نیوزی لینڈ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ سالانہ نمبر 2006ء میں نیوزی لینڈ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
نیوزی لینڈ کی وجہ تسمیہ اس کا صوبہ زی لینڈ ہے جس کے معنی ہیں: ’’سفید بادلوں کا وطن‘‘۔ یہ ملک بحرالکاہل میں دو بڑے جزیروں پر مشتمل ہے جن کا پھیلاؤ 1600 کلومیٹر تک ہے۔ شمالی جزیرہ ایک لاکھ 14 ہزار 592 مربع کلومیٹر اور جنوبی جزیرہ ایک لاکھ 52 ہزار 719 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ شمالی جزیرہ کے وسط میں ایک بڑا آتش فشاں پہاڑ ہے جبکہ جنوبی جزیرہ میں گلیشیئر اور 15 پہاڑی چوٹیاں ہیں جن کی بلندی دس ہزار فٹ تک ہے۔ کچھ چھوٹے جزیرے بھی نیوزی لینڈ میں شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کی آبادی 4.1 ملین ہے۔ یہاں کے قدیم مقامی باشندوں کو Maoriکہا جاتاہے جن کی شرح 14.7 فیصدہے۔ دارالحکومت ولنگٹن ہے۔ قومی فضائی کمپنی ’ایئرنیوزی لینڈ‘ ہے۔ ملک میں 36 ہوائی اڈے اور چار بڑی بندرگاہیں۔
نیوزی لینڈ کے جزائر تک پہنچنے والا پہلا یورپی باشندہ ایک ولندیزی ملاح ابیل جانسزون تسمان تھا۔ 13 دسمبر 1642ء کو وہ نیوزی لینڈ (ویسٹ لینڈ) کے ساحل پر پہنچا لیکن اسے قدیم باشندوں Maori نے جزیرے پر اترنے کی اجازت نہ دی۔ یہ ماؤری باشندے 850ء سے 14 ویں صدی عیسوی کے دوران پولی نیشا سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ ان لوگوں کا پیشہ ماہی گیری یاشکار کرنا تھا۔
پھر برطانوی بحریہ کا کپتان جیمز کک 1770ء میں یہاں پہنچا۔ وہ 1773ء میں دوسری اور 1777ء میں تیسری بار یہاں آیا۔ اُس نے جزیرہ پر برطانیہ کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کی آبادی صرف سوا لاکھ تھی۔ بعد میں فرانسیسی اور پرتگالی مہم جوؤں کی یلغار شروع ہوگئی۔ 1814ء میں برطانوی مشنریوں کا پہلا گروپ سڈنی سے یہاں پہنچا۔ اس وقت ملک کی کوئی قانونی حکومت نہیں تھی۔ جون 1839ء میں نیوزی لینڈ کو نیوساؤتھ ویلز کالونی کا حصہ قرار دیا گیا۔ 6 فروری 1840ء کو برٹش نیوی کے کیپٹن ولیم ہابسن اور ماؤری سرداروں کے مابین ایک معاہدہ Waitangi طے پایا جس کے تحت ماؤری سرداروں نے نیوزی لینڈ کا کنٹرول برطانیہ کے حوالہ کردیا اور ملکہ وکٹوریہ کو ملک کی حکمران تسلیم کرلیا۔
مئی 1841ء میں نیوزی لینڈ کو علیحدہ کالونی کی حیثیت دے کر آک لینڈ اس کا دارالحکومت مقرر کیا گیا۔ 1845ء میں شمالی جزیرے پر ماؤری چیف ہون ہیکی Hone Heki نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کردی جسے ایک سال کے عرصہ میں کچل دیا گیا لیکن نسلی کشیدگی جاری رہی۔ 1852ء میں برطانیہ نے ریاست کو آئین عطا کیا۔ 1865ء میں آک لینڈ کی جگہ ولنگٹن کو دارالحکومت بنادیا گیا۔ انگریز آبادکاروں اور قدیم ماؤرائی باشندوں کے درمیان جنگیں 1870ء میں برطانیہ کی فتح کے ساتھ ختم ہوگئیں۔ 1891ء میں لبرل پارٹی برسراقتدار آئی۔ دنیا میں سب سے پہلے خواتین کو حق رائے دہی نیوزی لینڈ نے 1893ء میں دیا گیا۔ 26 ستمبر 1907ء کو نیوزی لینڈ کی نو آبادیاتی حیثیت ختم کرکے اسے خود مختار ریاست کا درجہ دیدیا گیا لیکن اسے مکمل آزادی 6 فروری 1931ء کو ملی۔ پہلی جنگ عظیم میں یہاں کے قریباً ڈیڑھ لاکھ باشندوں نے برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیں۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی نیوزی لینڈ کی افواج نے اتحادیوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔
نیوزی لینڈ ایک آزاد آئینی بادشاہت ہے۔ ملکہ برطانیہ سربراہ مملکت اور مسلح افواج کی کمانڈر انچیف ہیں۔ ملکہ کی نمائندگی گورنر جنرل کرتا ہے۔ حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہے جو کہ تمام انتظامی اختیارات کا مالک ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اراکین کی تعداد 99 ہے جن میں چارماؤری ارکان بھی شامل ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ZOoke]

اپنا تبصرہ بھیجیں