ہفت روزہ ’’بدر‘‘ کا سیدنا طاہر نمبر

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان نے دسمبر 2003ء کے آخری ہفتہ کا شمارہ بطور ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ شائع کیا ہے۔ بڑے سائز کے 80 سے زائد صفحات پر مشتمل یہ شمارہ خلافت کی اہمیت، تاریخ اور حضورؒ کی سیرۃ کے حوالہ سے بہت سے قیمتی مضامین اور چند یادگار تصاویر پر مشتمل ہے۔

اراکین مجلس انتخاب سے تاریخی خطاب

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے خلافت کے نہایت ہی بابرکت منصب پر متمکن ہونے کے معاً بعد اراکین مجلس انتخاب خلافت سے خطاب کے دوران فرمایا: ’’مَیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ اپنے لئے بھی دعائیں کریں اور میرے لئے بھی دعائیں کریں۔

رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَالَاطَاقَۃَ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِین۔

یہ ذمہ داری اتنی سخت ہے، اتنی وسیع ہے اور اتنی دل ہلا دینے والی ہے کہ اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کا بستر مرگ پر آخری سانس لینے کے قریب یہ فقرہ ذہن میں آجاتا ہے: اللّٰھُمَّ لَالِی وَلاعلَیَّ۔ یہ درست ہے کہ خلیفۂ وقت خدا بناتا ہے اور ہمیشہ سے میرا اسی پر ایمان ہے اور مرتے دم تک، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس پر ایمان رہے گا۔ یہ درست ہے کہ اس میں کسی انسانی طاقت کا دخل نہیں اور اس لحاظ سے بحیثیت خلیفہ اب مَیں نہ آپ کے سامنے، نہ کسی کے سامنے جوابدہ ہوں۔ نہ جماعت کے کسی فرد کے سامنے جوابدہ ہوں۔ لیکن یہ کوئی آزادی نہیں کیونکہ مَیں براہ راست اپنے ربّ کے حضور جوابدہ ہوں۔ آپ تو میری غلطیوں سے غافل ہوسکتے ہیں، آپ کی میرے دل پر نظر نہیں۔ آپ شاہدوغائب کی باتوں کا علم نہیں جانتے۔ میرا ربّ میرے دل کی پاتال تک دیکھتا ہے۔ اگر جھوٹے عذر ہوں گے تو انہیں قبول نہیں فرمائے گا۔ اگر اخلاص اور پوری وفا کے ساتھ، تقویٰ کو مدّنظر رکھتے ہوئے مَیں نے کوئی فیصلہ کیا تو اس کے حضور صرف وہی پہنچے گا۔ اس لئے میری گردن کمزوروں سے آزاد ہوئی لیکن کائنات کی سب سے زیادہ طاقتور ہستی کے حضور جھک گئی اور اس کے ہاتھوں میں آئی ہے۔ یہ کوئی معمولی بوجھ نہیں۔ میرا سارا وجود اس کے تصور سے کانپ رہا ہے کہ میرا ربّ مجھ سے راضی رہے، اُس وقت تک زندہ رکھے جس وقت تک مَیں اس کی رضا پر چلنے کا اہل ہوں اور توفیق عطا فرمائے کہ ایک لمحہ بھی اس کی اطاعت کے بغیر مَیں نہ سوچ سکوں، نہ کرسکوں، وہم و گمان بھی مجھے اس کا پیدا نہ ہو۔ سب کے حقوق کا خیال رکھوں اور انصاف کو قائم کروں جیسا کہ اسلام کا تقاضا ہے کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ انصاف کے قیام کے بغیر احسان کا قیام ممکن نہیں اور احسان کے قیام کے بغیر وہ جنت کا معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا جسے ایتاء ذی القربیٰ کا نام دیا گیا ہے۔…‘‘

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں