محترم ثاقب زیروی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍مئی 2002ء میں محترم ثاقب زیروی صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم حمیداللہ ظفر صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ کے والد صاحبِ کشف بزرگ تھے اور والدہ بھی شب زندہ دار خاتون تھیں۔ اس ماحول میں آپ نے پرورش پائی اور جوانی میں ہی اپنے ربّ سے راز و نیاز کیا کرتے تھے۔ تقسیم ہند کے زمانہ میں ایک بار غنودگی میں آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ تیرا اگلا دَور پہلے سے بہتر ہوگا۔ آپ نے اپنے والد صاحب کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں شہادت نصیب کی تو ہماری دنیاوی زندگی سے اگلی زندگی بہتر ہوگی اور اگر زندہ رہے تو بھی پہلی زندگی سے بہتر زندگی اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔
جب قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا تو چیف سیکرٹری پنجاب نے ایک دعوت افطار میں مکرم ثاقب صاحب کو بھی مدعو کیا۔ آپ نے سیکرٹری صاحب سے پوچھا کہ آپ کی اسمبلی نے تو ہمیں غیرمسلم قرار دیدیا ہے اور آپ نے مجھے دعوت افطار میں مدعو کیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ مَیں نے سوچا کم از کم ایک تو روزہ دار بلالوں تاکہ اسے دعوت افطار کہا جاسکے۔
بھٹو دَور میں’’لاہور‘‘ رسالہ میں ’’روزنامچہ‘‘ لکھنے پر جب ثاقب صاحب اور م۔ش صاحب کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہواتو ایک دن دونوں کو پکڑ کر تھانہ لے جایا گیا۔جب رات ہوگئی تو تھانہ دار نے کہا کہ تھانہ کی عمارت زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے آپ دونوں کو رات نہیں رکھا جاسکتا لیکن آپ صبح نو بجے آجائیں تو ہم گرفتاری ڈال دیں گے۔ م۔ش صاحب نے ثاقب صاحب سے کہا کہ حکومت ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے اس لئے لگتا ہے تین چار ہفتے ضمانت نہیں ہوسکے گی۔ چنانچہ وہ رات آپ نے اپنے رسالہ کے تین چار پرچے تیار کرنے میں گزار دی اور سحری کے وقت خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیا کہ گرفتاری نہیں ہوگی۔ صبح جب م۔ش صاحب اپنے کپڑے وغیرہ لے کر آپ کے ہاں پہنچے تو آپ بغیر کسی سامان کے ساتھ چل پڑے۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے آپ کو کوئی خواب آئی ہے۔ آپ نے کہا کہ خواب نہیں آئی، ڈائریکٹ ڈائلنگ ہوئی ہے اور مَیں اپنے ربّ پر بداعتمادی نہیں کرسکتا۔ تھانہ جانے سے قبل یہ اپنے پریس پہنچے کہ چائے پی کر چلتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں وہاں وکلاء مٹھائی کا ڈبہ لے کر پہنچے کہ ہم تھانہ سے ہوکر آئے ہیں۔ SHO نے بتایا ہے کہ انہیں فون آگیا ہے کہ گرفتار نہیں کرنا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی وفات پر خلافت رابعہ کے انتخاب سے ایک رات پہلے محترم ثاقب صاحب دارالضیافت ربوہ میں نفل پڑھ رہے تھے کہ ایک بلند آواز آئی: ’’ابن مریم آ رہا ہے‘‘۔ آواز اتنی بلند تھی کہ آپ نے کھڑکی کھول کر دیکھا کہ شاید باہر کوئی آواز دے رہا ہے۔
حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ سے محبت آپ کا سرمایہ حیات تھی۔ ایک بار آپ نے ذکر کیا کہ صدر ضیاء الحق کی بیگم نے ایک محفل نعت میں آپ کو وفاقی سیکرٹری کے ذریعہ مدعو کیا تھا کہ آکر نعت پڑھیں۔ نعت گوئی میں آپ نے ایک نمایاں مقام پیدا کیا تھا۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:

یہ میرا دل جسے دنیا بھی دل ہی کہتی ہے
یہ اک جام ہے یثرب کے بادہ خانے کا

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/KYajH]

اپنا تبصرہ بھیجیں