حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍جون 2026ء)

حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ (یکے از 313؍اصحاب احمدؑ) ولد سلطان بخش صاحب کی سیرت کا بیان روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍مارچ 2014ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ نہایت نیک اور صوفی مزاج بزرگ تھے۔ محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام سننے کے بعد ابتداء میں ہی ایمان لے آئے۔ آپؓ کی بیعت کا اندراج ’’رجسٹر بیعتِ اولیٰ‘‘ میں 7؍فروری1892ء کی تاریخ میں درج ہے۔ حضورعلیہ السلام نے 313؍کبار صحابہ مندرجہ ‘‘انجام آتھم’’ میں آپؓ کا نام 216ویں نمبر پر درج فرمایا ہے۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ

آپؓ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کے چچا تھے۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کی والدہ ان کے بچپن میں وفات پاگئی تھیں۔ چنانچہ ان کی پرورش اور دیکھ بھال ان کی چچی حضرت برکت بی بی صاحبہؓ (اہلیہ محترمہ حضرت مولابخش صاحبؓ) نے کی تھی۔ حضورعلیہ السلام اور خلافت سے آپؓ کو جو عقیدت تھی اس کا اندازہ اُس نصیحت آموز خط سے ہوسکتا ہے جو حضرت مولابخش صاحبؓ نے اپنے بھتیجے کو لکھا تھا اور حضرت عرفانیؓ نے اس کا ایک حصہ اخبار بدر میں شائع کردیا۔ قادیان میں رہائش کو ایک آزمائش قرار دیتے ہوئے آپؓ لکھتے ہیں:
یہ باغ عدن دنیا میں ہے اس لیے شیطان کی آزمائش کا بھی اندیشہ ضروری ہے اس لیے مَیں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ سب پھل کھانا مگر خودپسندی اور عیب چینی کا پھل نہ کھانا۔ (رَبَّنَا لَاتُشْمِتْ بِنَاالْاَعْدَاءَ وَلَاتَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْن۔ آمین) قادیان رہنے میں تجھ کو یہ بھی تاکید کرتا ہوں کہ زیادہ اختلاط عوام الناس سے کرنا اچھا نہیں۔ نہ تکبر و انانیت کی رُو سے بلکہ بےجا تکلّفی کے سبب سے بھی کیونکہ اس سے بےلطفی پیدا ہوجاتی ہے جس کا آخری نتیجہ بدمزگی، رنجش اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ اپنے کام سے فارغ ہوکر خلوت میں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہنا چاہیے۔ اپنی سیلف ریسپیکٹ کا خیال بھی ضروری ہے۔ حضرت اقدسؑ کے وعظ وپند سے مستفیض ہونا اور اُن کی عملی زندگی کے رنگ سے رنگین ہونے کی سعی کرنا چاہیے۔ اور مولانا نورالدین صاحبؓ اور مولانا عبدالکریم صاحبؓ جیسے اشخاص کی صحبت سے فیض اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ لوگ علاوہ دنیوی امور میں تجربہ اور وجاہت رکھنے کے دینی امور میں صادق اور راسخ الایمان ہیں۔ تکبر سے بچنا اور سب سے خندہ پیشانی سے ملنا۔ ہر ایک کام خشیۃاللہ سے شروع کرنا چاہیے۔ کیونکہ سلیمان کہتا ہے کہ خدا کا خوف حکمت کا آغاز ہے اور قرآن کہتا ہے کہ جس کو حکمت دی گئی اُسے خیرکثیر دی گئی۔ امام کے پاس بیٹھنا، اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی مشکل کام نہیں مگر ہر وقت دعا مانگنی چاہیے کہ خداتعالیٰ صدق نیت عطا کرے اور ایسا نہ ہو کہ ہم کسی کے لیے ٹھوکر کا پتھر بن جائیں۔ یہودااسکریوطی بھی مسیحؑ کے ساتھ رہتا تھا اور پطرس بھی۔ پس ہمیشہ دعا اور استغفار کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک عہد پر قائم رکھے جو امام الوقت کے ہاتھ پر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو اپنی ضرورتوں کا متکفّل نہیں بنانا چاہیے اور نہ اُس کی رضاجوئی کو چھوڑ کر اپنی غرض کو پیش نظر رکھ کر کوئی کام کرنا چاہیے۔ وہ اُن کے لیے ہی مولیٰ اور وکیل ہوتا ہے جو اُس سے رشتہ عبودیت کا سچ مچ گانٹھ لیتے ہیں۔ (ماخوذ)
حضرت شیخ صاحبؓ اور آپؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت برکت بی بی صاحبہؓ بھی ابتدائی موصیان میں سے تھے۔ دونوں کا وصیت نمبر 229 ہے۔ اہلیہ محترمہ نے 29؍جنوری1911ء میں لاہور میں وفات پائی جبکہ آپؓ نے 14؍فروری1928ء کو وفات پائی۔ دونوں بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہیں۔ خداتعالیٰ نے اس جوڑے کو تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں