حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 15؍جون 2026ء)

حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ کینیڈا‘‘ جنوری 2014ء میں حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ کا ذکرخیر اُن کی بیٹی مکرمہ پروین یعقوب خان صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فدائی صحابی حضرت منشی حبیب الرحمٰن صاحب کپورتھلویؓ (رئیس حاجی پورہ) کا اسم گرامی حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بطور مخلص دوست درج فرمایا ہے اور دعائیں دی ہیں۔ آپؓ کے خاندانی حالات اصحاب احمدؑ کی جلد دہم میں شامل اشاعت ہیں جن کے مطابق آپؓ کے ہاں چھٹے فرزند حضرت شیخ خلیل الرحمٰن صاحبؓ 1905ء میں پھگواڑہ ضلع جالندھر (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال تھا چنانچہ اپنے اس بچے کو دینی تعلیم کے ساتھ انٹر تک دنیاوی تعلیم بھی دلوائی۔ پھر یہ محکمہ موسمیات میں ملازم ہوگئے اور وہیں سے ریٹائرمنٹ لی۔ اپنی ملازمت کےدوران ہندوپاکستان کے مختلف علاقوں نیز دوبئی، دوہا اور مسقط میں بھی متعیّن رہے۔ ہر جگہ تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی میں آباد ہوئے اور ایک مستعد خادم دین کے طور پر زندگی گزاری۔ ابتداء میں احمدیہ لائبریری کے انچارج مقرر ہوئے تو موجود لٹریچر کی فہرست بنائی اور بوسیدہ کتب کی خود جلدبندی کی۔ باجماعت نماز کے پابند تھے۔ لائبریری میں باجماعت ادا کی جاتی تھی۔ اگر آپؓ کسی وجہ سے نہ جاسکتے تو گھر پر جماعت کرواتے۔ نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرنا آپؓ کا معمول تھا۔ اپنے پانچ بھائیوں اور تین بہنوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ جماعت کراچی میں سیکرٹری ضیافت کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ بیرونی ممالک سے آنے اور جانے والے احمدیوں کے لیے سفری دستاویزات اور کرنسی وغیرہ کی فراہمی سمیت تمام کاموں کو نہایت خندہ پیشانی سے انجام دیتے۔ بہت صابروشاکر تھے اور جذبۂ ایثار سے لبریز تھے۔ دعاگو اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ جماعت کا پیسہ بچانے کے لیے مہمانوں کو ہوٹل میں ٹھہرانے کی بجائے اپنے گھر لے آتے یا کوئی دوسرا انتظام کردیتے۔ بارہا مہمانوں کے انتظار میں بندرگاہ یا ایئرپورٹ پر چوبیس گھنٹے بھی ٹھہرنا پڑتا تو خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتے۔ مہمانوں کو ہوٹل سے کھانا کھلادیتے لیکن اپنے لیے جماعت کی رقم استعمال نہ کرتے۔ مریضوں کی تیمارداری سے کبھی غافل نہ رہتے۔ ہر مالی تحریک پر لبیک کہتے۔ وقف عارضی بھی کیا کرتے۔ ہمیشہ صاف گوئی سے بات کرتے۔ اگر کوئی زیادتی کرتا تو خاموشی اختیار کرلیتے۔ جلسہ سالانہ میں باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ خدمت دین کرنے والوں کی خدمت کرنے کو باعث عزت سمجھتے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا بھی بہت خیال رکھا۔ 1939ء میں جماعت کی گولڈن جوبلی کے موقع پر آپؓ کی انتظامی خدمات کے اعتراف میں آپؓ کو ایک یادگار بیج بھی دیا گیا جو آپؓ کے پاس محفوظ تھا۔
مکرم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں کہ مکرم شیخ خلیل الرحمٰن صاحب نہایت ہی مخلص، فدائی اور بےلوث خدمت کرنے والے وجود تھے۔ سلسلہ کے خدام کی آمدورفت کے وقت بحیثیت سیکرٹری ضیافت کراچی جماعت میں نمایاں تاریخی خدمات آپ نے انجام دیں۔ خدام سلسلہ خواہ رات کے کسی بھی حصہ میں آتے، مکرم شیخ صاحب کو ریلوے سٹیشن یا ایئرپورٹ پر موجود پاتے۔ ایک رات دو بجے کراچی ایئرپورٹ پر اُترا تو آپؓ استقبال کے لیے وہاں موجود تھے۔ 1972ء میں خاکسار افریقہ سے کراچی اطلاع دیے بغیر آگیا کیونکہ آگے سیٹ بُک تھی اور ٹھہرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ مگر ایئرپورٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ لاہور کے لیے سیٹ کنفرم نہیں ہے۔ لہٰذا ٹیکسی کے ذریعے احمدیہ ہال پہنچا اور مکرم شیخ صاحب کو اُن کے گھر پر فون کرکے اطلاع کی۔ کہنے لگے کہ مَیں سوچ ہی رہا تھا کہ آج کل آپ کو آنا تھا مگر کوئی اطلاع نہیں، اب آپ بغیر اطلاع دیے آگئے تو دیکھ لیا اس کا نتیجہ۔ پھر تشریف لاکر ملے اور آگے سفر کے سارے انتظامات خود کیے۔ ہر خادم سلسلہ کے ساتھ آپؓ کا ایسا ہی سلوک تھا۔

غیرممالک سے آنے والے طلباء کی آپؓ ہمیشہ سرپرستی فرماتے اور تحریک جدید سے خط و کتابت میں اُن کی مدد کرتے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے غیرممالک میں قیام کے دوران اخبارات سے اہم خبروں کے تراشے باقاعدگی سے حضورؒ کی خدمت میں ارسال کرتے۔ آپؓ کی وفات ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ اُن دنوں آپ قائم مقام امیر کراچی تھے جبکہ حضورؒ اُن دنوں کسرصلیب کانفرنس کے لیے لندن تشریف لے گئے تھے۔ حادثے کے وقت آپ حضورؒ کی خدمت میں اخباری تراشے سپرد ڈاک کرنے اور ایک احمدی خاتون کا جنازہ ادا کرنے جارہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں