کیپٹن ایم۔اے جیلانی کا قبول احمدیت

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اکتوبر1997ء میں حوالدار کلرک مکرم عبدالرحمٰن دہلوی صاحب، کیپٹن ایم۔اے جیلانی صاحب کا قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجھے مزید ٹریننگ کے لئے رنگون (برما) سے سنگاپور بھجوایا گیا جہاں میری یونٹ میں روزانہ بحث مباحثہ ہوا کرتا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ اس میں ہندو، سکھ، عیسائی سب بولتے ہیں مگر مسلمان کلرکوں پر سکوت کا عالم طاری ہوتا ہے۔ دو دن تک تو میں تماشا دیکھتا رہا اور تیسرے دن کھڑے ہوکر میں نے بھی تقریر کی ۔ تقریر ختم ہوئی تو پریذیڈنٹ مباحثہ کیپٹن ایم۔اے جیلانی کہنے لگے کہ مباحثہ ختم ہو تو میں دفتر آ جاؤں۔ میں بہت گھبرایا کہ نہ جانے کیا غلط بات کہہ دی ہے یا حکومت کے خلاف کچھ کہہ دیا ہے۔ بہرحال بادل نخواستہ ڈرتا ڈرتا دفتری اوقات کے بعد کیپٹن صاحب کے سامنے پہنچا اور ان کے کہنے پر سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ پوچھنے لگے ’’تمہاری تعلیم کیا ہے؟‘‘۔ میں نے کہا میری تعلیم تو کچھ بھی نہیں ہے۔ کہنے لگے جھوٹ نہ بولو، سچ سچ بتاؤ تم نے گریجوایشن کہاں سے کیا ہے، علی گڑھ یا کہیں اور سے؟ میں نے جواب دیا کہ جناب والا میرا شیٹ رول آپ کے پاس ہے، چیک کرلیں میری کوئی تعلیم نہیں ہے۔ وہ بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ کہاں کے رہنے والے ہو۔ میں نے کہا دہلی کا۔ پوچھا بھرتی کہاں ہوئے؟ کہا: جالندھر میں۔ کہنے لگے ہندوستان کے دارالخلافہ کے رہنے والا بھرتی ہونے جالندھر جیسے گاؤں میں کیسے چلا گیا۔ میں نے جواب دیا ’’جناب والا! اس وقت میں قادیان میں رہتا تھا‘‘۔ کہنے لگے اچھا تو تم احمدی ہو۔ میں نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگے ’’اب معاملہ صاف ہوگیا ہے، اب مجھے احمدیت کے متعلق بتاؤ … روزانہ دفتری اوقات کے بعد میرے دفتر میں آجایا کرو‘‘۔ چنانچہ میں روزانہ چھٹی کے بعد کیپٹن صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا اور انہیں تفصیل سے احمدیت کی تعلیم سے آگاہ کرتا۔
جیلانی صاحب نے بتایا کہ وہ ہوشیارپور کے رہنے والے ہیں، ان کے خاندان کے افراد بہت تعلیم یافتہ ہیں اور مستورات ایک اردو رسالہ بھی نکالتی ہیں۔… ان دنوں محترم مولانا غلام حسین ایاز صاحب سنگاپور میں مبلغ سلسلہ تھے، میں روزانہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ جیلانی صاحب کی خواہش پر میں محترم ایاز صاحب کو روزانہ جیلانی صاحب کی رہائشگاہ پر لے جاتا رہا اور اس طرح تبلیغی بات چیت آگے بڑھتی رہی۔ تقریباً 5 روز بعد کیپٹن جیلانی صاحب نے بیعت فارم پر دستخط کرکے قبولِ احمدیت کی سعادت پالی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں