سلسلہ قادریہ کے بانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا اصل نام عبدالقادر بن ابی صالح تھا۔ آپؒ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسنؓ سے جاملتا ہے۔ آپؒ 470ھ میں جیلان میں پیدا ہوئے اور 18 سال کی عمر میں تحصیل علم کے لئے بغداد آئے اور پھر ساری عمر یہیں گزار دی۔ 561ھ میں آپ […]
ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اپریل 1998ء میں مکرم منیر احمد جاوید صاحب کے ایک طویل مقالہ کی تلخیص مکرم احمد طاہر مرزا صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ اس مقالہ میں حدیث کی دو مستند کتب بخاری و مسلم کے مقام و مرتبہ سے متعلق متفرق آراء شامل ہیں۔ امام المحدّثین حضرت محمد بن اسماعیل […]
حضرت مالک بن انس الاصبحی کا تعلق یمن کے شاہی خاندان حمیر کی شاخ ’اصبح‘ سے تھا۔ آپ کا گھرانہ نسلاً قریشی تھا۔ آپؒ کے دادا مالک بن ابی عامر کی علمیت اور دینی خدمات مسلمہ ہیں۔ انہوں نے والی یمن کے ظلم سے تنگ آکر اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہا اور حجاز میں […]
ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی ایک فلسفی، مؤرخ، جغرافیہ دان، طبیب، ریاضی دان اور علمِ نجوم و فلکیات کا ماہر تھا۔ اصل وطن خوارزم تھا لیکن تحصیل علم کی خاطر دور دراز ملکوں کی سیاحت کی۔ 973ء کے لگ بھگ پیدا ہوا اور 75 سال کی عمر میں 1048ء میں وفات پائی۔ اس نے […]
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں فرمایا ’’وہ ایک بحرِ اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں … امام بزرگ ابوحنیفہؒ کو علاوہ کمالات علم آثارِ نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا‘‘ ۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں مکرم ظفراللہ خان […]
ابویوسف ایک ماہر طبیب اور فلسفہ، منطق، ریاضی، علم فلکیات، طبعیات، کیمیا، نفسیات، سیاسیات، موسیقی، شعر و ادب، صرف و نحو اور دیگر کئی علوم پر عبور رکھتے تھے۔ مغرب و مشرق میں انہیں یکساں طور پر تاریخ عالم کا عظیم ترین دانشور کہا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق عرب قبیلہ بنوکندہ سے تھا۔ والد […]
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2012ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم نیّر صاحبؓ کی ایک تقریر، جو کسی پرانی اشاعت سے منقول ہے اور جو آپؓ نے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر 26دسمبر 1939ء کو فرمائی تھی۔ اس تقریر میں اسلام کی تاریخ کے دو ادوار (یعنی خلافت اور خلافت کے بعد کے زمانہ) کا تقابلی […]
نو سو سال قبل انگلستان کے بادشاہ اوفاؔ نے اپنے ملک میں پہلا باقاعدہ سکہ رائج کیا۔ سونے سے تیار کیا جانے والا یہ سکہ برٹش میوزیم میں آج بھی موجود ہے جس کے ایک طرف بادشاہ کا نام درج ہے اور دوسری طرف کلمہ طیبہ کندہ ہے۔ امکان ہے کہ درپردہ بادشاہ مسلمان ہو […]