مہرباں کیسے کیسے!

مزاحیہ مضمون:

(مطبوعہ رسالہ ’’طارق‘‘ جلدنمبر3 شمارہ نمبر2)

(تحریر: محمود احمد ملک)

جیسے ہی ’’شاعر مغرب‘‘ کے بارے میں ہمارا مضمون شائع ہوا تو ہمیں یوں لگا جیسے شعراء کے ایک جمّ غفیر نے ایک ساتھ جنم لے لیا ہے۔ بعض نے تو اپنے کلام سے بھی ہمیں فیضیاب فرمایا۔ کئی ایک نے اس بات پر خود ہی رضامندی کا اظہار بھی کردیا کہ اگر ہم اُن کا انٹرویو لے کر شائع کرنا چاہیں گے تو اُنہیں نہ صرف اس پر کوئی اعتراض نہیںہوگا بلکہ افادۂ عام کی خاطر وہ اس رسالہ کی کچھ کاپیاں خرید کر اشاعت بڑھانے میں بھی مدد دیں گے۔ وغیرہ۔
چنانچہ ایسے شعراء کی فہرست مرتّب کرنے کے بعد دو چار حضرات سے تو مشقِ سخن جاری رکھنے کی درخواست کی گئی اور حوصلہ افزائی کی خاطر اُنہیں ’’طارق‘‘ کے مدیر کی طرف سے ایک خط بھی ارسال کیا گیا جس میں نہایت موزوں الفاظ میں اُن کے کلام کی وصولیابی کی اطلاع سے اُنہیں نوازا گیا۔ چند نو مشق حضرات سے عرض کیا گیا کہ شعرگوئی میں ناحق اپنے وقت کو برباد کرنے کے بجائے کوئی ڈھنگ کا کام کیجئے۔ صرف دو تین حضرات ہی ایسے تھے جن کے کلام کو بعد تصحیح رسالہ میں شامل کرنے کا ’’وعدہ کرنا ہی پڑا‘‘۔
ایک صاحب نے جب اپنی کہی ہوئی غزل (بقول اُن کے) ہمیں بھجوائی اور اصرار کیا کہ اِسے ضرور شائع کیا جائے تو خاکسار کے بار بار معذرت کرنے پر انہوںنے ایک اخبار کا تراشہ ہمیں بھجوایا ہے جس کے ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ کے کالم میں یہ غزل شائع ہو چکی ہے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ چونکہ ’’طارق‘‘ میں فی الحال کوئی ایسا کالم موجود نہیں اس لئے اُن کی مرسلہ ’’وہ چیز‘‘ جسے انہوں نے غزل کا نام دے رکھا ہے ہم شائع نہیں کرسکیں گے۔
ایک نہایت ’’خوبصورت‘‘ شاعر (شکل و صورت کے لحاظ سے) نے جب اپنے ’’نامعقول‘‘ قسم کے کلام سے ہمیں نوازا تو ہم نے اظہار ہمدردی کے طور پر اُن سے صاف صاف عرض کردیا کہ اُن کی ظاہری شخصیت اور باطنی ذہنیت میں تضاد اُن کی شاعری میں بھی ایسا نمایاں ہے کہ یہ رسالہ اس کا متحمّل نہیں ہوسکے گا۔ اسی طرح ایک نہایت معزز صاحب دیوان (غیرمطبوعہ) شاعر سے ہمیں دست بستہ عرض کرنا پڑا کہ اُن کی نظم کے کچھ اشعار تو بعد مناسب اصلاح شائع ہو سکیں گے لیکن اکثر اشعار صرف ردیف قافیہ کے زور پر زبردستی کہے گئے ہیں اور اس طرح سوچ سوچ کر نظم کہنے کا انداز ایک مُبتدی کا ہوتا ہے، ممکن ہے یہ نظم آنجناب کی شاعری کے زمانہ آغاز سے تعلق رکھتی ہو، لیکن اس کلام کی روشنی میں اُن کی شاعری کا انجام بہت واضح ہے…۔
ایک اور صاحب جو ’’عوامی شاعر‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں انہوں نے اپنی کئی نظمیں ارسال کی ہیں۔ بعض نظموں کے بارے میں تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بسوں اور گاڑیوں میں سرمہ اور منجن بیچنے والوں کے معاش میں خاصی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ کچھ دیگر کلام بھی اس قابل تھا کہ ’’بار بی کیو‘‘ کے دوران انگیٹھیوں میں الاؤ تیزتر کرنے کا کام دے سکے۔ البتہ ایک دو غزلوں میں اُن کے محبوب کا تذکرہ کچھ اس انداز سے موجود تھا کہ ہمیں شک ہونے لگا کہ کہیں یہ حضرت اور بے چارے اسداللہ خان غالبؔ آپس میں رقابت کے معزز رشتے میں تو منسلک نہیں ہیں کیونکہ ان کی غزل اور غالبؔ کے کلام میں خاصا توارح نظر آتا تھا گویا دونوں نے ایک ہی صنم پر طبع آزمائی کی ہے۔ چنانچہ اُن صاحب کے نام ایک طویل جوابی خط کا اختتام ہم نے اکبرؔ اٰلہ آبادی مرحوم کی روح سے معذرت چاہتے ہوئے اِس شعر پر کیا ؎

