مکرمہ سلمیٰ غنی صاحبہ

جماعت احمدیہ امریکہ کے صد سالہ خلافت سووینئر میں مکرمہ سلمیٰ غنی صاحبہ سابق صدر لجنہ اماء اللہ امریکہ کے بارہ میں بھی ایک مختصر مضمون شامل ہے۔
مکرمہ سلمیٰ غنی صاحبہ جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کو نیو جرسی کے جلسہ سالانہ پہ ملیں تو حضورؒ کے چہرے پر ایک روحانی نور، عاجزی اور شفقت دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ بے ساختہ اُن کے آنسو اتنی شدّت سے بہہ نکلے کہ دوسری خواتین انہیں دیکھ کر پریشان ہونے لگیں۔لیکن وہ تو حضورؒ کے چہرے کا نور تھا جس سے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب حضورؒ سے ان کی دوسری ملاقات دیگر خواتین کے ہمراہ ہوئی تو حضورؒ نے فرمایا کہ مجھے آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ آپ نے برقعہ اور پردہ کیا ہؤا ہے۔ آپ امریکہ کی تمام احمدی خواتین سے کہیں کہ وہ بھی آپ کی طرح برقعہ اور پردہ کریں۔
آپ یہ سن کر بہت حیران ہوئیں اور دریافت کیا: ’’حضور! کیا میں ایسا کروں؟‘‘۔ تو حضورؒ نے فرمایا: جی ہاں، آپ ہی ایسا کرسکتی ہیں اور سب کو بتادیں کہ میں نے ہی آپ سے کہا تھا ‘‘۔
جب وہ ملاقات سے فارغ ہوئیں تو محترم ابراہیم صاحب مبلغ سلسلہ نے اُنہیں حضورؒ کے فرمان کی یاددہانی کروائی۔ آپ نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی عہدہ نہیں ہے، مَیں کیسے یہ کام کرسکتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو ہی یہ کام کرنا ہو گا کیونکہ خلیفۂ وقت نے آپ کو حکم دیا ہے۔
چنانچہ آپ نے تمام صدران مجالس کو خط لکھ کر انہیں حضور کے اس فرمان کی اطلاع کرتے ہوئے ان سے تما م لجنہ کی تفصیلات مانگیں اور پھر حضورؒ کے حکم پر عمل کرنے کے بعد حضورؒ کو بھی اطلاع کردی۔اگلے سال ہی آپ کو صدر لجنہ منتخب کرلیا اور آپ نے اس حیثیت سے 15 سال خدمت کی توفیق پائی۔
ایک سال جلسہ سالانہ ربوہ کے موقعہ پر حضورؒ نے بیرون پاکستان کی خواتین سے ملاقات کے دوران آپ کی دینی خدمت کو خاص طور پر سراہا۔
ایک دفعہ جب آپ نے ایک بہن کو اُس کے لباس کے بارہ میں توجہ دلائی تو اُس نے آپ کو ایک نہایت سخت خط لکھا اور اس نے ایک نقل حضورؒ کی خدمت میں بھی بھیج دی۔ آپ نے بھی جواباً ایک سخت خط لکھا اور اس کی نقل بھی حضورؒ کی خدمت میں ارسال کر دی۔ تب حضورؒ کی طرف سے آپ کو محبت بھرا جواب ملا جس میں تحریر تھا کہ آپ نے سختی سے کام لیا ہے، ایسے مواقع پر نرمی سے کام لینا چاہئے۔
کچھ عرصہ بعد ایک اَور نوجوان لڑکی نے آپ کو ایک سخت خط لکھا اور اس کی نقل حضورؒ کی خدمت میں بھجوادی۔ اس مرتبہ آپ نے نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا۔ اس بار حضورؒ نے آپ کے جوابی خط کی تعریف فرمائی اور لکھا کہ آپ کے نرمی سے بھرے ہوئے جواب میں ایک ماں کے پُرشفقت پیار کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ اس سے آپ نے سیکھا کہ الفاظ میں کس قدر طاقت ہوتی ہے اگر انہیں صحیح معانی اور صحیح جگہ استعمال کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں