چینل ٹنلChannel Tunnel

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مئی2008ء میں مکرم طاہر احمد وجاہت صاحب کے قلم سے چینل ٹنل کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔
چینل ٹنل برطانیہ اور فرانس کو انگلش چینل (برطانیہ اور فرانس کے درمیان موجود سمندر) کے نیچے سے ملانے والی ایک 32 میل لمبی ریل سرنگ ہے۔ یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی ریل ٹنل ہے جو 1994ء میں مکمل ہوئی۔ سب سے زیادہ طویل سرنگ جاپان سیکن ٹنل کے نام سے موجود ہے۔
چینل ٹنل کو ’’یورو ٹنل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین سرنگیں ہیں۔ دو ٹیوبز بڑے اور مکمل سائز کی ہیں جہاں سے ریل ٹریفک گزرتی ہے جبکہ ان دونوں ریل ٹیوبز کے درمیان ایک چھوٹی سروس ٹنل ہے جو ایمرجنسی میں باہر نکلنے کے لئے ہے۔ سرنگ میں کئی ایک ایسے دوراہے بھی بنائے گئے ہیں جہاں سے ٹرینیں ایک ٹریک سے دوسرے ٹریک پر راستہ تبدیل کر سکتی ہیں۔
چینل ٹنل کا منصوبہ ایک بہت مہنگا منصوبہ تھا۔ اور انگلش چینل سے سینکڑوں فٹ نیچے یہ طویل سرنگ کھودنے میں تین سال لگے۔
نپولین بونا پارٹ کے دور حکومت میں 1802ء میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان ایک سرنگ کی تجویز پیش کی گئی تھی جس میں ہوا کی گزرگاہ کے لئے چمنیاں بنائی جانی تھیں اور اسے گیس لیمپوں کے ذریعے روشن کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن اس وقت تکنیکی اعتبار سے یہ ڈیزائن ممکن نہ تھا۔ 1880ء کی دہائی میں ٹنل کے کچھ حصے بنائے گئے لیکن برطانوی فوج کے اس خدشہ اور اعتراض پر کہ اس کے ذریعے برطانیہ پر بیرونی حملہ آسان ہوجائے گا حکومت نے یہ منصوبہ ترک کر دیا۔
1974ء میں دوبارہ یہ منصوبہ شروع ہوا لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ اس کے بعد جب برطانیہ یورپی یونین میں شامل ہوا تو ایک مستقل رابطے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ 1986ء میں برطانیہ اور فرانس کے ایک مشترکہ کنسورشیم ’’یورو ٹنل‘‘ کو اس کی تعمیر کا ٹھیکہ دے دیا گیا کہ وہ گاڑیوں کی ترسیل کے لئے ایک ریل شٹل سروس اور ایک مسافر ٹرین کے لئے دو سرنگیں تیار کرے۔ چنانچہ 1994ء میں یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
سمندر کی تہہ سے تقریباً 150 فٹ نیچے واقع چینل ٹنل 20 ویں صدی میں انجینئرنگ کا اہم ترین کارنامہ ہے۔ اپنے وقت کا یہ دنیا کا مہنگا ترین تعمیراتی منصوبہ تھا جس کی تکمیل پر 21 بلین ڈالر لاگت آئی۔ اس چینل کی تعمیر کے لئے جو بورنگ مشینیں استعمال ہوئیں وہ خود فٹ بال کے دو گراؤنڈز کی لمبائی سے زیادہ تھیں اور روزانہ 250 فٹ بورنگ کر سکتی تھیں۔ چینل ٹنل 50کلومیٹر لمبی ہے جس میں سے 39 کلومیٹر سرنگ سمندر کی تہہ کے نیچے ہے۔
پہلے پانچ سالوں میں یہاں سے گزرنے والی ٹرینوں سے 28ملین مسافروں نے سفر کیا اور 12 ملین ٹن سے زیادہ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا گیا۔ اس ٹنل سے ٹرینیں 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتی ہیں اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک صرف 20منٹ میں پہنچ جاتی ہیں۔ اس چینل کے افتتاح کے صرف ایک سال بعد ہی یہاں پہلا حادثہ پیش آیا جب فرانس سے آنے والی ٹرین میں آگ لگ گئی اور 21 مسافر اس میں پھنس گئے لیکن سروس ٹنل کے ذریعے وہ بحفاظت نکال لئے گئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ekcWh]

اپنا تبصرہ بھیجیں