ذکرِ الٰہی …اطمینان قلب کا ذریعہ

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 13 مئی 2022ء)
ذکرالٰہی کے حوالے سے مکرم جمیل الرحمٰن رفیق صاحب کی جلسہ سالانہ برطانیہ 2013ء کے موقع پر کی گئی علمی تقریر مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ نومبرو دسمبر 2013ء میں شامل اشاعت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: … اللہ جسے چاہتا ہے ہلاک کر دیتا ہے اور جو (اس کی طرف) مائل ہو اس کی اپنی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یعنی ان کی جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہوں۔ سنو کہ اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ (الرعد:28-29)
انسان کی نفسیات ہے کہ محبوب کی یاد سے دل مسرور ہوتا اور تسلی پاتا ہے۔ اور محبوب حقیقی تو ایک ہی ہے یعنی اللہ۔ سو اس کی یاد سے اطمینان قلب ہونا ایک دائمی صداقت ہے۔
المنجد کے مطابق کسی قول کے بارے میں اگر کہا جائے کہ یہ قول ذکر ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ قول پختہ اور مضبوط ہے۔ چنانچہ ذکرِ الٰہی میں بندہ جن صفات الہٰیہ کا ذکر کرتا ہے، مومن ان پر پختہ یقین اور ان کا عرفان رکھتا ہے۔ مثلًا جب سبحان اللہ کہتا ہے تو وہ دل کی گہرائیوں سے اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اللہ ہر قسم کی کمزوری سے کلیۃً پاک ہے۔ اور دل ہی دل میں اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی تمنا ہوتی ہے کہ خدا اس کی کمزوریاں بھی دُور فرمائے۔ پس جب پورے انہماک اور جذب سے وہ سبحان اللہ کہتا ہے تو اُس کے دل میں تسلی اور اطمینان کی لہردوڑ جاتی ہے۔
المنجد کے مطابق ذکرالٰہی سے مراد موسلا دھار روحانی بارش بھی ہے جو مومن کو روحانی سیرابی عطا کرتی ہے۔
ذَکَرَ اللہ کا معنی ہے : خدا کی تسبیح اور تمجید کی۔ تسبیح کا مطلب ہے خدا تعالیٰ کے کلیۃً بے عیب ہونے کا ذکر اور تمجید کا معنٰی ہے خدا تعالیٰ کی عظمتِ کُلّیکا بیان۔ گویا ذکرِ الٰہی سے مراد ہے اللہ تعالیٰ سے تمام منفی صفات کی نفی اور اس میں تمام مثبت صفات پائے جانے کا دل کی گہرائیوں سے اقرار کرنا اور زبان سے بھی اس کا اظہار کرنا۔ جب خدا کا بندہ محبت الٰہی میں سر شار ہو کر انہماک سے ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو اس کا دل مسرور ہوتا ہے اور اسے اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ذکر کی چار اقسام بیان فرمائی ہیں۔ سب سے اول صلوٰۃہے۔ یعنی نماز۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (طٰہٰ:15)

یعنی میں یقیناً اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو میری ہی عبادت کر۔ اور میرے ذکر کے لئے نماز قائم کر۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’نماز سے بڑھ کر کوئی وظیفہ نہیں۔ کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے۔ استغفار ہے۔ اور درود شریف۔ تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے۔ اور اس سے ہر قسم کے غم و ہمّ دور ہو جاتے ہیں اور مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے۔ اور اسی لئے فرمایا ہے:

اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔

اطمینان اور سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر کوئی ذریعہ نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 3۔ ایڈیشن 1988ء صفحہ 310-311)
اگر نماز میں بے ذوقی کی حالت ہو تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے یہ دعا کرے کہ
’’اے اﷲ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں، اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجائوں گا۔ اُس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا۔ لیکن میرا دِل اندھا اور ناشناسا ہے۔ تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔ تو ایسا فضل کر کہ مَیں نابینا نہ اٹھوں۔ اور اندھوں میں نہ جا ملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کردے گی۔‘‘ (ملفوظات جلد 2 صفحہ615)
اکثر اوقات انسان کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے جس کی طرف توجہ نماز میں ہو جاتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ نماز میں اپنی کوئی مشکل یا پریشانی یا کوئی اہم کام یاد آ جانے پر فورًا اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دے۔ اس طرح وہ پریشانی نماز میں خلل پیدا کرنے کی بجائے دعا کا رنگ اختیار کر جائے گی۔ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ میں اپنے لشکر کو تیار کرتا ہوں جب کہ میں نماز میں ہوتا ہوں۔ (بخاری)
دوسرا طریق ذکرِ الٰہی کا قرآن کریم کی تلاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ (الحجر:10)

