فِن لینڈ (Finland)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …2؍جون 2026ء)
فِن لینڈ کا پرانا نام Suomi تھا۔ 1917ء میں اسے آزادی ملی۔روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍اپریل2014ء میں فِن لینڈ کے بارے میں مکرم مدثر احمد صاحب کا ایک تفصیلی معلوماتی مضمون شاملِ اشاعت ہے۔
فِن لینڈ کا رقبہ تین لاکھ اڑتیس ہزا ر ایک سو کلومیٹر اور آبادی (2025ء کے مطابق) 56؍لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ فِن لینڈ کو جھیلوں کی سرزمین بھی کہتے ہیں۔ اس میں قریباً ایک لاکھ 87؍ہزار جھیلیں واقع ہیں۔ ملک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر Helsinki ہے۔ دیگر بڑے شہروں کی تعداد قریباً سولہ ہے۔ شہروں کے قریب لکڑی کا کارخانہ قائم کرکے لکڑی کی مختلف اشیاء تیار کرکے برآمد کی جاتی ہیں۔ لکڑی کے فالتو ٹکڑوں اور چھلکوں کو ساتھ ہی بنائے جانے والے بجلی گھروں میں لے جاکر جلایا جاتا ہے اور بھاپ پیدا کی جاتی ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہی بھاپ پائپوں کے ذریعے شہر کے مرکز اور بازار اور فٹ پاتھ وغیرہ کے نیچے سے یوں گزاری جاتی ہے کہ اس کی گرمی سے گرنے والی برف پگھلتی رہتی ہے۔ بھاپ کے پائپ مختلف گھروں میں پہنچتے ہیں اور اُن کو گرم کرنے کے علاوہ گرم پانی بھی مہیا کرتے ہیں۔ اسی طرح قریباً ہر گھر میں Sauna Bath استعمال ہوتا ہے تاکہ جسم سے مصنوعی طور پر پسینہ نکالنے کا عمل کیا جاسکے۔
ملک میں آمدورفت کا بہترین انتظام ہے۔ ریلوے اور بسوں کا نیٹ ورک ہر قسم کے موسم میں فعال رہتا ہے۔ ذاتی گاڑیوں کے لیے ایک سسٹم ہر جگہ مفت میسر ہے جس میں آپ اپنی گاڑی کے ہیٹر اور انجن کو ایک بیرونی ساکٹ سے جوڑ دیتے ہیں جس میں ٹائمر لگا ہوتا ہے جو ڈرائیونگ شروع کرنے سے دو گھنٹے قبل گاڑی کو اور انجن کو گرم کرنا شروع کردیتا ہے۔ جس سے گاڑی پر گرنے والی برف بھی صاف ہوجاتی ہے۔
یہاں کی تعلیم بالکل مفت ہے جبکہ سیکنڈری کلاسز تک کتابوں، کاپیوں کے علاوہ دوپہر کا کھانا اور دودھ بھی مفت مہیا کیا جاتا ہے۔ سات سے سولہ سال کی عمر میں تعلیم لازمی ہے۔ ویسے کسی بھی عمر میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تمام کورسز مفت ہوتے ہیں بلکہ دورانِ تعلیم مالی معاونت بھی حاصل رہے گی۔ تعلیم یافتہ معاشرہ اور جدید سیکیورٹی سسٹم کی وجہ سے یہاں جرائم کی شرح صفر ہے۔ شراب کے نشے میں دھت ہوکر سڑک پر گرے پڑے افراد کی جیب میں رقم اور فون وغیرہ ہوں تو بھی محفوظ رہتے ہیں۔
فن لینڈ کے کھانے پھیکے اور بےمزہ ہوتے ہیں لیکن حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار ہوتے ہیں۔ سبزی، سلاد، مچھلی پسندیدہ ہے۔ اگرچہ موسم سرما میں یہاں کی جھیلوں کے اوپر کی سطح جم جاتی ہے اور لوگ اُس پر سکیٹنگ کرتے ہیں یا کرسیاں رکھ کر جمے ہوئے پانی میں سوراخ کرکے مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔ یہاں کا قومی کھیل آئس ہاکی ہے۔ فٹ بال اور برف پر کھیلے جانے والے کھیل بھی مقبول ہیں لیکن کرکٹ عموماً ناپسند ہے۔ یہاں ہرن بہت زیادہ ہیں۔ اجازت لے کر ان کا شکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہاں کی 77فیصد آبادی عیسائی ہے۔ مسلمان صرف ڈیڑھ فیصد ہیں یعنی 70؍ہزار کے قریب۔ مسلمان تاتاریوں کی یہاں آمد 1870ء سے 1920ء کے درمیان شروع ہوئی۔ پھر بیسویں صدی کے آخر میں ایشیا اور افریقہ کے مسلم مہاجریں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ مقامی مسلم باشندے بھی موجود ہیں۔ 1950ء میں ان مسلمانوں نے یہاں ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اُن کی اپیل پر پاکستان نے سب سے پہلے لبیک کہا اور وزیرخارجہ چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب نے فن لینڈ کا دورہ کیا اور مسجد کے لیے پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ کا عطیہ دیا۔ اس عطیہ کا تفصیل سے ذکر انگریزی کتاب The Muslims of Finland میں موجود ہے جو 1955ء میں فن لینڈ کے مسلمانوں کی طرف سے شائع ہوئی۔ بعد ازاں احمدی مبلغین بھی یہاں آتے رہے۔ جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بنیاد یہاں 1990ء میں رکھی گئی۔