کیوں اپنے سر پہ زحمتِ بے سود لیجئے
اس شاعری کے بدلے اچھل کود لیجئے

ایک دیوانہ شاعر (معاف کیجئے کہ ’’دیوانہ‘‘ اُن کا تخلّص ہے نہ کہ یہ بات کہ اُن کی شاعری سے متاثر ہوکر یہ نام ہم نے اُنہیں دیا ہے۔ کیونکہ شاعری کے حوالہ سے اُنہیں دیوانہ کہہ دینا بہرحال اُن کی عزت افزائی ہوگی)۔ وہ اپنے کلام سمیت جو ایک بڑے بیگ میں بھرا ہو ا تھا، ہمارے دفتر میں تشریف لائے۔ آنے سے قبل انہوں نے فون کیا تو نام کی نسبت سے ہم نے جو گریباں چاک قسم کے مہمان کا تصور کیا تھا یہ اس کے بالکل برعکس نکلے۔ عمدہ سوٹ میں ملبوس، سگار کے کش لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ باقاعدہ شاعری نہیںکرتے، بس جب کبھی طبیعت رواں ہو جائے اور نزول کی سی کیفیت ہو تو غزل ہو جاتی ہے (اور بدقسمتی سے یہ کیفیتِ نزول روزانہ کئی کئی بار اُنہیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے)۔ ہم صرف یہی عرض کر سکتے ہیں کہ جناب دیوانہ کو مبارک ہو کہ وہ باقاعدہ شاعری نہیں فرماتے۔ چنانچہ گزارش ہے کہ جو کام بھی وہ باقاعدہ کرتے ہیں، اُس پر ہی اگر اُن کی طبع رواں ہو جائے تو ہمیں خوشی ہوگی اور اردو شاعری پر اُن کا گرانقدر احسان ہوگا…۔ یہ شاعری نما چیز جو ہمارے سامنے دھری ہے شاید اُن کے لئے اِس کا کہنا آسان ہو لیکن ہم سا کم علم اِس کے فہم کی استطاعت نہیں رکھتا۔ کچھ اشعار یقینا ایسے ہیں جو اگر دیگر نوآموز شعراء کو سنا دیئے جائیں تو وہ شاعری سے توبہ کرکے اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔
بہرحال تمام شعراء سے ہماری یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ اگر آپ میں شاعرانہ خلوص کی رمق موجود ہے، ادیبانہ قربانی کی روح زندہ ہے، محبت کرنے کا سلیقہ اور چاہے جانے کا قرینہ موجود ہے تو براہ کرم یہ مشق ستم جاری رکھیئے گا۔ یقین جانئے کہ دیگر کئی لغویات کے مقابلہ میں ایسی شاعری میں ضیاع وقت بدرجہا بہتر ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/zKcWf]

اپنا تبصرہ بھیجیں