کہ ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ یہاں قرآن کریم کو ذکر قرار دیا گیا ہے۔ سورۃ الانبیاء میں قرآن کریم کے بارہ میں فرماتا ہےکہ یہ مبارک ذکر ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ (آیت 51)
پس قرآن کریم کی تلاوت عظیم الشان ذکرِ الٰہی ہے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا ہےکہ جو کتاب اللہ میں سے ایک حرف پڑھے گا اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی۔ اور ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہو گا۔ میں نہیں کہتاکہ الم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ گویا صرف الم پڑھنے سے اس کے نامہ اعمال میں تین نیکیاں لکھی گئیں اور ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے لہٰذا ان تین نیکیوں کا ثواب تیس گنا ملے گا۔ (ترمذی)
یہاں یہ امر مدِّ نظر رہے کہ پڑھنے سے مراد پوری توجہ سے محبت الٰہی میں سرشار ہو کر پڑھنا ہے، اور عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا ہے۔ ایک دفعہ آنحضور ﷺ نے وضو کیا، پھر فرمایا جس نے میری طرح وضو کیا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔ پھر فرمایا: ولا تغترّوا (ابن ماجہ)یعنی میری اس بات سے غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جانا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہر عضو کو دھوتے وقت یہ پختہ عہد کرو گے کہ جس طرح میں نے یہ عضو پانی سے دھو کر ظاہری طور پر پاک صاف کر دیا ہے اسی طرح میں اس عضو کو ہر قسم کے نامناسب کاموں سے بچا کر پاک و صاف رکھوں گا، تب وضو سے پچھلے گناہ معاف ہوں گے۔
دوسروں سے قرآن سننا بھی بہت بابرکت ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فرمایا مجھے قرآن سناؤ۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا میں حضور کو قرآن سناؤں جب کہ حضورؐ پر ہی قرآن نازل ہوا ہے۔ فرمایا مَیں پسند کرتا ہوں کہ کسی اَور سے قرآن سنوں۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ النساء کا ابتدا سے لے کر

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا

تک سنایا تو حضور ﷺ رو پڑے۔ (صحیح مسلم)
قرآن کریم ایسا ذکر ہے کہ اسے سن کر انسان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ تذکرۃ الاولیاء میں ڈاکوؤں کے ایک سردار کا حال لکھا ہے کہ وہ قافلوں کو لُوٹا کرتا۔ ایک رات ایک قافلے کو لُوٹنے کے لیے یہ ڈاکو گئے تو اُس قافلے میں ایک شخص قرآن کریم کی تلاوت کررہا تھا اور اُس وقت وہ یہ آیت تلاوت کررہا تھاکہ کیا مومنوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر پر عاجزی اختیار کریں۔ (الحدید:17) یہ سنتے ہی ڈاکوؤں کا سردار کانپ گیا اور اس کی حالت یکسر بدل گئی۔ اس نامی ڈاکو نے جس کا نام سن کر لوگ ڈر جاتے تھے اسی وقت قافلے والوں کو پکار کر کہا: بےخوف و خطر چلے جاؤ، آج فضیل ڈاکو نے توبہ کرلی ہے۔ یہ وہی فضیل بن عیاض ہیں جن کا نام اولیاء اللہ میں شمار ہوتا ہے۔
قرآن کریم کی تلاوت اُس وقت صحیح معنوں میں ذکرِ الٰہی شمار ہو گی اور سکینتِ قلب کا باعث، جب تلاوت کا حق ادا کیا جائے گا۔ فرمایا: جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جو تلاوت کا حق ہے۔ (البقرۃ:122) یعنی بڑی محبت سے اور کثرت سے تلاوت کرتے ہیں، روزانہ باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے احکام کی پیروی کرنا، ان پر عمل کرنا بھی حقیقی تلاوت میں شامل ہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: جب بھی لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کے درس وتدریس کے لیے جمع ہوتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔ اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی اور فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ اور اللہ ان کا ذکر ان سے کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں۔ (مسلم)
تیسری قسم کا ذکر نماز کے علاوہ زبان سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا کثرت کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ یہ ذکر نماز کے علاوہ ہے۔ فرمایا: جب تم نماز ادا کر چکو تو ذکرِ الٰہی کرو۔ کھڑے ہونے کی حالت میں بھی، بیٹھنے کی حالت میں بھی اور لیٹے ہوئے بھی۔ (النساء:104)
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے تمام اوقات میں ذکرِ الٰہی کرتے تھے۔ (ابن ماجہ) گویا ذکرِ الٰہی کی مثال جسمانی زندگی میں سانس لینے کی طرح ہے۔ چنانچہ جو ذکرِ الٰہی کرتے کرتے سو جاتا ہے تو اس کی نیند کا سارا وقت ذکرِ الٰہی میں ہی شمار ہوتا ہے۔
عبدالرحمٰن السلمانی سے مروی ہے:جب کوئی شخص اپنے بستر پر پاک صاف ہونے کی حالت میں آئے اور وہ ذکرِ الٰہی کرتے کرتے سو جائے تو اس کا بستر مسجد ہے اور وہ نماز میں ہی ہے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔ (الطَّھور روایت نمبر 69)
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کی مثال جو اپنے ربّ کا ذکر کرتا ہے اور اس کی جو اپنے ربّ کاذکر نہیں کرتا زندہ اور مردہ کی مثال ہے۔ (بخاری)
ذکرِ الٰہی کی چوتھی قسم خدا تعالیٰ کی صفات لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الاخلاص میں فرمایا کہ یہ اعلان کردے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا، اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں۔ پس صفاتِ الہٰیہ کی تبلیغ ایک عظیم ذکرِ الٰہی ہے۔ اسلام کی دن رات تبلیغ کرنا ذکرِ الٰہی کی شاندار قسم ہے۔ اس کی تبلیغ زبان سے کرنا، لٹریچر تیار کرنا، مخالفین اسلام کے اعتراضات کا معقول ومسکت جواب دینا، یہ سب ذکرِ الٰہی ہے جو ہر وقت اور ہر لمحہ ہوسکتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑنے اسلام کے دفاع میں جو دندان شکن لٹریچر تحریر فرمایا ہے اور اسلام کی تبلیغ کے لیے اسلام کی خوبیوں پر جو کتب تصنیف فرمائی ہیں وہ عظیم ذکرِ الٰہی ہے۔ اللہ نے آپؑ کو الہامًا فرمایا:
’’تیری نمازوں سے تیرے کام افضل ہیں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ 685)
ان چاروں اقسام میں سے ذکر الٰہی کی ہر قسم اطمینان قلب کا عظیم ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں بارہا ذکرالٰہی کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا: اس کتاب میں جو کچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اسے پڑھ، اور نماز قائم کر۔ اور اللہ کی یاد یقیناً (سب کاموں سے) بڑی ہے۔ اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔ (العنکبوت:46)
مجھے یاد کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ:153)
ذکرِ الٰہی کرنے والے بندے کو خدا بھی یاد رکھتا ہے۔ یعنی ضرورت کے وقت اس کی نصرت فرماتا ہے، پریشانی دُور کر کے سکینت قلب عطا فرماتا ہے۔
پھرفرمایا: … بہت ذکرِ الٰہی کرنے والے مَردوں اور بہت ذکرِ الٰہی کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا سامان اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب:36)
نیز فرمایا:جب تمہاری کسی لشکر سے مڈھ بھیڑ ہو جائے تو قدم جمائے رکھو اور بہت ذکرِ الٰہی کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ (الانفال:46) اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے: اللہ کو بہت یاد کرنے سے اس کی صفات دل میں روشن ہوتی ہیں اور ایمان اور جرأت میں زیادتی ہوتی ہے۔
ذکرِ الٰہی سے غفلت نہ برتنے کے بارے میں فرماتا ہے: تُو اپنے دل میں اپنے رب کو تضرع اور خوف سے یاد کرتے رہا کر، اور دھیمی آواز سے صبح بھی اور شام بھی۔ اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ (الاعراف:206)
حضرت موسیٰؑ کو فرمایا کہ تُو اور تیرا بھائی میرے نشان لے کر جاؤ اور میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔ (طٰہٰ:44,43)
پھر فرماتا ہے کہ اے مومنو، تمہیں تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ذکرِ الٰہی سے غافل نہ کر دیں۔ اور جو ایسا کریں تو یہی ہیں جو گھاٹا کھانے والے ہیں۔ (المنافقون:10)
ذکرِ الٰہی سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں فرماتا ہےکہ جو میری یاد سے اعراض کرے گا یقیناً اس کے لئے تنگی کی زندگی ہو گی۔ (طٰہٰ:125)
پھر فرماتا ہے کہ یعنی جو رحمٰن کے ذکر سے اعراض کرے ہم اس کے لئے شیطان مقرر کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ (الزخرف:37)
ذکر، قرآن کریم کا نام بھی ہے۔ لہٰذا ذکر الرحمٰن سے اعراض کا مطلب قرآن سے اعراض بھی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے، اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو، ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور اس کے حق سے اس کو پھیرتا ہے۔‘‘ (الحق لدھیانہ صفحہ 35)
قرآن کریم میں آنحضور ﷺکو بھی ذکر کہا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے یعنی رسول جو تم پر اللہ کی روشن کر دینے والی آیات پڑھتا ہے۔ (الطلاق:12,11) پس ذکر الرحمٰن سے اعراض کا یہ معنی بھی ہے کہ جو رسول ﷺ سے اعراض کرے، شیطان اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ یہاں ذکرِ اللہ یا ذکرِ الرّب وغیرہ کی بجائے ذکرِ الرحمٰن کہا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ انبیاء کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے تحت ہوتی ہے۔ لہٰذا یہاں ذکر سے رسول مراد لینا درست ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں