محترمہ سیّدہ محمودہ رحمٰن صاحبہ

روزنامہ الفضل ربوہ 16 مارچ 2012ء میں مکرم اطہر بیگ صاحب کے قلم سے اُن کی والدہ محترمہ سیّدہ محمودہ رحمٰن صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا عبدالرحمن بیگ صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
محترمہ سیّدہ محمودہ رحمٰن صاحبہ 19 جنوری 1956ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک دیندار گھرانہ میں مکرم سیّد محمد احمد شاہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئیں۔ بہت نفیس، سنجیدہ اور معتبر شخصیت کی مالک تھیں۔ علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا اور خود بھی شعبہ تدریس سے وابستہ تھیں۔ غرباء کی اپنی استطاعت سے بڑھ کر مدد کرتیں۔ کئی غریب طالبات کے تعلیمی اور کپڑوں وغیرہ کے اخراجات برداشت کرتیں۔ کئی بچیوں کے جہیز خود تیار کروائے۔ اپنی ایک بیمار خالہ (جن کی اولاد نہ تھی) اُن کا ہر طرح سے خیال رکھتیں اور اپنے پاس لاکر رکھتیں۔ ہر وقت ہر ایک کی مدد کے لئے تیار رہتیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کی بہت عمدہ پرورش اور تربیت کی بلکہ ماؤں سے محروم تین بچیوں کو بھی اپنے گھر میں رکھ کر پالا اور اُن کے احساسات کا اور اُن کی دینی تربیت کا بھی بہت خیال رکھا۔ بچوں کی تعلیم کے علاوہ عربی سکھانے کا بھی خاص اہتمام کیا۔
عبادت میں شغف تھا۔ روزے بھی اہتمام سے رکھتیں۔ دل ہر قسم کے منفی خیالات سے پاک تھا۔ بعض غریبوں کے گھروں میں رمضان شروع ہونے سے پہلے راشن بھجواتیں۔ پرندوں اور جانوروں کا بھی خیال رکھتیں۔ مالی قربانی شوق سے کرتیں۔ خلافت سے عشق تھا۔ اپنے چھوٹے بیٹے (مضمون نگار) کو تحریک وقفِ نَو میں شامل کیا۔ بہت اصول پرست خاتون تھیں اور گھر میں ہر اچھا اصول رائج کرکے دکھایا۔ قریباً سولہ سال آپ کے خاوند بیرونِ ملک مقیم رہے۔ اس دوران آپ نے بچوں کی تربیت کی خاطر بہت محنت کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔
آپ نے نہایت صبر سے آخری بیماری کا مقابلہ کیا۔ علاج کے لئے ہسپتال جاتیں تو غریب عورتوں اور بچوں کے لئے کھانا بنواکر لے جاتیں۔ ہسپتال میں دوسروں کی خدمت میں زیادہ مصروف نظر آتیں۔ آخری دم تک کبھی مایوسی یا تکلیف کے کلمات نہیں کہے۔ 16 مارچ 2005ء کو آپ نے وفات پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wk0bu]

اپنا تبصرہ بھیجیں