؎ کبھی یوں بھی لیتے ہیں امتحاں

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 9 اکتوبر 2020ء)

رسالہ ’’انصارالدین‘‘ یوکے مارچ اپریل 2012ء میں 28 مئی 2010ء کے سانحہ کا آنکھوں دیکھا احوال مکرم محمد شعیب نیرصاحب حال یوکے کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسار 28 مئی 2010ء کو معمول کے مطابق دفتر سے گھر گیا۔ بڑا بیٹا عزیزم شاہ زیب احمد حسبِ معمول جمعے پر جانے کے لیے تیار تھا۔ ہم دونوں گھر سے باہر نکلے تو خاکسار کی چھوٹی بیٹی (عمر تقریباً چار سال)جو عموماً خوشی سے خداحافظ کہا کرتی تھی وہ بھی ساتھ جانے کی ضد کرنے لگی۔ بعد میں میری اہلیہ نے بتایا کہ وہ غیر معمولی طور پر بہت دیر تک یہ کہتے ہوئے روتی رہی کہ بابا! مَیں آپ سے پیار کرتی ہوں۔ بابا! مَیں آپ سے پیار کرتی ہوں۔
ہم دونوں باپ بیٹا مسجد بیت النور پہنچے اور محراب کے سامنے چوتھی صف میں سنّتیں ادا کرکے بیٹھ گئے۔ خطبہ شروع ہوا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہاں فائرنگ ہو جائے تو مجھے اپنے بیٹے کو بچانا چاہیے اور اس کو لے کر پیچھے چلے جانا چاہیے۔ میں نے اس خیال کو وسوسہ سمجھ کر جھٹک دیا اور خطبے کی طرف توجہ دینی شروع کر دی۔ اچانک باہر سے فائرنگ کی آواز آنے لگی جو قریب ہوتی گئی۔ پھر باہر کرسیوں پر بیٹھے ہوئے بزرگ ہال میں آنا شروع ہوگئے۔ مربی صاحب نے کہا کہ لیٹ جائیں۔ کچھ لوگ اُٹھ کر پیچھے جانے لگے۔ خاکسار نے بھی جانے کا سوچا مگر یہ خیال آیا کہ مربی صاحب کی حکم عدولی ہو جائے گی۔ اسی دوران گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ میں نے بیٹے کو دیکھا تو اس نے دونوں ہاتھ کانوں میں ڈالے ہوئے تھے اور پریشانی اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔ خاکسار کو کچھ ہی منٹ پہلے فائرنگ کے متعلق آنے والا خیال یاد آیا تو اس کو الٰہی تقدیر سمجھتے ہوئے بیٹھ کر حالات کا جائزہ لینے لگا۔ اسی دوران خاکسار کے پیٹ میں گولی آلگی اور خون بہنے لگا۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ میرے ساتھ لیٹے لیٹے پچھلے ہال کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم رینگتے ہوئے ہال کے عقب میں آپہنچے۔ اس دوران ہمارے پاس ہی ایک گرینیڈ بھی آ کر گرا لیکن شکر ہے کہ پھٹ نہیں سکا اور ہم تہ خانے میں چلے گئے۔ اس دوران خاکسار سیڑھیوں پر گرا لیکن اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ تہ خانے میں جا کر لیٹا ہی تھا کہ زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں اَور بڑھ گئیں۔ بیٹے نے رونا شروع کر دیا تو مشکل سے اُٹھ کر مَیں پیچھے سیڑھیوں کے نیچے چلاگیا۔ کچھ ہی دیر میں

اللہ اکبر

کے نعرے سنائی دیے۔ اس دوران مجھے لگا کہ جیسے میرا آخری وقت آن پہنچا ہے کیونکہ کمزوری اور غنودگی نے غلبہ پانا شروع کر دیا تھا۔ مَیں اونچی آواز میں استغفار اور

رَبِّ کُلُّ شَیء خَادِمُکَ …

والی دعا کا وِرد کرتا رہا۔ فائرنگ کی آواز تھمی تو پیاس اور کمزوری سے برا حا ل تھا۔ ایک دوست نے پانی لاکر پلایا اور دو دوستوں نے اٹھاکر مسجد کے صحن میں موجود ایمبولینس میں لٹا دیا۔ خاکسار کا بیٹا ابھی سیڑھیوں کے نیچے ہی بیٹھا تھا اور اس کو پتہ ہی نہیں چلا کہ مجھے کب اوپر لے آئے۔ بعد میں وہ خود ہی باہر نکلا اور اپنے اور میر ے جوتے لے کر باہر کار کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ کار کی چابی میری جیب میں ہی رہ گئی تھی اور فون بھی گاڑی کے اندر ہی موجود تھا۔ پھر چند رشتہ دار اس کو گھر لے گئے۔

فائرنگ قریباً 45 منٹ جاری رہی۔ ایمبولینس میں مسجد کی دری میں لپٹی ایک احمدی بزرگ کی نعش بھی تھی۔ اس کے علاوہ دو زخمی بزرگ بھی بیٹھے تھے۔ ایمبولینس والے یہ کہتے ہوئے ہمیں جناح ہسپتال لے آئے کہ یہ ہسپتال قریب ہے اور چونکہ پولیس کیس ہو گا اس لیے گورنمنٹ ہسپتال ہی جانا ہوگا۔ وہاں پہنچے تو نہ اسٹریچر نہ وہیل چیئر۔ ہاتھوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر ایمرجنسی وارڈ میں لے کر گئے۔ وہاں کہرام برپا تھا۔ بیڈ وہاں پر بھی کم تھے۔ ہم دو زخمیوں کو ایک ہی بیڈ پر لٹایا گیا۔ پروفیسرڈاکٹر صاحب تشریف لائے اور حالات دیکھ کر ہدایت دی۔ جونیئر ڈاکٹرز نے میرے مثانے اور معدے میں نالیاں لگادیں اور آپریشن تھیٹر بھجوادیا۔ راستہ میں مجھے اپنے بھائی اور بیٹے کے بخیریت ہونے کی اطلاع مل گئی۔
آپریشن تھیٹر لے کر گئے تو وہاں اسٹاف نے کہا یہاں تو کچھ بھی تیار نہیں۔ ایک خادم کو گھر فون ملانے کو کہا۔ فون ملا تو جو مَیں کچھ کہنا چاہتا تھا وہ بیگم کو سمجھ نہ آیااور جو وہ کہنا چاہتی تھی وہ اُس کے رونے کی وجہ سے مجھے سمجھ نہیں آئی۔ اتنے میں فون کٹ گیا۔ چند منٹ بعد ایک نرس نے آکر بتایا کہ میرے گھر والے باہر آگئے ہیں۔ میری والدہ کہتی ہیں کہ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی۔ یہ سن کر خاکسار کی آنکھوں سے برسات شروع ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد انیستھیزیا والے آئے اور اس کے بعد مجھے ہوش نہ رہی۔ بعد میں بتایا گیا آپریشن قریباً تین گھنٹے جاری رہا۔ مجھے جب ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تو کچھ کچھ ہوش آرہا تھا۔ کوئی ہلا کر میرا حال پوچھتا تو آنکھیں کھول دیتا۔ خون کی بوتل لگی ہوئی تھی اور شدید نقاہت تھی۔ رات کو وارڈ میں شور اور خاص طور پر غسل خانہ کے دروازہ کے بار بار بجنے سے آنکھ کھلتی اور لگتا کہ مسجد میں ہی ہوں اور دھماکے ہورہے ہیں۔ علی الصبح آنکھ کھلی تو خدام کو ڈیوٹی پر حاضر دیکھا۔ میرا کھانا پینا مکمل طور پر بند تھا۔
دن چڑھا تو مختلف احمدی اور غیراز جماعت آتے رہے اور اپنے اپنے رنگ میں اظہارِ افسوس کرتے رہے۔ ربوہ سے بھی کافی لوگ آئے۔ شام کو وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی آئے۔ میں نے چاہا کہ اپنے تکیہ پر کلمہ کا بیج لگاؤں۔ پتہ نہیں اس وقت خدا نے اتنی ہوش اور ہمت کہاں سے دی ورنہ جسم کا تو یہ حال تھا کہ جیسے پتھر بن چکا ہو۔ رحمان ملک تشریف لائے تو ہاتھ ملاکر آگے جانے لگے لیکن میں نے ہاتھ نہ چھوڑا اور کہا: میں تو آپ کو بڑا بااثر وزیر داخلہ سمجھتا تھا مگر آج تین گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی اور ہمارا خون ہوتا رہا۔ آپ اور آپ کے ادارے بالکل ناکام رہے اور حملہ آوروں کو نہ روک سکے۔ وہ کہنے لگے: ہم ان جہادیوں کو نہیں چھوڑیں گے…۔ مَیں بولا: میرے کتنے بزرگ، دوست، بھائی ہم سے جدا ہوگئے۔ وہ کہنے لگے: جی ہاں، مجھے افسوس ہے، جنرل ناصر صاحب میرے بڑے اچھے دوست تھے۔ مَیں نے کہا: آ پ نے اپنے دوست کے لئے کیا کیا؟ ہمیں بہت دیر سے دھمکیاں مل رہی تھیں مگر ہمیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ مَیں نے کئی باتیں کہیں لیکن اُن کی طرف سے اکثر باتوں کا جواب یہی تھا کہ ہم جہادیوں کو نہیں چھوڑیں گے۔
