ہر طرف ٹوٹتی سانس کی ہچکیاں ، یہ شب و روز گویا سزا ہو گئے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم جولائی 2010ء میں شائع ہونے والی مکرم انور ندیم علوی صاحب کی نظم سے انتخاب پیش ہے۔ اس نظم میں شہدائے لاہور کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

ہر طرف ٹوٹتی سانس کی ہچکیاں ، یہ شب و روز گویا سزا ہو گئے
نفرتوں کی وہ ظالم چلی آندھیاں ، کتنے پتے شجر سے جدا ہو گئے
تُو نے انساں بنایا کرے بندگی ، پر اجیرن ہوئی آہ یہ زندگی
بھول کر بندگی کے سبھی یہ چلن، تیرے بندے خدایا ! خدا ہو گئے
آپ کی چاہ جرم و خطا بن گئی ، ایک ظالم کی مظلوم سے ٹھن گئی
میرے خوابوں پہ بھی اب ہیں پہرے لگے، جرم ناکردہ میری خطاہو گئے
اے نسیم سحر! ان کو جا کر بتا ، ان کی چاہت میں ذرہ بھی اختر بنا
قافلہ جاں نثاروں کا جونہی چلا، اشک پلکوں پہ آ کر دعا ہو گئے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/trvyc]

اپنا تبصرہ بھیجیں