’’سوانح عمری حضرت محمد صاحب‘‘

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ
انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍مئی2014ء میں ایک منصف مزاج آریہ پرکاش دیوجی کی کتاب ’’سوانح عمری حضرت محمد صاحب‘‘ سے متعلق ایک مختصر مضمون مکرم انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑمذکورہ کتاب کا تذکرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اس پُرآشوب زمانہ میں کہ ہر ایک فرقہ خواہ آریہ ہیں خواہ پادری صاحبان دیدہ دانستہ کئی طور کے افتراء کرکے ہمارے سیّدومولیٰ آنحضرتﷺ کی توہین اور اسلام کی تحقیر کو بڑا ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں آریہ قوم میں سے ایسا منصف مزاج پیدا ہونا جو برہمو مذہب رکھتے ہیں نہایت عجیب بات ہے۔ مؤلف کتاب نے اپنی دیانت داری اور انصاف پسندی اور حق گوئی اور بےتعصّبی کا عمدہ نمونہ دکھلایا ہے۔‘‘
پرکاش دیوجی کی تحریر سے اخذ کردہ چند اقتباسات ذیل میں ہدیۂ قارئین ہیں:
٭… حضرت محمد صاحب بانیٔ مذہب اسلام منجملہ ان بزرگ اشخاص کے ہیں جنہوں نے قانونِ قدرت کے موافق جہالت اور تاریکی کے زمانے میں پیدا ہوکر دنیا میں بہت کچھ صداقت کی روشنی کو پھیلایا اور لوگوں کو روحانی و دنیاوی ترقی کا راستہ دکھایا ہے۔ جس طرح ہندوستان کو شاکیہ حسن گوتم عرف بدھ اور راجہ رام موہن رائے اور فارس کو زرتشت اور چین کو کنفیوشس اور یہودیہ کو حضرت عیسیٰ کے وجود پر فخر ہے ویسے ہی ریگستانِ عرب کے لیے محمد صاحب کا وجود اس کی عزت و عظمت کا باعث ہے بلکہ آنحضرت کی ذات سے جو جو فیض دنیا کو پہنچے ان کے لیے نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کو ان کا شکرگزار ہونا مناسب ہے۔
٭… محمد صاحب سے پہلے دنیا میں بہت سے نبی گزر چکے تھے اور ان میں سے بعض جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح نہایت اولوالعزم پیغمبر تھے لیکن اُن کی رسالت اور آنحضرت کی رسالت میں یہ بڑا فرق تھا کہ وہ نبی صرف اپنے بھائیوں یعنی بنی اسرائیل کی ہدایت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ حضرت موسیٰ کی نبوت اور ان کی کُل زندگی بنی اسرائیل اور ان کے ہی معاملات میں صرف ہوئی۔ حضرت مسیح بھی ہمیشہ یہی فرماتے رہے کہ مَیں بنی اسرائیل کی بھولی بھٹکی بھیڑوں کو راستہ دکھانے آیا ہوں۔ چنانچہ انہی کی ہدایت میں لگے رہے۔ لیکن آنحضرت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مَیں بنی اسماعیل کی ہدایت کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے تمام دنیا کو اپنا بھائی جانا اور سب کو یکساں محبت اور دردمندی سے پیغامِ الٰہی سنایا۔ بادشاہوں کے شان و شکوہ کا رعب بھی انہیں پیغامِ الٰہی کے پہنچانے سے مانع نہیں ہوتا تھا۔ وہ جس آزادی سے ایک ادنیٰ غریب آدمی کو صداقت کی طرف بلاتے تھے اسی آزادی سے بےدھڑک عظیم الشان بادشاہوں اور شہنشاہوں کو پیغامِ حق بھیجتے تھے۔
