نعت گوئی اور غیرمسلم شعراء

نعت گوئی کی تاریخ 14 سو سال پرانی ہے اور اس صنف میں کئی غیرمسلم شعراء نے بھی نام پیدا کیا لیکن کبھی کسی ملاّں یا مفتی نے ان پر توہینِ رسالت کا الزام نہیں لگایا۔
محترم یعقوب امجد صاحب اپنے مضمون مطبوعہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍ جولائی 1996ء میں بہت سے غیرمسلم شعراء کے نعتیہ کلام سے انتخاب پیش کرتے ہیں۔
مہاراجہ سر کشن پرشاد شادؔ کی نعت کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:-

بلوائیں مجھے شادؔ جو سلطانِ مدینہ
جاتے ہی مَیں ہو جاؤں گا قربانِ مدینہ
لے جاؤں گا مَیں ساتھ فقط عشقِ محمدؐ
تحفہ ہے مرے پاس یہ شایانِ مدینہ
مومن جو نہیں ہوں تو مَیں کافر بھی نہیں شادؔ
اس رمز سے آگاہ ہیں سلطانِ مدینہ

معروف شاعر پیارے لال رونقؔ (جن کے کئی مجموعہ کلام طبع ہو چکے ہیں) کے نعتیہ کلام سے دو اشعار ذیل میں پیش ہیں:-

کلمہ صل علیٰ وردِ زباں رکھتا ہوں
خواب میں دیکھ لیا ہے قد بالا تیرا
عفو ہو جائیں گی محشر میں خطائیں ساری
داورِ حشر کو دوں گا مَیں حوالہ تیرا

مضمون نگار نے جن دیگر شعراء کے کلام سے انتخاب پیش کیا ہے ان میں پنڈت تلوک چند محرومؔ، پنڈت ہری چند اخترؔ اور منشی درگا سہائے سرورؔ جہاں آبادی شامل ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں