وقف زندگی

جامعہ احمدیہ ربوہ (جونیئر سیکشن) کے صدسالہ خلافت سووینئر میں ایک مضمون محترم چودھری حمیداللہ صاحب (وکیل اعلیٰ) کے قلم سے شامل اشاعت ہے جس میں واقفین زندگی کے لئے نہایت قیمتی اور قابل تقلید روایات قلمبند کی گئی ہیں۔
جماعت احمدیہ میں زندگی وقف کرنے کی روایت کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگی کو کلیّۃً سلسلہ احمدیہ کے کاموں کے لئے مخصوص کرکے اس کو خلافت اور نظام جماعت کے حضور پیش کردینا۔ زندگی وقف کرنے کے بعد وقف کرنے والے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا بلکہ سلسلہ احمدیہ اُس کی زندگی اور استعدادوں کا مالک بن جاتا ہے۔ اپنے زمانہ کا سب سے پہلا واقف زندگی تو اُس زمانہ کا نبی ہوتا ہے جو آنحضرتﷺ کے الفاظ میں یہ اعلان کرتا ہے:

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

(ترجمہ: تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے)۔
جماعت احمدیہ کے پہلے واقف زندگی حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ تھے جنہیں جب بٹالہ سے کسی نے بُلا بھیجا تاکہ مریض کو دیکھ لیں تو آپؓ نے فرمایا کہ اب میں اپنی جان کا مالک نہیں رہا اور حضرت مسیح موعودؑ کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاسکتا۔ چنانچہ اُن صاحب نے حضرت اقدسؑ سے اجازت مانگی جو حضورؑ نے دیدی۔
جب حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ نے اِس خواہش کا اظہار حضور علیہ السلام سے کیا کہ ملازمت پوری کرکے آپؓ مستقل قادیان میں قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حضورؑ نے فرمایا: ’’یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان توبۃالنصوح کرکے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف کردے اور لوگوں کو نفع پہنچاوے تو عمر بڑھتی ہے۔ اعلائے کلمۃالاسلام کرتا رہے اور اس بات کی آرزو رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلے … امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔ یہ ایک اصل ہے جو انسان کو نافع الناس بناتی ہے اور نافع الناس ہونا درازیٔ عمر کا اصل گُر ہے‘‘۔
حضور علیہ السلام اپنی حالت سے متعلق فرماتے ہیں: ’’یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مرکے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذّت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے‘‘۔
حضور اقدس علیہ السلام نے وقف زندگی کی تحریک انفرادی سطح پر اور اجتماعی سطح پر دونوں طرح سے فرمائی۔ چنانچہ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ جب ایک بار زیارت کے لئے خدمت اقدسؑ میں حاضر ہوئے اور بٹالہ سے قادیان اور پھر واپس بٹالہ تک کے لئے یکہ کرایہ پر لیا تو دورانِ ملاقات حضورؑ نے فرمایا: ’’اب تو آپ فارغ ہوگئے ہیں‘‘۔ اشارہ سمجھتے ہوئے آپؓ نے یکہ واپس کردیا۔ اگلے روز حضورؑ نے فرمایا: ’’مولوی صاحب! اکیلے رہنے میں تکلیف ہوتی ہوگی، آپ اپنی بیوی کو بلالیں‘‘۔ چنانچہ آپؓ نے ایک بیوی کو بلالیا۔ چند روز بعد حسب ارشاد اپنا کتب خانہ بھی منگوالیا۔ پھر حضورؑ کے ارشاد پر دوسری بیوی کو بھی بلالیا۔ پھر ایک دن جب حضورؑ نے فرمایا: ’’مولوی صاحب! اب آپ اپنے وطن کا خیال بھی دل میں نہ لائیں‘‘۔ تو اگرچہ آپؓ نے سرتسلیم خم کردیا لیکن بہت ڈرے کہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ بھیرہ نہ جائیں لیکن یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ بھیرہ کا خیال بھی نہ آئے۔ لیکن آپؓ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے بھی عجیب تصرفات ہوتے ہیں۔ میرے واہمہ اور خواب میں بھی مجھے وطن کا خیال نہیں آیا۔ پھر تو ہم قادیان کے ہوگئے۔
ستمبر 1907ء میں حضرت مسیح موعودؑ نے وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔ اس تحریک پر ابتداء میں 13 احباب نے لبیک کہا۔ حضورؑ نے اِن واقفین کی خوبیاں یہ بیان فرمائیں: ’’…وہ قانع ہونے چاہئیں اور دولت و مال کا ان کو فکر نہ ہو۔ حضرت رسول کریمﷺ جب کسی کو تبلیغ کے واسطے بھیجتے تھے تو حکم پاتے ہی چل پڑتا تھا، نہ سفر خرچ مانگتا تھا اور نہ گھر والوں کے افلاس کا عذر پیش کرتا تھا۔ یہ کام اس سے ہوسکتا ہے جو اپنی زندگی کو اُس کے لئے وقف کردے۔ متقی کو خدا تعالیٰ آپ مدد دیتا ہے۔ وہ خدا کے واسطے تلخی کی زندگی کو اپنے لئے گوارا کرتا ہے… صبر اور تحمل سے کام لینے والے آدمی ہوں۔ اُن کی طبیعتوں میں جوش نہ ہو۔ ہر ایک سخت کلامی اور گالی کو سن کر نرمی کے ساتھ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ جہاں دیکھیں کہ شرارت کا خوف ہے وہاں سے چلے جائیں … آہستگی اور خوش خلقی سے اپنا کام کرتے ہوئے چلے جائیں‘‘۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/u78q9]

اپنا تبصرہ بھیجیں