٭…حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی تفصیل کے ساتھ کتاب میں بیان کیا گیا ہے جو ابوجہل اور دیگر مشرک سرداروں کی طرف سے ایک سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں آکر گھر سے تلوار لے کر آنحضورﷺ کے قتل کے لیے نکلے لیکن راستے میں کسی کے یہ بتانے پر کہ اُن کی بہن اور بہنوئی بھی ایمان لاچکے ہیں، اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ پہلے اُن کو دھمکایا لیکن اُن کے اصرار پر حضرت خبابؓ سے قرآن کریم سننے کی خواہش کی جنہوں نے سورۃ طٰہٰ کی چند آیات سنائیں۔ (ان آیات کا ترجمہ مصنف نے تحریر کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ) عمر جنہیں ہم آئندہ حضرت عمر کہیں گے، یہ کلام سن کر بےخود ہوگئے اور اُن کو بےاختیار ہوکر کہنا پڑا کہ یہ انسانی کلام نہیں، یہ کچھ اَور چیز ہے۔ پھر درخواست کی گئی کہ مجھے آنحضرتؐ کی خدمت میں لے چلو۔ چنانچہ خباب کے ہمراہ ارقم کے گھر پہنچے جہاں مسلمان کفار کی طرف سے قتل کے انعام کا اعلان سُن کر خوف زدہ ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ دروازہ کھولیں لیکن آنحضرتؐ نے خود اُٹھ کر دروازہ کھولا۔ شجاع عمر کی کیفیت یہ بھی کہ تلوار اُن کے گلے میں اس طرح پڑی تھی جس طرح بےہتھیار ہارے دشمن کی، آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ چاہا کہ قدموں پر گر پڑیں۔ حضرت نے گلے سے لگالیا اور اس قدر جوش محبت سے بغلگیر ہوکر ملے اور اس محبت سے اُن کی پیشانی پر بوسہ دیا جس طرح کوئی مدّتوں کے بچھڑے ہوئے سگے بھائی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ تمام مسلمانوں میں یہ خوشی کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی۔

٭…11؍ہجری میں محمد صاحب کو معلوم ہوگیا کہ جس مطلب کے لیے خدا نے مجھ کو پیدا کیا تھا وہ ہوچکا۔ اور یقین کرلیا کہ اب میری موت کے دن قریب ہیں۔ تب انہوں نے ایک الوداعی حج کرنے کی ٹھانی اور قافلہ مکہ روانہ ہوا۔ آمنہ کا وہی یتیم بچہ جیسے دائی حلیمہ پرورش کے لیے لینے میں بھی تامل کرتی تھی وہی شخص جسے مکہ میں کوئی پناہ نہ دیتا تھا اور جسے بھاگتے وقت صرف دو جاں نثار رفیق ملے کہ ایک بستر پر لیٹا اور ایک نے اُن کے ساتھ جان جوکھوں میں ڈال کر پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی۔ کچھ خیال کرسکتے ہو کہ آج اس کے جھنڈے کے نیچے کتنے آدمی ہیں؟ آج اس کے ساتھ ایک لاکھ چوبیس ہزار خداپرست (تعداد بیان کرنے میں مصنف سے غلطی ہوئی ہے) میدانِ عرفات میں خدائے واحد کے حضور سرننگے کھڑے، بِن سلے کپڑے کفن کی طرح پہنے، امیری غریبی کا فرق دُور کیے، میدانِ حشر کو نمونہ بنائے کھڑے ہیں۔ اللہ اکبر صداقت کی کامیابی! کیسا عالیشان نظارہ ہے!!
اس کے بعد مصنف نے خطبہ حجۃالوداع کے چند اقتباسات بھی بیان کیے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام برہمو صاحب کی بعض عبارتیں خلاصۃً بیان کرکے تحریر فرماتے ہیں:
’’برہمو صاحب کی کتاب میں ایک دو جگہ خفیف غلطی پائی گئی ہے۔ یہ بشریت ہے۔ مگر یہ تو ممکن نہیں تھا کہ ایک مسلمان کی طرح اُن کی تقریر ہوتی۔ ایسی صورت میں شبہات پیدا ہوتے اور کچھ اثر نہ ہوتا۔‘‘
آخر میں حضورعلیہ السلام نے کتاب کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی رقم فرمایا:
’’آپ کی کتاب … کے دیکھنے سے آپ کی انصاف پسندی اور حُسنِ اخلاق اور خداترسی اور وسعتِ معلومات ثابت ہوتی ہے۔ …درحقیقت دوسری قوموں میں اس طبیعت اور سلامت روش اور حق گوئی کی عادت کے لوگ بہت کم ہیں۔ مَیں آپ کی کتاب دیکھنے سے بہت خوش ہوا۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں