جدید عجائباتِ عالم: دیوار چین

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل جنوری تا مارچ 2014ء)

جدید عجائباتِ عالم: دیوار چین
(ناصر محمود پاشا)

پتھروں اور مٹی سے تیار کردہ یہ دیوار جس کی تعمیر کا آغاز پانچویں صدی قبل مسیح سے ہوا اور جو سولہویں صدی تک بنتی رہی۔ چینی حکمران وقفے وقفے سے دیوار کی توسیع کرتے رہے تاکہ چین، منگولیا، ترکستان اور وسط ایشیا میں آباد قبائل کے حملوں سے بچ سکیں۔ چینی زبان میں یہ دیوار وانگ لی قانگ قینگ (Wan Li Qang Qeng) کہلاتی ہے یعنی دس ہزار لی لمبی دیوار (’’لی‘‘ چینی زبان میں لمبائی کا پیمانہ ہے)۔
دیوار چین کوئی مسلسل چلنے والی دیوار نہیں بلکہ چھوٹی بڑی کئی دیواروں کا مجموعہ ہے جو مختلف چینی حکمرانوں نے تعمیر کروائیں۔ یہ دیواروں کا مجموعہ جو کہ انسان ساختہ ہے دنیا کا سب سے طویل تعمیر ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے۔ یہ 15 سے 20 فٹ چوڑی اور 20 تا25 فٹ اونچی ہے۔ اثریاتی شہادتیں بتاتی ہیں کہ آٹھویں صدی قبل مسیح تک چینی دیوار کی افادیت جان چکے تھے۔ اسی لئے پانچویں صدی قبل مسیح سے 221 قبل مسیح تک چین کی فی، یان اورزاؤ سلطنتوں نے دشمنوں سے اپنی سرحدیں محفوظ رکھنے کیلئے وسیع پیمانے پر دیواریں بنوائیں۔ ان کا واقعی فائدہ ہوا اور وحشی قبائل کے حملے خاصے کم ہوگئے۔

221 قبل مسیح میں چینی بادشاہ قن شی ہوانگ نے مخالف ریاستیں فتح کرکے متحدہ چین کی بنیاد رکھی۔ اس نے پھر دیوار کے وہ حصے گرا دیئے جو ان ریاستوں میں تعمیر کئے گئے تھے۔ اسے خطرہ تھا کہ مقامی سردار ان دیواروں کو استعمال کرتے ہوئے اس پر حملہ کرسکتے ہیں۔ قن شی نے پھر شمال سے آنے والے وحشی قبائل روکنے کے لئے شمالی سرحدوں پر نئی دیواریں بنائیں۔ یہ دیواریں اب معدوم ہو چکی ہیں۔ قن شی کے بعد ہان، ہوئی اور جن سلطنتوں کے بادشاہوں نے بھی دیوار چین کی دیواریں مرمت یا مضبوط کروائیں تاکہ خود کو شمالی حملہ آوروں سے بچاسکیں۔
1449ء میں جب جنگ تومو (Tumu) میں منگولوں نے چینی فوج کو شکست دی، تو منگ سلطنت کے حکمرانوں کو بھی دیواریں تعمیر کرنے کا خیال آیا۔ منگولوں نے پے درپے انہیں شکستیں دیں، تب منگ حکمرانوں کو یقین ہوگیا کہ اگر انہوں نے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو حکومت ان سے چھن جائے گی۔ انہوں نے پھر منگولیا کی سرحد کے ساتھ ساتھ دیواریں بنوا دیں۔
چونکہ ان دیواروں کی تعمیر میں پتھر اور اینٹیں استعمال ہوئیں لہٰذا وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھیں۔ منگول حملے کئی برس جاری رہے لہٰذا منگ حکمرانوں نے دیواروں کی تعمیر و مرمت پر کثیر سرمایہ خرچ کیا۔ چینی دارالحکومت، بیجنگ کے قریب واقع دیوار کو خصوصاً خوب مضبوط کر دیا گیا۔ منگ حکمرانوں کا یہ بندوبست ان کے بڑا کام آیا۔
جب منگولوں کے حملے تھمے تو شمال مشرقی چین میں آباد مانچو چینیوں نے منگ سلطنت پر چڑھائی کر دی۔ اس وقت دیوار چین منگ فوج کے بہت کام آئی۔ 1610ء میں منگ جرنیل، یوان چونگ ہوان کی فوج نے مانچوؤں کو درہ شاہنائی پر روک لیا۔ اس جگہ منگ حکمرانوں نے بڑی مضبوط دیوار بنوا رکھی تھی۔ یوں مانچو چین کے مرکزی علاقے میں داخل نہ ہوسکے۔ منگ سلطنت کی بدقسمتی کہ 1644ء میں ایک خود غرض اور راشی جرنیل، وہ سنگوئی نے مانچوؤں سے بھاری رقم بطور رشوت لے کر درہ شاہ ہنائی کی دیوار کے دروازے کھول دیئے۔ اب مانچو فوج سرعت سے بیجنگ کی طرف بڑھی۔ عیش و عشرت میں پڑی منگ فوج ان جنگجوؤں کا مقابلہ نہ کرسکی اور یوں چین میں مانچو سلطنت قائم ہوگئی جو 1912ء تک برقرار رہی۔ مانچو دور حکومت میں منگولیا بھی چین کا حصہ بن گیا، اس لئے مزید دیواروں کی تعمیر روک دی گئی۔

دیوار چین میں وقفے وقفے سے ٹاور بنائے گئے ہیں۔ یہ اسلحہ جمع کرنے، سپاہی ٹھہرانے اور دھوئیں کے اشارے دینے کے کام آتے تھے۔ طویل وقفوں پر بیرکیں اور انتظامی مراکز واقع تھے۔
ایک زمانے میں یہ بات بہت مشہور ہوئی تھی کہ دیوار چین چاند سے نظر آتی ہے مگر اس کاکوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ چاند پر جانے والے کسی خلاباز نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اسے دیوار چین نظر آئی ہے۔ دراصل چاند سے خشکی کا پھیلا ہوا زمینی قطعہ مثلاً براعظم آسٹریلیا تو نظر آجاتا ہے مگر دھاگے کی طرح طویل دیوار چین دکھائی دینا ناممکن ہے۔ اس دیوار کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی تیس فٹ ہے، اتنی دُوری سے انسانی آنکھ اتنی کم چوڑی کوئی شے نہیں دیکھ سکتی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/JbFVP]

اپنا تبصرہ بھیجیں