مکرم محمود احمد شاد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29 جنوری 2011ء میں مکرمہ بشریٰ سعید صا حبہ نے اپنے بھائی مکرم محمود احمد شاد صاحب شہید (مربی سلسلہ) کا ذکرخیر کیا ہے۔
مکرمہ بشریٰ سعید صاحبہ لکھتی ہیں کہ ہمارے پورے خاندان میں سے صرف والد محترم چوہدری غلام احمد صاحب اور دادا چوہدری فضل داد صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ ابا جان شروع میں مخالف تھے لیکن کتاب ’’تبلیغ ہدایت‘‘ پڑھنے کے بعد فوراً بیعت کرلی۔ بہت متقی، نیک اور دعا گو انسان تھے۔ سلسلہ کے فدائی تھے اور خلافت احمدیہ سے والہانہ عشق تھا۔ خلیفۂ وقت کی خدمت میں باقاعدگی سے خط لکھتے۔ آخری عمر میں کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر خط نہیں لکھ سکتے تھے۔ ایک دن لیٹے لیٹے کاغذ کے اوپر حضور کا نام اور السلام علیکم لکھ کر ارسال کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو یہ ادا بہت پسند آئی اور خط کا بڑا پیارا جواب دیا۔
ابا جان کو اپنے بچوں کی تربیت کی بہت فکر تھی اور اس مقصد کے لئے دعا کرنے کے علاوہ اپنی سب زمینیں اور جائیداد چھوڑ کر ہمیں ربوہ میں آباد کیا۔ بھائی جان کو بھی پیدائش سے پہلے ہی وقف کر دیا تھا۔ بھائی جان کی ذاتی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن ابا جان نے کہا کہ میں نے اور تو کوئی جائیداد بنائی نہیں ہاں یہ سلسلہ کی کتب ہیں جو آپ کے لئے خزانہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیں۔ چنانچہ والد صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے جامعہ احمدیہ میں داخل ہو کر زندگی وقف کر دی اور پھر اس کو خوب نبھایا۔
ہمارے گھر کا ماحول بہت دینی تھا اور ابا جان اور بھائی جان اکثر مذہبی گفتگو کرتے رہتے تھے۔ دونوں ہی سلسلہ کے اور خلافت کے شیدائی تھے۔ گھرمیں اکثر حضور کے خطبات یا نظم اور تلاوت کی کیسٹ لگی رہتی۔
بھائی جان نیک سیرت اور نیک صورت انسان تھے۔ زندہ دل اور نرم مزاج تھے۔ ہمیشہ مسکراتے چہرے سے ہر ایک سے ملتے تھے۔ ہم چھ بہنوں کے ایک ہی بھائی تھے۔ لیکن گھر میں ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں تھا۔ سب بہن بھائی برابر تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی بچپن میں ہمارا کوئی جھگڑا ہوا ہو۔ میں نے بہت کم بھائی جان کو غصے میں دیکھا ہے۔ چھوٹی بہنوں کو بھی ہمیشہ آپ یا تُسی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ہماری امی جان کو تقریباً پچا س سال کی عمر میں فالج کا اٹیک ہوا۔ بھائی جان اس وقت جامعہ احمدیہ کی غالباً ابتدائی کلاسوں میں تھے۔ امی جان کی حالت بہت نازک تھی۔ ڈاکٹروں نے تقریباً جواب دے دیا تھا۔ ایک دن بھائی جان نے گھر میں ہم سب کو بڑی پُررقّت اور دردناک کیفیت میں نماز باجماعت پڑھائی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد امی جان کو گیارہ سال تک زندگی دی اور چھڑی کے سہارے تھوڑا بہت چلنے کے قابل بھی ہو گئی تھیں۔
ابھی بھائی جان کی شادی نہیں ہوئی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ہاں پوتا پیدا ہوا۔ امی جان ہسپتال میں داخل تھیں۔ حضورؒ ہسپتال تشریف لائے تو امی جان کی عیادت کے لئے بھی کمرہ میں آئے۔ امی جان نیم بیہوشی کی حالت میں کہنے لگیں کہ میرا پوتا کہاں ہے؟ پھر حضورؒ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی اتنی بڑھادی کہ بھائی جان کی شادی بھی کی اور اپنا پوتا بھی دیکھ لیا۔
بھائی جان نے بڑی مجاہدانہ زندگی گزاری اور والدین کی خوب خدمت کی۔ امی جان کی بیماری اور اباجان کے بڑھاپے میں اپنی بہنوں کے سارے فرائض ادا کئے اور شادیاں بھی کیں۔ والدین کی وفات کے بعد بھی اپنے سارے فرائض ادا کئے۔ ہم سب بہنوں کا خوب خیال رکھتے تھے۔ سارے رشتوں کو خوب نبھایا۔ غیراحمدی رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تبلیغ کیا کرتے تھے۔ حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ شہادت سے کچھ عرصہ ایک غیر از جماعت دوست کو اس قدر پُر زور دلائل سے جماعت کی صداقت ثابت کی کہ وہ کہنے لگے کہ اب میرے لئے فرار کی کوئی جگہ باقی نہیں اور وہ احمدی ہوگئے۔
تنزانیہ میں گیارہ سال خدمت کا موقع ملا۔ وہاں بھی مناظرے وغیرہ ہوتے رہے۔ ایک سال بھائی جان کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے نمایاں کارکردگی پر خوشنودی کا اظہار کرتے تبرکا ً اپنی پگڑی تحفۃً بھجوائی۔
آپ کے 2بیٹے ہیں۔ سعود احمد واقف نَو جو چین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور چھوٹا نوید احمد ہے۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری نہ ہوسکنے پر اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ کیا اور بڑے شوق اور محنت سے اس کو چین میں داخل کروایا۔
جب پہلی دفعہ دھمکی کا فون آیا تھا تو بھائی جان نے اپنے اہل و عیال سے کہا کہ میں نے دعا کی ہے اے اللہ اگر تو نے مجھ سے قربانی لینی ہے تو میں حاضر ہوں۔ لیکن میرے بعد میری اولاد کو خلافت سے وابستہ رکھنا اور ان دو مہینوں میں انہوں نے اپنی بیوی بچوں کو شہادت کی خبر اور تسلیم و رضا کے لئے تیار کر دیا تھا۔ جب دھمکیوں کے فون آتے تھے تو ہم بہنیں بھی بہت پریشان تھیں۔ میں اکثرفون کرتی تھی۔ وہ ہمیں تسلی دیتے تھے اور کہتے تھے کہ دعا کرو لیکن پریشان نہیں ہونا۔ میں نے ایک دن بھائی جان سے کہا کہ آپ کچھ دنوں کے لئے ربوہ آ جائیں تو کہنے لگے کہ کیوں باقی احمدی قربانیاں کرتے ہیں تو کیا ہم نہیں کرسکتے۔ اُن کا جذبہ بہت سچا تھا جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا۔ مَیں نے اُن کی شہادت کے بعد خواب میں دیکھا کہ دُور دُور تک سبزہ ہی سبزہ ہے اور سایہ دار درخت ہیں ۔ ان کے درمیان ایک اونچی سی کرسی یا کوئی سیٹ ہے جس پر میرے شہید بھائی سفید لباس میں ملبوس بیٹھے ہیں اور مَیں خواب میں کہتی ہوں کہ بھائی جان کتنی اونچی جگہ پر بیٹھے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں