چھ کتابیں… ایک شاعر

کتب پر تبصرہ:
فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ انصارالدین جنوری فروری 2012ء)

ایک حساس انسان کے اندر سے بلند ہونے والی منظوم صدا (شعر) جہاں اُس کے شعور کی گہرائیوں کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ برقرار رکھتی ہے وہاں قوّتِ اظہار پر اُس کی غیرمعمولی دسترس کی بھی خبر دیتی ہے۔ جب حواس معاشرتی درد اور بے قراریوں کو جذب کرنے لگیں اور اُس کے نتیجہ میں دِل میں پیدا ہونے والا کرب شاعر کے مزاج میں ایسا تلاطم پیدا کردے کہ بحرِجذبات کی بیکراں موجوں کا حسین زیروبم … اشعار کی صورت میں دکھائی دینے لگے تو پھر اُس منظوم کلام کا محض اندازِبیان ہی نہیں بلکہ اُس میں پوشیدہ حقیقت بھی اپنے سامع یا قاری کے قلب و روح پر ایسا تأثر قائم کرتی ہے جسے برسوں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کلام نہ صرف اپنی ذات میں ایک طاقتور سچائی اور معانی میں ایسی دُوررَس گہرائی کا حامل ہوتا ہے جو پڑھنے والے کو شاعر کے ساتھ ایک پاکیزہ رشتہ میں منسلک کردیتا ہے۔ دراصل یہی وہ رشتہ ہے جس کے نتیجہ میں شاعر کے خیالات کی سچائی خوشبو کی طرح اپنے قاری کے توسّط سے پھیلتی چلی جاتی ہے اور یہی خوبی کسی کلام کے زندہ رہنے کی صلاحیت بلکہ اُس کے حیات بخش اثرات کا حامل ہونے کی ضمانت بھی ہوا کرتی ہے۔
عموماً ہمارے اِس کالم میں کوئی ایک کتاب زیر تبصرہ ہوتی ہے لیکن آج ہمارے پیش نظر ایسا قادرالکلام اور حقیقت شناس شاعر ہے جن کے کلام کے اب تک چھ مجموعے شائع ہوکر ہر طبقۂ فکر سے داد تحسین پاچکے ہیں۔
ہم میں سے وہ دوست جو یورپ اور خصوصاً برطانیہ کی ادبی زندگی پر اگرچہ طائرانہ نظر بھی رکھتے ہیں وہ یقینا جناب منور احمد کنڈے صاحب کے نام سے شناسا ہیں بلکہ اُن کے کلام کے قبول عام کی سند حاصل کرنے کی گواہی دیتے ہیں۔
جناب منور احمد کنڈے صاحب کا کلام اور (حالات حاضرہ کے علاوہ) مختلف النوع عناوین پر اُن کی نظمیں سالہاسال سے متعدد اخبارات و رسائل کی زینت بنتی چلی آئی ہیں۔ تاہم اب جبکہ اُن کے تین (موصولہ) مجموعوں کو بغور دیکھنے کا موقع ملا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ حساس دل رکھنے والا یہ ایک ایسا شاعر ہے جو دنیا بھر میں کسی بھی مصیبت زدہ کی آہوں اور سسکیوں کو اپنے سینے میں کچھ اس طرح سے محسوس کرتا ہے کہ الفاظ میں اُس دکھ کا اظہار، اُس کے لئے، گویا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اور ایک حساس دل پر چھائے ہوئے کرب کے بادلوں سے جب درد کا پانی قرطاس پر برستا ہے تو پھر تصنّع سے کوسوں دُور اور سچائی کی ایسی چاشنی اپنے اندر رکھنے والا کلام وجود میں آتا ہے جس کے ذریعے سے جہاں شاعر موصوف کے دل کی کیفیت اور قلبی وسعت سے شناسائی ہوتی ہے وہاں اُن کی قادرالکلامی، زبان دانی، الفاظ و محاوروں کی فراوانی، واقعات کی تصویر کشی اور سادہ و بے ساختہ انداز بیان، نیز دینی تعلیمات سے علمی و عملی وابستگی اور دنیوی معاملات میں گہری نظر رکھنے کا بھی علم ہوتا ہے۔
موصوف شاعر ایک ایسا شخص ہے جو اپنے کلام کے آئینہ میں منکسرالمزاجی کا مرقع نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے ادبی مقام کے اداراک کے باوجود بھی ہر کسی کے سر پر دست شفقت رکھنے میں وہ کبھی بخل سے کام نہیں لیتا۔ جہاں وہ دنیا میں آنے والی بڑی بڑی آفات سے متأثر ہوکر انسانیت کی اجتماعی تکلیف پر بیقراری سے قلم اٹھاتا ہے وہیں وہ کسی ایک انسان کی روح پر لگنے والے زخم پر پھاہا رکھنے کی کوشش میں بھی نظر آتا ہے۔ … انسانی زندگی کے مختلف زاویوں میں وقوع پذیر ہر قسم کے جملہ واقعات کی منظوم تصویر کشی جناب منور احمد کنڈے صاحب کے ضخیم مجموعہ ہائے کلام میں کہیں نہ کہیں مل ہی جائے گی۔ اور لطف یہ بھی ہے کہ کئی نظمیں اور غزلیں اپنے منفرد انداز بیان کے ساتھ ایسی گہری اور پُرمعانی ہیں جن کا بار بار مطالعہ قاری کو ایک نیا ہی ذائقہ دیتا ہے۔ جناب منور احمد کنڈے صاحب کی ہر کتاب میں معرفت اور حکمت کے بکھرے ہوئے موتی جابجا آپ کو ملیں گے۔ (لیکن یقینا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ہومیوپیتھ اور حکمت کے ماہر بھی ہیں)۔ اب ذیل میں آپ کی تین کتب کا اجمالی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

حرف منور

موصوف شاعر کا مجموعہ کلام ’’حرف منور‘‘ A5 سائز کے چار صد بھرپور صفحات پر مشتمل ہے جسے سرورق کے دیدہ زیب ڈیزائن کے ساتھ مجلّد (Hard Cover) پیش کیا گیا ہے۔ بھرپور کا لفظ اس لئے لکھا ہے کیونکہ کتاب کے اندرونی صفحات پر نظر ڈالنے سے احساس ہوتا ہے کہ ڈیزائننگ یا سیٹنگ کے نام پر کاغذ کا ضیاع گناہ سمجھا گیا ہے۔ اور جس قدر نظمیں اس مجموعہ میں درج کی جاسکتی تھیں وہ شعری ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے پیش کردی گئی ہیں۔ آخری چند صفحات پنجابی زبان میں کہے گئے خوبصورت کلام سے آراستہ ہیں۔
اس کتاب میں شامل منظوم کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

آگئی خوفناک دھارے پر
میری کشتی لگا کنارے پر
ہوں مکیں قاتلوں کی بستی میں
میرے مالک ! ترے سہارے پر
ہو نگاہ کرم مرے معبود
مجھ سے مجبور غم کے مارے پر
…………………
احمدؐ سے قبل ملکِ عرب کا عجب تھا حال
وہ تیرگی تھی جس میں کہ جینا بھی تھا محال
صدیوں سے تھی محیط یہاں کفر کی گھٹا
حقانیت کو ، حق کو ، کوئی جانتا نہ تھا
آخر عرب کا چاند نمایاں ہوا یہاں
پل بھر میں ہو کے رہ گئیں تاریکیاں نہاں
…………………
آزادی بڑی چیز ہے رکھتی ہے شاد باد
پر حق سے جدا ہو تو کر دیتی ہے برباد
تہذیب کی بربادی تو آزادی نہیں ہے
تخریب کی آزادی تو آزادی نہیں ہے
مذہب کا امتناع تحفظ ہے ذات کا
تقلیدِ دین میں ہے بھلا کائنات کا
…………………
مسافت کا عزیزو مرحلہ دُشوار ہے اب بھی
ہمارے درمیاں جو تھی وہی دیوار ہے اب بھی
اداؤں کے بدلنے سے تو یارو کچھ نہیں بدلا
وہی تصویر ہے اب بھی وہی کردار ہے اب بھی
منورؔ ہے ابھی تک دل میں اپنے دید کی حسرت
نگاہوں کا جو کل تک تھا وہی اصرار ہے اب بھی
…………………
دل میں پھر امید کو مہمان کردے اے خدا
یاس کے ماروں کو پھر حیران کردے اے خدا
جانے کب سے چپکے چپکے رو رہی ہے زندگی
روز و شب کی مشکلیں آسان کردے اے خدا
کشتیاں اپنی بھنور سے جب نکالی ہیں تو پھر
دُور اپنی راہ سے طوفان کردے اے خدا
…………………
تُو بوئے گُل ہے ماں تُو ہی بادِ نسیم ہے
ماں تُو عظیم ہے ترا رتبہ عظیم ہے
تخلیق کا جو کرب ہے سہتی ہے ہنس کے تُو
اولاد میں ہے تیرے ہی اپنے لہو کی بُو
آنچل میں اپنے تُو ہے محبت لئے ہوئے
قدموں تلے تُو بیٹھی ہے جنت لئے ہوئے
اللہ کرے کہ ماں کا رہے سر پہ سائبان
جنت ہے ماں کے دَم سے مجھے تو یہی جہان
…………………
طاقِ دل

A5 سائز کے 224 صفحات پر مشتمل مجلّد کتاب ’’طاقِ دل‘‘میں نئے کلام کے علاوہ ایک گزشتہ کتاب ’’بیدار دِل‘‘ سے بھی انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ کتاب ٹائپنگ، سیٹنگ اور ڈیزائننگ کے اعتبار سے ایک عمدہ پیشکش ہے۔ اس مجموعہ میں زیادہ تر غزلیں شامل ہیں تاہم حمد و نعت کے حوالہ سے اشعار بھی شامل ہیں۔ ذیل میں اس مجموعہ کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

محتاجِ آبِ نُور ہے خاکِ بشر عجیب
روحوں کا منزلوں کی طرف ہے سفر عجیب
شبنم بکھیرتا ہوا آہیں بھرے فلک
ہر شامِ غم کے بعد ہے نورِ سحر عجیب
…………………
نفرتوں کی سرزمیں پر اک مکاں میرا بھی ہے
اور ستاروں سے پرے اک آسماں میرا بھی ہے
آ نہیں پاتا کہیں قابو میں حالِ عاشقی
گردشوں میں رات دن وہم و گماں میرا بھی ہے
…………………
تعریف اس کی کیا کوئی اہل قلم لکھے
جو دوسروں کو تُو لکھے اور خود کو ہم لکھے
…………………
بابِ الفت ہے کھلا کن کے لئے! اُنؐ کے لئے!
دشت ہے گلشن بنا کن کے لئے! اُنؐ کے لئے!
ناز پہ انداز پہ قربان اُن کے ہے جہاں
لمحہ لمحہ جاں فدا کن کے لئے! اُنؐ کے لئے!
…………………
جو باقی رہ گئے ہیں کام دیکھوں
کہ جسم و جان کا آرام دیکھو
زمانے کی حقیقت جانتا ہوں
جسے دیکھوں اسے بے نام دیکھوں
…………………
عشق میں کم ہمّتی ہے غم سے گھبرانے کا نام
زندگی ہے ہر قدم پر ٹھوکریں کھانے کا نام
دل میں کتنے جل گئے ہیں آرزؤں کے چراغ
ہم نے جس دن سے سنا ہے آپکے آنے کا نام
…………………
عمر بھر دشتِ ادب میں ہم سفر کرتے رہے
ہر ورق پر لفظ اپنے معتبر کرتے رہے
زندگی تجھ سے تو ہم نے کچھ نہیں مانگا مگر
جس طرح بھی تُو نے چاہا ہم بسر کرتے رہے
…………………
پھرتے ہیں بہت شہر میں بیکار وغیرہ
اب کچھ تو کرے ان کا بھی سرکار وغیرہ
ہاتھوں میں ہے تسبیح کے دانوں کا تسلسل
پہلو میں چھپا رکھی ہے تلوار وغیرہ
افلاس میں جی لینے کا جن کو ہے قرینہ
ہیں لوگ وہی آج بھی خوددار وغیرہ
…………………
ابرِ قبلہ

174 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں شاعر موصوف نے اپنی ایسی تمام کاوشوں کو شمار کیا ہے جو اسلام اور احمدیت کے تعلق میں کہی گئی ہیں۔ کتاب کا سرورق اگرچہ Soft ہے تاہم ڈیزائن اور گیٹ اَپ کے لحاظ سے موصوف شاعر کے دیگر مجموعوں کی طرح یہ کتاب بھی ایک عمدہ پیشکش ہے۔ اس کتاب میں سے انتخاب کرنا یقینا خاصا دشوار تھا۔ تاہم پھر بھی کوشش کی گئی ہے کہ مختلف مضامین سے تعلق رکھنے والے منتخب اشعار ہدیۂ قارئین کئے جائیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

اک مست قلندر رہتا ہے مولیٰ کے سہارے لندن میں
اور صدق کی چشمِ پُرنم کے ہوتے ہیں اشارے لندن میں
مغموم ہیں جن کی یادوں میں پانچوں ہی دریا چاہت کے
دھونی وہ رمائے بیٹھے ہیں اب ’’ٹیمز کنارے‘‘ لندن میں
احمدؐ کے گلستاں کا مالی بے آب زمینوں کو سینچے
جو رنگ ثمارِ الفت کے، وہ رنگ ہیں سارے لندن میں
ہجرت ہے جن کے پیروں میں مسکان ہے نوری چہرے پر
دُکھ جن کو ساری امّت کا ، ہیں وہ دکھیارے لندن میں
…………………
ایک ہی پرچم محمدؐ کا جسے حاصل دوام
احمدیت ہے اسی پرچم کو لہرانے کا نام
سلسلۂ احمدیت اِک جلالی شاں کے بعد
ہے جمالِ یارؐ کا اب بام پر آنے کا نام
وہ جو گلزارِ محمدؐ کی تھی خوشبو کھو چکے
احمدیت ہے اُنہیں پھولوں کو مہکانے کا نام
وہ چمن ایمان کا جو ہو گیا بے برگ و بار
احمدیت ہے اُسی پر پھر بہار آنے کا نام
…………………
وہ تیرگی میں اِک دیا
نہ آندھیوں سے بجھ سکا
اللہ کا بھیجا ہوا
وہ ایک مردِ باصفا
وہ عظمتِ اِدراک ہے
وہ ہی مسیحِ پاکؑ ہے
ہے بے خطا جس کی دعا
وہ بندۂ ربّ الوریٰ
وہ ہے غلام مصطفیؐ
جو ہے نبیؐ کے زیرِ پا
یہ وہ ہی دُرِ خاک ہے
وہ رفعتِ ادراک ہے
وہ ہی مسیحِ پاکؑ ہے
…………………
بے نیاز و بے گزند
تُو ہی سب سے ہے بلند
تیری بخشش کی نہ حَد
کی عطا تُو نے خرد
تیرا واحد ہے عدد
’’قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ‘‘
…………………
وہ بشر ہی کفر سے مامون ہے
یاد قرآں کا جسے مضمون ہے
اہلِ ایماں کا یہی قانون ہے
حق و باطل کی یہی پہچان ہے
مومنوں کا رہنما قرآن ہے
……………………
50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں