کافی (COFFEE) – عرب کا مقبول ترین مشروب

سب سے پہلے کافی کا تذکرہ دسویں صدی عیسوی میں ملتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کا پودا حبشہ کے کوہستانی علاقوں سے پہلے یمن میں آیا اور پھر ساری دنیا میں پھیلا۔ ایک روایت ہے کہ ایک صوفی شیخ الشاولی نے حبشہ کے ایک پہاڑ کے دامن میں کچھ بکریاں دیکھیں جو خوش ہوکر چھلانگیں مار رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی اور وہ اس جستجو میں لگ گئے کہ آخر یہ بکریاں معمول سے زیادہ چاق و چوبند کیوں ہیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ بکریاں ایک عجیب و غریب گوندنی جیسا پھل کھارہی ہیں۔ جب شیخ نے پھل کو چکھا تو ذائقہ کڑوا تھا چنانچہ انہوں نے اسے ابال کر اس کا پانی پیا تو مزہ اگرچہ کڑوا ہی تھا لیکن شیخ کا دماغ کشادہ ہوگیا اور نیند غائب ہوگئی چنانچہ وہ اپنے ساتھ یہ پھل یمن لے آئے جو بہت جلد مرغوب ہوگیا۔ لیکن کچھ مذہبی حلقوں نے اسے نشاط انگیز قرار دیتے ہوئے نشہ آور اشیاء میں شامل کردیا۔ ابھی کافی کا نشہ آور ہونا یا نہ ہونا زیر بحث تھا کہ یہ مشروب مکہ اور مدینہ میں بھی استعمال ہونے لگا اور بہت سے کافی ہاؤس کھل گئے جہاں رات گئے تک موسیقی اور کھیلوں وغیرہ کا بھی انتظام ہوتا تھا۔
1511ھ میں مکہ کے ترک فوجی گورنر نے عشاء کی نماز کے بعد خانہ کعبہ کے قریب اچانک قہقہوں کی آوازیں سنیں تو دیکھا کہ دس پندرہ سپاہی اکٹھے بیٹھے کافی پی رہے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ جس چیز کو پی کر تم ادب و اخلاق کے بنیادی اصول بھی بھول گئے ہو اور خانہ کعبہ کے سامنے بے ہودگی پر اتر آئے ہو وہ کبھی بے ضرر نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ گورنر نے سپاہیوں کو کوڑوں کی سزا دی اور اگلے روز سے ممتاز ماہرین قانون اور منصفین کی باقاعدہ بحث شروع ہوگئی کہ کافی جائز ہے یا ممنوع۔ سات روز کی گرما گرم بحث کے بعد فیصلہ ہوا کہ اجتماعی طور پر اور بازاروں وغیرہ میں کافی پینے پر پابندی لگادینی چاہئے۔ چنانچہ اسی روز سارے کافی ہاؤس بند کرواکے ان کا سامان ضبط کرلیا گیا۔ لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور نہ صرف گورنر پر بعض حکمرانوں کی طرف سے اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لئے کہا گیا بلکہ جب ترکوں نے مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں کافی کو رائج رکھا اور پھر سلطان سلیمان کے دور حکومت میں دو تاجروں نے قسطنطنیہ میں سب سے پہلا کافی ہاؤس کھولا۔ جلد ہی کئی کافی ہاؤس کھولے گئے جہاں شاعر، ادیب اور سرکاری افسر وغیرہ جمع ہوا کرتے اور کافی ہاؤس کو مدرسہ علم کا درجہ مل گیا۔
1582ء میں لیونارڈ راؤلف نے مشرق وسطیٰ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے سفرنامے میں مسلمانوں کے اس مشروب کا عمدگی سے ذکر کیا ہے جو روشنائی کی طرح سیاہ ہے اور پیٹ کی امراض کیلئے بڑا مفید ہے۔
1863ء میں جب ترک فوج ویانا کا محاصرہ کئے ہوئے تھی اور اسے باقی ملک سے کاٹ دیا تھا تو پولینڈ کا ایک باشندہ جس کا نام فرانز جارج کاشٹز تھا ویانا سے بھیس بدل کر نکلا اور ترک لباس میں ترک گانا گاتا ہوا ترک فوج کو چکمہ دے کر ڈیوک آف لارین کے پاس مدد کی درخواست لے کر پہنچ گیا۔ جلد ہی ڈیوک نے مسلح مداخلت کرکے ترکی کی فوج کو محاصرہ ترک کرنے پر مجبور کردیا۔ فرانز کی خدمات کے اعتراف میں اس کو ویانا کے شہریوں نے شکریہ کے طور پر دو ہزار سونے کے سکے اور ویانا کے شہری حقوق دیتے ہوئے تجارت کی اجازت بھی دی۔ اسی جنگ و جدل کے دوران ترکوں کے کیمپ سے پانچ سو بڑے تھیلے بھی لوٹ لئے گئے جن میں عجیب خوشبودار بیج بھرے ہوئے تھے۔ اگرچہ لوٹنے والوں کو معلوم نہ تھا کہ یہ کیا چیز ہے لیکن فرانز کو معلوم تھا۔ اس نے یہ تھیلے مانگ لئے اور پھر ویانا میں پہلا کافی ہاؤس کھول دیا۔ اس کے بعد سترھویں صدی میں کافی پینے کا رواج سارے یورپ میں پھیل گیا۔
سرزمین عرب کے مقبول ترین مشروب کے بارے میں یہ معلوماتی تاریخی مضمون جناب علی اسد صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍اکتوبر 1997ء میں ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کے شکریہ کے ساتھ شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں