آنکھ میں تم ہو مری سانس میں چلتے تم ہو — نظم
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -2- مئی 2026ء)
خلافت احمدیہ کے حوالے سے کہا گیا مکرم بشارت محمود طاہر صاحب کا کلام روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍مئی 2015ء میں شامل اشاعت ہے۔ اس خوبصورت نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

آنکھ میں تم ہو مری سانس میں چلتے تم ہو
دل ہو ، ارمان ، سینے میں مچلتے تم ہو
میرے اپنے ہو مرے درد میں جلتے تم ہو
غم مجھے ہو تو مرے غم میں پگھلتے تم ہو
دکھ کے صحرا میں بہاروں کی علامت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو
اُس کو کہنا کہ اداسی میں گزر ہوتی ہے
زندگی اب تری راہوں میں بسر ہوتی ہے
اپنی حالت پہ کہاں میری نظر ہوتی ہے
تری ہستی مری آنکھوں کا گہر ہوتی ہے
حسن کا راز ہو جذبوں کی امانت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو

مجھ کو حسرت ہے تجھے سامنے چلتا دیکھوں
ساری دنیا کو ترے عشق میں جلتا دیکھوں
تیرا گلزار سدا پھولتا پھلتا دیکھوں
تیرے ہر لفظ سے قسمت کو بدلتا دیکھوں
حُسن میں چاند اداؤں میں قیامت تم ہو
دورِ حاضر میں مسیحا کی کرامت تم ہو
