کرسمس۔ چند حیرت انگیز حقائق

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21 دسمبر 2011ء میں کرسمس کے چند حقائق کا بیان مکرم ظافر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ جو جناب جاوید شاہین کی کتاب ’’مانیں نہ مانیں ‘‘ سے ماخوذ ہے۔
25دسمبر کا دن دنیا میں کرسمس کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے حضرت عیسیٰ ؑکی پیدائش کا دن تصور کیاجاتا ہے اور مغربی دنیا میں خاص کر اہم تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔ جبکہ قرآن کریم سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑکی پیدائش اگست کے مہینے میں ہوئی نہ کہ25دسمبرکو ۔
کئی کتب کا مصنّف ڈیل کار نیگی 24 نومبر 1888ء کو امریکہ میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی کتاب “Five Minuites biographies” میں حضرت مسیحؑ کے باب میں ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں دنیا میں پائے جانے والے مختلف اختلافات کا ذکر کیا ہے۔ان میں سے چند ایک پیش ہیں ۔
سب سے پہلے پیورٹین کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیحؑ کرسمس کے دن پیدا نہیں ہوئے۔ چنانچہ بعض مؤرخین نے ان کی تاریخ پیدائش 25؍مئی ثابت کی اور بعض نے 19؍اپریل۔ جبکہ بعض کے مطابق حضرت مسیحؑ 17؍نومبر کوپیدا ہوئے تھے۔ بہرحال جدید مؤرخین حضرت مسیحؑ کی پیدائش کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔
’’بیت اللحم‘‘ جہاں حضرت مسیح ؑپیدا ہوئے تھے وہاں بھی سال میں تین مختلف اوقات میں کرسمس منایا جاتا ہے۔ ایک گروہ 25دسمبر کو کرسمس مناتا ہے۔دوسرا 4جنوری کو اور تیسرا 18جنوری کو۔ اسی طرح ایبے سینیا میں 7 اور 19 جنوری کو کرسمس منایا جاتا ہے۔
کرسمس کے خلاف قوانین
کئی سال قبل کرسمس منانے کو مغربی دنیا میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔300برس پہلے جب نیوانگلینڈ برطانیہ کی ایک دُور افتادہ نَوآبادی ہوتا تھا اور وہاں پر پیورٹین کی حکومت تھی تو وہاں کی ایک جرمن عورت جو کہ کرسمس منا رہی تھی اور اپنے صحن کے بیچ میں ایک درخت کو گاڑکر اورسجا کر اپنے بچوں سمیت اس کے گرد ناچ رہی تھی اور ساتھ ساتھ حضرت مسیح کی پیدائش کے گیت بھی گا رہی تھی، اُس کو گاؤں کے جرگہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اسے اس جرم میں گاؤں بدر اور مذہب سے بے دخل کر دیا گیا ۔
پیورٹین کے زمانہ میں کرسمس منانے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس دن چھٹی بھی نہ کرتے تھے اور اسے خدا کی ہتک گردانتے تھے۔ انہوں نے ایک قانون بھی پاس کردیا جس کی رُو سے کرسمس منانے والے کو جرمانہ اور سخت بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا۔ کرسمس کے دنوں میں سارا انگلینڈ ایک سوگوار بیوہ کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ بعد میں جب عیسائیت کو روم کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا تو اس وقت ’’سرطانالیہ‘‘ نامی ایک تہوار کو کرسمس میں مدغم کر کے منایا جانے لگا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/C1iHc]

اپنا تبصرہ بھیجیں