پروفیسر ڈاکٹر امۃالکریم طلعت صاحبہ

ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ برطانیہ ستمبر 2002ء میں مکرم ڈاکٹر طلعت علی شیخ صاحب اپنی اہلیہ مکرمہ پروفیسر ڈاکٹر امۃالکریم طلعت صاحبہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ ایسی احمدی خواتین میں سے تھیں جنہوں نے مذہبی حدود کے دائرہ میں رہتے ہوئے تعلیم کی اُن بلندیوں کو چھوا جن کو اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور کہا جاسکتا ہے۔
آپ کے والد مکرم ڈاکٹر غلام علی صاحب ضلع شیخوپورہ کے گاؤں چہور کے ایک قریش خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور فوج میں ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ آپ کی پیدائش ایران کے شہر برجند میں ہوئی جہاں ڈاکٹر صاحب اُن دنوں ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان قادیان منتقل ہوگیا۔ محترمہ امۃالکریم صاحبہ نے وہیں سے میٹرک کیا اور پھر پاکستان بننے کے بعد لاہور منتقل ہوگئیں جہاں F.A. اور B.A. آنرز کی ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ پھر پنجاب یونیورسٹی کے اوریئنٹل کالج سے M.A. (عربی) کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی اور صوبہ بھر کی خواتین میںا وّل قرار پائیں۔ جس کی وجہ سے پہلے آپ کو میکلوڈ عربک ریسرچ سکالرشپ ملا اور پھرPh.D. کی ڈگری کے لئے DAAD جرمن سکالرشپ ملا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ نے پرائمری سے Ph.D. تک میرٹ سکالرشپ حاصل کیا۔
جب آپ نے برقع میں M.A. کرلیا تو آپ کی والدہ نے حضورؓ کی خدمت میں سکالرشپ ملنے اور جرمنی جانے کا ذکر کیا اور اجازت طلب کی تو حضورؓ نے اجازت مرحمت کرتے ہوئے فرمایا: ’’مردوں سے ہاتھ نہ ملانا‘‘۔حضورؓ کی بیگم صاحبہ نے پوچھا کہ برقع کا کیا ہوگا؟ امۃالکریم صاحبہ نے عرض کی کہ M.A. برقع میں کیا ہے تو وہاں بھی برقع پہن لوں گی۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا: وہاں کوئی برقع نہیں پہننے دے گا، تم کھلا گاؤن پہن لینا اور سر پر سکارف باندھ لینا‘‘۔
آپ نے بون (جرمنی) سے 1959ء میں تین مضامین میں highest honourکے ساتھ Ph.D. کی ڈگری حاصل کی۔ مضامین یہ تھے: مشرقی علوم (Oriental Studies)، بشریات (Anthropology) اور تقابلہ مذاہب (Comparative Religions)۔
جرمنی سے پاکستان واپس آئیں تو سندھ یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں سینئر لیکچرار کی پیشکش ہوئی۔ آپ کی والدہ آپ کو ہمراہ لے کر اجازت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضورؓ نے دریافت فرمایا: ’’ایم۔اے عربی کے مرد طلبا کو پڑھالوگی؟‘‘۔ آپ نے جواباً عرض کی: ’’مَاتوفیقی الّا باللہ‘‘۔
چنانچہ اجازت مل گئی اور آپ نے سندھ یونیورسٹی میں دس سال تدریس کے فرائض سرانجام دیئے اور اپنے طلباء و طالبات کو M.A. اور Ph.D. کرواتی رہیں۔ اس دوران پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں ایم۔اے عربی اور اسلامیات کی ایگزامینر بھی رہیں۔ 1970ء میں ملکی حالات کے پیش نظر آپ کو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑنی پڑی اور پھر کنٹونمنٹ کالج برائے خواتین پشاور میں پرنسپل کے طور پر مقرر ہوئیں۔ یہ کالج بعد میں فیڈرل گورنمنٹ کالج بن گیا اور پاکستانی آرمی ایجوکیشن کور کے زیرانتظام کام کرتا رہا۔ یہاں بیس برس تک کام کرنے اور 7 سال تک بیسویں گریڈ میں کام کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئیں۔ دورانِ ملازمت آپ ڈیپوٹیشن پر فرانکفرٹ یونیورسٹی جرمنی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد (پاکستان) اور نائیجیریا میں بھی بحیثیت پروفیسر عربک اور اسلامیات کام کرتی رہیں۔ اوپن یونیورسٹی میں تقرری کے دوران آپ PTv پر ’’العربی سہلاً ‘‘ پروگرام میں پاکستانی ٹیچر کی حیثیت سے اسباق دیتی رہیں۔ آپ نے متعدد کتب عربی، جرمن، انگریزی اور اردو میں تالیف کیں۔ آپ کی ایک کتاب جو کہ عربی اور جرمن زبان میں لکھی گئی ہے، ترکی کی یونیورسٹیوں میں ریفرنس بُک کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی کے علاوہ عربی اور جرمن زبانیں بھی روانی سے بولتی تھیں، سندھی زبان بھی لکھ پڑھ لیتی تھیں۔ آپ کا نام اور ہسٹری Biographical Encyclopaedia of Pakistan میں نمایاں طور پر شائع ہوئے۔
محترمہ امۃالکریم صاحبہ نے اپنا عقیدہ چھپانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔اگرچہ بارہا آپ کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ فضل فرمایا۔ زندگی کے آخری سالوںمیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے لندن یونیورسٹی میں Comparative Religion کی اعزازی پروفیسر کی حیثیت سے لیکچرز دیتی رہیں۔ حکومت پاکستان کے ایک نوٹیفیکیشن میں آپ کے بارہ میں لکھا گیا:
“Highest qualified lady in her subject and most qualified and experienced Principal of Fedral Govt. Colleges of Pakistan.”
مرحومہ پچاس برس سے موصیہ تھیں۔ 18؍مارچ 2002ء کو بعارضہ کینسر لندن میں وفات پائی اور احمدیہ قبرستان بروک وُڈ کے قطعہ موصیان میں تدفین عمل میں آئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں