جس کے ہر جرعہ پُرکیف میں ہو لطفِ حیات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اپریل 1995ء میں مکرم نسیم سیفی صاحب کی ایک نظم کے دو بند ہدیہ قارئین ہیں:

جس کے ہر جرعہ پُرکیف میں ہو لطفِ حیات
جس کا ہر شعلہ ہو صد غیرت قندیل نجات
جس کی مستی میں جھلکتا ہو مسرت کا ثبات
ہاں وہی جام مئے ناب پلا دے ساقی
مجھ کو آئینہ تقدیس و وفا بننا ہے
شعلہ طور کی دہکی سی ضیاء بننا ہے
ساری دنیا کے لئے راہنما بننا ہے
ہاں وہی جام مئے ناب پلا دے ساقی
50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں