مکرم چودھری محمد دین مجاہد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20جولائی 2011ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم شہزاد قمر الدین مبشر صاحب نے اپنے والد محترم چودھری محمد دین مجاہد صاحب (آف ٹوبہ ٹیک سنگھ) کا ذکرخیر کیا ہے۔
محترم چودھری محمد دین مجاہد صاحب نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ربوہ میں مختلف جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔ سیکرٹری مال اور سیکرٹری دعوت الی اللہ کے علاوہ صدرانجمن احمدیہ ربوہ میں نائب مختار عام بھی رہے۔ خلافت کے ساتھ گہری عقیدت اور محبت تھی۔ خدمت خلق اور رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ تہجّد گزار اور بہت دعاگو تھے۔ آپ نے ’’ہم اور احمدیت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر اس کا مسودہ خلافت لائبریری میں رکھوایا ہوا ہے جس میں آپ کے خاندان میں احمدیت کے نفوذ کی تفصیل کا بیان ہے۔
محترم چودھری محمد دین مجاہد صاحب ضلع جھنگ کے ایک گاؤں میں یکم جنوری 1918ء کو پید اہوئے۔ آپ کے والد محترم چودھری مہر دین صاحب کا تعلق ضلع گورداسپور سے تھا جو اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ لائلپور آکر محکمہ مال میں ملازم ہوگئے اور ایک مخلص احمدی محترم میاں نورالدین صاحب کی تبلیغ سے احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔ 1974ء اور 1984ء میں اس خاندان کو بھی قربانی اور کلمہ کیس میں اسیران راہ مولیٰ رہنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
محترم چودھری صاحب نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاوہ پیرمحل اور گوجرہ کے بعض دیہات میںبھی کئی احمدیہ مساجد کی تعمیر کے لئے خاص خدمت کی توفیق پائی۔ اسی طرح کئی مقامات پر زنانہ و مردانہ سکولوں کے قیام اور احمدیہ قبرستان کے لئے اراضی مختص کروانے میں بھی خاص خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر لبّیک کہتے ہوئے ملازمت سے رخصت لے کر فرقان فورس میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔
آپ کو دعوت الی اللہ کا جنون تھا۔ چنانچہ اعلیٰ سرکاری افسران، وزرائ، اور سربراہان مملکت کو بھی تبلیغی خطوط لکھتے رہتے۔ اپنی اولاد کو بھی نیکیوں میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے رہتے۔ آپ کو جرمنی اور برطانیہ کے سالانہ جلسوں میں بھی متعدد بار شرکت کی توفیق ملی۔
آپ نے 93 برس کی عمر میں ربوہ میں وفات پائی اور بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
اپنی طویل عمر میں صحت کا راز آپ یہ بتایا کرتے تھے کہ انسان کو بھوک رکھ کر کھانا کھانا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ پر کامل توکّل ہو۔ پنجوقتہ نماز ،تہجد اور صبح کی سیر کو اپنا معمول بنانا چاہیے اور سادہ زندگی گزارنی چاہیے۔ ہمیشہ اپنے سے کمزور اور غریب کی طرف دیکھنا چاہیے تاکہ دل میں شکر کے جذبات پیدا ہوں۔
صحتمند رہنے کے لئے ایک بات یہ بتائی کہ انسان کو اپنے آپ کومصروف رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی مشغلہ ضرور اپنانا چاہئے۔ آپ کے مشاغل میں باغبانی اور خط و کتابت شامل تھے۔ یہ خطوط اکثر تبلیغی یا تربیتی ہوا کرتے تھے۔
روزگار کے لئے آپ یہ اصول بتایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ملازمت نہ ملے تو کسی کے پاس بغیر تنخواہ کے کام کرنا شروع کردیں۔ ایک نصیحت قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ کیا کرتے تھے کہ جو تمہیں محرو م رکھے تم اُسے عطا کرو جو تمہارے ساتھ قطع تعلق کرے تم اس سے از خود ملاقات رکھو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے تم اس سے حسن سلوک کرو اس سے اﷲ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور یہ توفیق صرف انہی کو ملتی ہے جو بڑے حوصلے والے ہوں اور جن پر اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل ہو۔ بارہا اشعار میں نصیحت کیا کرتے تھے مثلاً :

تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول
تا تم پہ ہو ملائکۂ عرش کا نزول

اور یہ شعر بھی اکثر سناتے کہ:

تُو سب دنیا کو دے لیکن
خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو

آپ کو شعر و ادب سے خاص لگاؤ تھا اور دینی کلام کے علاوہ دیگر شعراء کے بھی بے شمار اشعار ازبر تھے۔
آپ نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی محترمہ خورشید بیگم صاحبہ دسمبر 1991 میں فوت ہوگئیں۔ دوسری بیوی کے علاوہ 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں آپ نے یادگار چھوڑیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں