چند متفرق اور مفید مشورے – جدید تحقیق کی روشنی میں

چند متفرق اور مفید مشورے – جدید تحقیق کی روشنی میں
(فرخ سلطان محمود)

٭ بھوک لگانے کے لئے
امریکہ میں کئے جانے والے ایک جائزے میں 10ہزار میں سے 7 ہزار افراد کا کہنا تھا کہ ان کی بھوک دن بدن کم ہورہی ہے۔ تجزیہ کرنے پر ماہرین کو معلوم ہوا کہ ان میں سے 70 فیصد لوگ پھلوں اور پھلوں کا جوس استعمال کرنے کی بجائے، فاسٹ فوڈز اور کولڈ ڈرنکس کے عادی تھے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ بھاری اور ثقیل غذاؤں کا مسلسل استعمال معدے میں انزائیمز میں کمی کر دیتا ہے جس سے حقیقی بھوک ختم ہونے لگتی ہے جبکہ بھوک نہ لگنے کی بیماری میں اگر مریض کو دن میں ایک سے دو بار پھلوں کا تازہ جوس دیا جائے تو اُس کی بھوک چمک اٹھے گی کیونکہ پھل اور پھلوں کے جوس بھوک کو چمکانے اور معدے کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
٭ مرگی کے مرض میں خوراک
لندن میں کی جانے والی ایک مطالعاتی تحقیق کے بعد اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مرگی کے مرض میں مبتلا بچوں کی صحت یابی میں خصوصی مرغن غذائیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور جن بچوں کو مرغن غذائیں نہیں دی جاتیں، اُن کے مرض کی شدت میں ایک تہائی یعنی (۳۳فیصد) تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دواؤں سے ٹھیک نہ ہونے والی مرگی کے علاج کے لئے خصوصی غذاؤں کا استعمال 1920ء سے کیا جارہا ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ تجربات کئے گئے ہیں اور اسے سائنسی مطالعے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تجربات گریٹ اورمنڈ سٹریٹ ہسپتال میں 145؍ ایسے مریض بچوں پر کئے گئے جن کی عمریں دو سے سولہ سال تھیں اور اُن کو روزانہ کم از کم ایک مرتبہ اور ہفتے میں سات سے زیادہ مرتبہ مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی غذا میں بڑی مقدار میں چکنائی، تھوڑا سا کاربوہائیڈریٹ اور تھوڑی سی پروٹین شامل ہونی چاہئے۔
٭ سانس روکنے والی گیمیں خطرناک ہیں
اکثر و بیشتر بچے تفریح کے لئے سانس روکنے کا مقابلہ کرتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ یہ کھیل ان کے دماغ کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سوئیڈن میں ہونے والی ریسرچ نے ایسے تمام بچوں اور لوگوں کو خبردار کیا ہے جو کھیل کی غرض سے یا پانی میں غوطہ خوری کیلئے دیر تک سانس روکنے کی جرأت کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے جسم میں پروٹین کا تناسب کم ہوجاتا ہے جو دماغ کے سگنلز کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر سانس روکنے سے دماغ کے کچھ حصوں کے شدید نقصان کے ساتھ ساتھ اعصاب پر بھی منفی اثر پڑتا ہے، اس کے علاوہ دماغ کی شریانوں میں خون کی روانی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔
٭ بڑھاپے میں نفسیاتی مسائل سے بچیں
برطانیہ کے طبّی ماہرین کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ افسردگی، تشویش اور غصہ دل کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ لندن میں شائع کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی طبی ماہرین نے بوڑھوں کے ایک مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود تین سو معمر افراد کو افسردگی، تشویش اور غصے جیسے منفی جذبات کی کیفیت کے بارے میں سوالنامے فراہم کئے۔ ان سوالناموں کے جوابات حاصل کرنے کے بعد بوڑھوں کے مختلف ٹیسٹ بھی لئے گئے جن کے نتیجے میں یہ علم ہوا کہ زیادہ غصے، تشویش اور پریشانی میں مبتلا افراد میں دل کے امراض کی شرح چھ فیصد زیادہ پائی گئی جبکہ دیگر معمر افراد جو ایسی کیفیت میں مبتلا نہیں تھے، اُن میں دل کے امراض کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ ماہرین نے اخذ کیا کہ افسردگی، تشویش اور غصے میں مبتلا افراد میں ذہنی دباؤ اور تناؤ کے باعث دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور منفی جذبات کے باعث خارج ہونے والے ہارمونز اور بلڈپریشر سے دل کی کارکردگی متأثر ہوسکتی ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/cuYnI]

اپنا تبصرہ بھیجیں