاک ہوئے۔ پھر اس کی شدت میں کمی آگئی اور 1899ء میں 255؍افراد اور 1900ء میں 575؍افراد کی طاعون سے موت رجسٹرڈ کی گئی۔ تاہم بمبئی اور بنگال میں اس نے بہت زور پکڑا۔
1901ء میں بمبئی میں ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جبکہ پنجاب میں14959؍ افراد اس کا شکار ہوئے۔ جون 1902ء میں حکومت نے پنجاب میں وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹیکے لگانے کا اعلان کیا تو کچھ عرصہ بعدحضرت مسیح موعود ؑ نے ’’کشتی نوح‘‘ میں اعلان فرمایا کہ ’’سو اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہوجائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے‘‘۔ نیز فرمایا کہ قادیان میں سخت بربادی افگن طاعون نہیں آئے گی۔ اور یہ بھی کہ چونکہ آپ اور آپ کی جماعت کی نسبت خدا تعالیٰ خود حفاظت کا وعدہ فرماچکا ہے اس لئے آپکی جماعت تو طاعون کا حفاظتی ٹیکہ لگوائے گی لیکن آپؑ ایسا نہیں کریں گے۔ آپؑ نے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرکے فرمایا کہ اگر آسمانی روک نہ ہوتی تو آپؑ خود سب سے پہلے ٹیکہ کراتے۔
کشتی نوح کی اشاعت کے صرف ایک ماہ کے بعد حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے اس مہم کو ہلا کر رکھ دیا۔ پنجاب کے ایک گاؤں ملکوال میں طاعون کے ٹیکے لگائے گئے لیکن چار پانچ روز بعد اُن میں سے انیس افراد کو تشنج کی علامات شروع ہوئیںاور چند روز میں یہ افراد طاعون سے ہلاک ہوگئے۔ اس پر پورے ملک میں شور مچ گیا۔ حکومت نے تحقیق کرائی اور بعض شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے بمبئی کی لیبارٹری کو قصوروار ٹھہرایا جس کے انچارج ہیفکائن تھے چنانچہ انہیں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونا پڑا۔ اگرچہ اُن کے نزدیک قصور ملکوال میں ٹیکے لگانے والی ٹیم کا تھا۔ مگر ان کی بریت اس وقت تک نہ ہوسکی جب تک انگلستان کے لیسٹر انسٹیٹیوٹ نے 1907ء میں تحقیق کرکے انہیں بری الذمہ قرار نہیں دے دیا۔
1902ء میں پنجاب میں ایک لاکھ 71؍ہزار سے زائد افراد طاعون سے مرگئے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود پنجاب میں اس وبا کی آگ پوری شدت سے بھڑک اٹھی۔ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بھی اموات میں حیران کن اضافہ ہوگیا۔ یوپی میں 40؍ ہزار، بنگال میں 32؍ ہزار اور مدراس میں دس ہزار سے زائد افراد اس کا شکار ہوئے۔ بمبئی میں تباہ کاری ایک لاکھ 84ہزار 752؍اموات کے ساتھ ابھی تک سب سے آگے تھی۔
1903ء میں پنجاب میں طاعون سے اموات دو لاکھ پانچ ہزار ہو گئیں۔ کئی گاؤں مکمل طور پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ بعض دفعہ کوئی دفنانے والا بھی میسر نہ ہوتا۔ پنجاب میں اس وبا کو روکنے کے لئے تمام سائنسی کوششیں ناکام ہوگئیں۔اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ پوری دنیا میں پنجاب نے اس وبا سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔ چنانچہ 1904ء میں پنجاب میں 3لاکھ 96ہزار 357؍ افراد طاعون سے ہلاک ہوئے۔ اب لوگوں کو حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی اور انذار سورج کی طرح روشن نظر آنے لگا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے خائف ہو کر غیر معمولی تعداد میں لوگ حلقہ بیعت میں داخل ہوئے۔
1898ء میں شروع ہونے والی اس وبا سے 1913ء میں دنیا کو نجات ملی۔اس دوران پنجاب میں 22لاکھ 50ہزار سے زیادہ شہری طاعون کے ہاتھوں موت کے منہ میں پہنچے۔ اس کے بعد یوپی اور پھر بمبئی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
حضرت علیؓ سے روایت منقول ہے کہ آنے والے موعود قائم کے دونشان ہوں گے۔ ایک سرخ نشان یعنی تلوار کا نشان ہوگا۔ یہ جنگوں کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا سفید نشان یعنی طاعون کا ہ گا۔ اس روایت میں ایک اور علامت بھی بیان کی گئی ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کی زندگی میں ٹڈی دل (Locusts) کا ایک حملہ ہو گا اور اس کے بعد ایک اور ٹڈی دل کا حملہ ہو گا جو سرخ رنگ کی ہوں گی۔
اس سے مراد عام ٹڈی دل کے حملے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ عام حملے تو ہوتے رہتے ہیں۔تاریخ میں ٹڈی دل کے بہت سے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن جس حملے کے متعلق یہ تخمینہ ہے کہ وہ معلوم تاریخ میں سب سے بڑا تھا وہ 1889ء میں ہوا تھا یعنی جس سال جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ جب ٹڈی دل کا یہ عظیم الشان حملہ بحیرہ احمر پر سے گزرا تو اندازاً پانچ ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں 250؍ارب ٹڈیاں شامل تھیں۔ جہاں تک سرخ ٹڈی کا تعلق ہے تو یہ Red Locust کہلاتا ہے اور سائنسی زبان میں اسے Namadacris Septemfasciata کہتے ہیں۔ اس کے حملے زیادہ تر افریقہ میں ہوتے ہیں۔ اس کے پر سرخ اور جسم براؤن یا بادامی رنگ کا ہوتا ہے۔ معلوم تاریخ میں اس کا سب سے بڑا حملہ حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کے بعد 1927ء سے 1929ء میں شروع ہوا تھا اور پھر اس نے براعظم افریقہ کے جنوبی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ان حملوں کی رَو 1940ء تک جاری رہی تھی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ACxHq]

اپنا تبصرہ بھیجیں