چائے کی تیاری اور اس سے استفادہ کا صحیح طریقہ – جدید تحقیق کی روشنی میں

چائے کی تیاری اور اس سے استفادہ کا صحیح طریقہ
(عبادہ عبداللطیف)

ہم میں سے اکثر لوگ چائے پینا ضرورت کے تحت پسند ہی نہیں کرتے بلکہ شغل کے طور پر بھی پیتے چلے جاتے ہیں- لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ ماہرین صحت کے مطابق چائے بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ اس حوالہ سے ایک رپورٹ جدید تحقیق کی روشنی میں پیش ہے:
چائے کے استعمال کے فوائد اور بعض نقصانات کے حوالے سے تحقیقی کام تو ہمیشہ جاری رہا ہے لیکن حال ہی میں اس کی افادیت سے متعلق یونیورسٹی آف برلن کے ماہرین کی یہ رائے ایک طویل مشاہدے کے بعد منکشف ہوئی تھی کہ دودھ کے بغیر چائے ٹیومر سیلز اور فالج سے محفوظ رہنے کے لئے ایک مؤثر ترین دوا کا درجہ رکھتی ہے۔ تاہم یہ تمام فوائد چائے میں دودھ کی معمولی مقدار شامل کرنے سے بھی زائل ہوجاتے ہیں۔ جبکہ بغیر دودھ کی چائے شریانوں میں خون کے بہاؤ کا ایک تسلسل بھی برقرار رکھتی ہے۔ اس حوالے سے کئے گئے ایک تجربے میں جب تیس صحت مند افراد کو دودھ کے بغیر چائے وقفے وقفے سے پلائی گئی اور چائے پلانے کے تین گھنٹے بعد اُن کے خون میں بہاؤ کا جائزہ لیا گیا تو ہر بار خون کا بہاؤ پہلے سے بہتر محسوس ہوا لیکن جب چائے میں دودھ ملایا گیا تو یہ اثرات ختم ہوگئے۔ یہی تجربہ چوہوں پر بھی کیا گیا چنانچہ دودھ کے بغیر چائے پینے سے چوہوں میں نائٹرک ایسڈ زیادہ مقدار میں پیدا ہونے لگا جو دراصل شریانوں کو چھیلنے میں مدد دیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ماہرین نے بھی اعتراف کیا تھا کہ چائے کا استعمال ہارٹ اٹیک سے بچاؤ میں معاون ہے اور اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ باقاعدگی سے کالی چائے پینے والے لوگوں میں ہارٹ اٹیک ہونے کے خطرات نہایت کم ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں موجود چربی ایک خاص کیمیائی عمل سے گزرنے اور آکسیجن سے ملنے کے بعد ہی اُس شکل میں تبدیل ہوتی ہے جو خون کی نالیوں میں جم کر اُن کو تنگ کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں خون کی روانی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء خون کی چربی کو آکسیجن سے محروم رکھتے ہیں جس سے خون صحتمند رہتا ہے۔ نیز بعض دیگر سائنسی تحقیقات سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوئی ہے کہ چائے کے اینٹی آکسیڈنٹ یعنی فلونائیڈ خون میں چربی بننے کے عمل میں سب سے مؤثر رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ چائے نہ صرف دل بلکہ دماغ کی بعض بیماریوں یعنی فالج وغیرہ کے خطرات سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ہالینڈ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق بڑی عمر میں فالج کے امکانات اُن لوگوں میں جو باقاعدگی سے چائے پیتے تھے، نمایاں طور پر کم تھے۔ ماہرین کے مطابق کالی چائے میں اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں جو جسم میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھاتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ یہ مفید ترین اجزاء چائے میں دودھ شامل کرنے سے اپنی تاثیر کھو بیٹھتے ہیں۔ تاہم سادہ چائے میں ادرک، الائچی اور پودینہ وغیرہ کا اضافہ کرکے اِسے حسب ذائقہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ چائے کا ایک فائدہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چائے کے عادی افراد کی ہڈیاں خستگی سے محفوظ رہتی ہیں جس کی وجہ چائے میں موجود معدنیات ہیں۔ اسی طرح چائے کا ایک عنصر سانس کی نالیوں میں تنگی کم کرنے کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
ان سب سائنسی مشاہدات کے ساتھ ساتھ ایک اَور مشاہدہ بھی کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ چولہے پر پانی اُبال کر تیار کی جانے والی چائے تاثیر کے لحاظ سے اُس چائے سے بہت فرق رکھتی ہے جس کے لئے پانی مائیکروویو یا کسی دوسرے ذریعے سے اُبالا گیا ہو۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ چائے میں ایک خاص تیزاب ہوتا ہے جو صرف 80ڈگری پر پانی میں تحلیل ہوتا ہے جبکہ مائیکروویو وغیرہ میں یہ ممکن نہیں ہوتا اس لئے قدرتی طور پر جوش دی گئی بغیر دودھ کی چائے کا نعم البدل کسی اَور طریق سے تیار کی گئی چائے کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/8g9lz]

اپنا تبصرہ بھیجیں