مکرم ڈاکٹر شیراز احمد باجوہ صاحب اور مکرمہ ڈاکٹر نورین رشید صاحبہ کی شہادت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 مارچ 2009ء میں محترم ڈاکٹر شیراز احمد باجوہ صاحب اور اُن کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر نورین رشید صاحبہ کی ملتان میں شہادت کی افسوسناک خبر شائع ہوئی ہے۔
معروف آئی سپیشلسٹ محترم ڈاکٹر شیراز احمد باجوہ صاحب بعمر 37 سال اور ان کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر نورین رشید صاحبہ بعمر 29 سال کو نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں داخل ہو کر 14 مارچ 2009ء کو شہید کردیا تھا۔ سہ پہر تقریباً پونے تین بجے دونوں ڈاکٹر میاں بیوی اپنی اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد اپنے گھر واقع واپڈا کالونی ملتان میں آئے تو کچھ ہی دیر بعد چند افراد نے گھر میں گھس کر اُن کو بے دردی اور سفاکی سے شہید کر دیا۔ مکرمہ ڈاکٹر نورین صاحبہ کو ڈرائنگ روم میں ہی ہاتھ پیچھے باندھ کر اور پردے کا کپڑا پھاڑ کر ان کے منہ میں ٹھونسا گیا اور دم گھٹنے کی وجہ سے ان کی وفات ہوگئی جبکہ ڈاکٹر شیراز صاحب کو دوسرے کمرہ میں ہاتھ پیچھے باندھنے اور منہ میں کاٹن ٹھونسنے کے بعد ان کی گردن میں رسّی ڈال کر شہید کیا گیا۔
مکرم ڈاکٹر شیراز احمد باجوہ صاحب 1972ء کو مکرم منور احمد باجوہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ خانپور گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا اور تحصیل کی سطح پر اوّل پوزیشن حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے F.Sc پاس کی اور 1996ء میں قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا جس کے بعد آئی سپیشلسٹ کی ڈگری FCPS شیخ زید ہسپتال لاہور سے 2002ء میں حاصل کی۔ آپ نے فضل عمر ہسپتال ربوہ میں قریباً 10 ماہ تک بطور آئی سپیشلسٹ خدمت کی توفیق پائی۔ اس دوران آپ کو نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن و آئی بینک کے تحت بھی خدمت کا موقع ملا۔ بوقت شہادت واپڈا ہسپتال ملتان میں ماہر امراض چشم کے طور پر کام کررہے تھے۔ آپ کم گو، شرمیلے، خدمت دین میں آگے بڑھنے والے اور تعمیری اور مثبت سوچ کے مالک انسان تھے۔ احمدی احباب کا مفت علاج کرتے اور ہمہ وقت ان کی مدد اور تعاون کرتے۔ آپ کے حلقہ احباب میں زیادہ تر احمدی احباب تھے۔ آپ نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے۔ توکل علی اللہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کم گو ہونے کے ساتھ ساتھ آپ میں لطیف حسّ مزاح بھی تھی۔ سیدھی، سچی اور صاف بات کرتے تھے۔ ربوہ میں قیام کے دوران آپ نے نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن و آئی بینک مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی مرکزی عاملہ میں خدمات سر انجام دیں۔ ہر میٹنگ اورتحریک عطیہ چشم کے سمینارز میں شرکت کرتے۔ کارنیا کے حصول کا آپریشن اور دیگر ٹیکنیکل ومیڈیکل امو رکو باحسن سرانجام دیا۔ مکرمہ ڈاکٹر نورین رشید صاحبہ سے آپ کی شادی دسمبر 2004ء کو ہوئی۔
محترمہ ڈاکٹر نورین رشید صاحبہ مکرم رانا رشید احمد خانصاحب آف کوئٹہ کی بیٹی تھیں جو سینڈک میٹلز لمیٹڈ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل حکومت پاکستان کے جنرل سیکرٹری (فنانس) اور کمپنی سیکرٹری ہیں۔ مکرمہ ڈاکٹر صاحبہ 26 مارچ 1980ء کو جھنگ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کوئٹہ میں حاصل کی۔ پہلی سے لے کر او لیول تک اوّل پوزیشن حاصل کی۔ کونوینٹ گرلز سکول کوئٹہ سے او لیول نمایاں کامیابی سے پاس کیا اور سکول کی طرف سے گولڈ میڈل دیا گیا۔ 1998ء میں ایک نجی ٹی وی چینل کی طرف سے کوئٹہ میں اینوائرمنٹ کنٹرول کے موضوع پر ہونے والے مقابلہ مضمون نویسی میں 126 شرکاء میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور اسی سلسلہ کے کراچی میں ہونے والے نیشنل مقابلہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ آپ نے قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے 2005ء میں ایم بی بی ایس اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور بوقت شہادت چلڈرن کمپلیکس ملتان میں کام کررہی تھیں۔ آپ جملہ امراض بچگان کی ماہر سمجھی جاتی تھیں۔ آپ کو جماعتی اور دینی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ حضرت مسیح موعود اور خلفاء سلسلہ کی کتب اکثر آپ کے زیر مطالعہ ہوتیں۔
مکرم ڈاکٹر شیراز احمد باجوہ صاحب کے پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ مکرمہ ڈاکٹر نورین رشید صا حبہ کے پسماندگان میں والدین کے علاوہ دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔ دونوںمیاں بیوی موصی تھے، عام قبرستان میں امانتاً تدفین کی گئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BJgWk]

اپنا تبصرہ بھیجیں