ویٹرنری ڈاکٹر محمد عبد القادر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍مئی 2009ء میں ویٹرنری ڈاکٹر محمد عبدالقادر آف ملتان کا ذکرخیر اُن کی ہمشیرہ مکرمہ ح۔بشیر صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم محمد عبدالقادر صاحب ابن محترم چوہدری محمد حسین صاحب مرحوم 10نومبر 2008ء کو ملتان میں وفات پاگئے۔ آپ حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ کے نواسے اور مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نوبیل انعام یافتہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ آپ جھنگ میں پیدا ہوئے اور مکرم عبدالرشید صاحب آف لندن کے جڑواں بھائی تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اپنے ایک سفر کے دوران سندھ جاتے ہوئے ملتان ریلوے سٹیشن پر رکے۔تو محترم چودھری محمد حسین صاحب نے اپنے دونوں جڑواں بچوں کو گود میں اٹھا کر حضور کے سامنے دعا کے حصول کے لئے پیش کیا اور عرض کی یہ دونوں بچے اتنے ہم شکل ہیں کہ کبھی کبھی ان کی والدہ ان کے درمیان فرق نہیں کر سکتیں۔ حضور مسکرائے اور ذہانت و فطانت کی نگاہ ڈال کر فرمایا کہ رشید کا ناک قادر کے ناک سے قدرے بڑا ہے۔ والدہ کو کہیں کہ ناک دیکھ لیا کریں۔ حضور کی شفقت ایک نعمت تھی۔
محترم عبدالقادر صاحب نے جھنگ اور ملتان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور سے ویٹرنری ڈاکٹر کا کورس کیا۔ آپ کی عمر سات آٹھ برس ہو گی کہ آپ نے اپنے والد سے اپنے لئے ٹوپی کی فرمائش کی۔ انہوں نے کہا کہ خداتعالیٰ سے دعا کرو اور ٹوپی مانگو۔ اس دوران چلتے چلتے آپ کو گھر کے کچے صحن میں ایک پتھر سے ٹھوکر لگی۔ اس پریشانی میں آپ نے پتھر کے ٹکڑے کو نکال پھینکا تو نیچے سے کپڑے کی ایک تھیلی ملی جس میں سے چاندی کے چند سکے نکلے۔ ان سے سب بھائیوں کی ٹوپیاں بھی آ گئیں اور کئی دیگر کام بھی آسان ہو گئے۔
آپ بچپن میں صحت کی خرابی کی وجہ سے بہت کمزور تھے۔ ہمارے ابا جان فرمایا کرتے تھے کہ بارہا قادر بیٹے کو میں نے اپنے خداتعالیٰ سے دعاؤں اور التجاؤں سے واپس لیا۔ بعد میں زندگی میں عزیز کو بہت کم بیماری آئی۔ لاہور میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد سروس کا آغاز ملتان سے کیا اور 35سال نہایت ایمانداری کے ساتھ بطور ویٹرنری ڈاکٹر اپنی سرکاری ملازمت پوری کی۔ اپنی غیر معمولی ایمانداری کی وجہ سے آپ غیر از جماعت ساتھی ڈاکٹروں کی تضحیک اور مخالفت کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ کئی مرتبہ ترقی روکی گئی۔ بعض دفعہ تبدیلی اُن دیہات میں کر دی جاتی تھی جن میں رہنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ دور دراز کے سفر کرنے پڑتے تھے۔ مگر آپ اس حالت میں بھی خداتعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔ بے زبان جانوروں سے شفقت اور غریبوں کی خدمت سنت نبویؐ ہے۔ آپ غریبوں کے جانوروں کی خدمت کر کے دوہرا ثواب پاتے تھے۔ بعض اوقات اپنی طرف سے ادویات خرید کر مستحق افراد کے جانوروں کے لئے لے جاتے تھے کہ ان افراد کی روزی ان جانوروں کے بچے فروخت کرکے یا دودھ فروخت کرنے سے وابستہ تھی۔ جانوروں کو ٹیکہ لگانا مشکل کام ہے مگر آپ یہ کام بھی خود کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے معمولی سی دوائی بھی آپ کے ہاتھ میں اکسیر کا کام کرتی تھی۔ دُور دراز سے لوگ ان کے پاس اپنے مویشیوں کے بارہ میں مشورہ لینے کے لئے آتے تھے۔ آپ ایک ہر دلعزیز ڈاکٹر تھے۔
آپ ہمیشہ نمازوں کی پابندی کرتے۔ سخت گرمی میں ڈیوٹی کے لئے سائیکل استعمال کرتے لیکن اس حالت میں بھی پورے روزے رکھتے۔ خود بھی موصی تھے اور اپنے سب بچوں کو بھی نظام وصیت میں شامل کروایا۔ ایک مخلص ، دعا گو اور خدا ترس انسان تھے۔ کثرت سے درود شریف پڑھتے اور تلاوت قرآن کا التزام کرتے۔ وفات سے 2دن قبل خواب میں دیکھا کہ آپ کی والدہ صاحبہ مرحومہ آپ کو کہہ رہی ہیں کہ میرے پاس آ کر سو جائو۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ غائب لندن میں پڑھائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Ie94B]

اپنا تبصرہ بھیجیں