وارڈ میں بہت سے لوگ عیادت کے لئے آئے اور اپنے اپنے رنگ میں دلاسہ دیتے رہے۔ ربوہ سے ایک فیملی تشریف لائی جس میں ماں باپ اور ان کے دو بیٹے تھے۔ بیٹوں کی عمر یں بھی پچاس کے لگ بھگ تھیں۔ ایک بیٹے نے اپنا چہرہ خاکسار کے چہرے کے ساتھ رگڑنا اور دلاسہ دینا شروع کیا جیسے کوئی بڑا پیار کرتا ہے تو خاکسار کو بہت شرمندگی ہوئی اور یہ خیال بھی آیا کہ اڑتالیس گھنٹوں سے کچھ کھایا پیا نہیں۔ منہ نہیں دھویا۔ نہ جانے ان کو کیا محسوس ہورہا ہوگا۔ پھر سر پر ہاتھ پھیر کر وہ چلے گئے۔ نہ میں جانتا تھا کہ وہ کون تھے اور ان کو بھی میرا پتہ نہیں ہو گا۔ یہ محض احمدیت کی برکت تھی۔ اسی طرح ایک بزرگ تشریف لائے اور بہت دعائیں دینے لگے۔ ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ پسینے سے شرابور کپڑے بہت پرانے، مگر سچوں والا چہرہ۔ آکر میری ٹانگیں دبانے لگے۔ مجھے انتہائی شرمندگی ہوئی اور میں نے بار بار کہا کہ اس کی ضرورت نہیں مگر نہ مانے۔ ٹانگیں دباتے رہے اور ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت ہوئے۔
اگلے دن خاکسار کو غنودگی کی حالت میں محسوس ہوا جیسے کوئی ڈاکٹر کھڑا میرے بازو میں سوئی لگا رہا ہے۔ جب دیکھا تو واقعی بڑی داڑھی والا ایک نوعمر ڈاکٹر سرنج لگانے کی کوشش میں ہے۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگا ’سیمپل لینا ہے‘۔ میں نے کہا یہ کام تو نرسوں کا ہے۔ کہنے لگا مجھے ان پر اعتبار نہیں۔ مجھے شک ہوا تو مَیں نے انکار کر دیا۔ بعد میں وہ دو اَور داڑھی والوں کو ساتھ لایا جو عام کپڑوں میں تھے۔ ان کو میرا بستر دکھاکر کچھ کہا اور چلا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جناح ہسپتال کے حملے میں ایک ڈاکٹر بھی ملوث تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہی ڈاکٹر ہو۔
پھر ہمیں ایمرجنسی وارڈ سے عام وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ دراصل اللہ کی طرف سے حفاظت کے سامان ہونے تھے کیونکہ اسی رات جناح ہسپتال پر حملہ ہوگیا۔ خاکسار ہر ممکن کوشش کرتا رہا تھا کہ وہاں موجود لوگوں کو بھی اور دارالذکر میں انتظامیہ کو بھی پیغام دیتا رہوں کہ حالات اچھے نہیں اور حفاظت کا انتظام ہونا چاہیے۔ مگر چونکہ سب لوگ باقی کاموں میں بھی مصروف تھے اس طرف توجہ نہ ہو سکی۔ 31؍مئی کی رات گیارہ بجے کے بعد خاکسار تھک کر سو گیا تو عین اسی وقت ہسپتال پر حملہ ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایسا لگا جیسے کچھ گڑبڑ ہے لیکن کوئی نہیں بتا پارہا تھا۔ پھر بالآخر معلوم ہوا کہ حملہ ہوا ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ تقریباً دو بجے رات کو قائد صاحب نے آکر بتایا کہ اب خیریت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کے پیغام ہمیں پہنچتے رہے ہیں۔ کل ہی آپ لوگوں کو یہاں سے کہیں اَور پہنچانے کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس روز صبح جب میں سو کر اٹھا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دائمی تسلی کا سامان اس طرح ہوا کہ میرے لبوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر جاری تھا:

ہے سرِراہ پر مرے وہ خود کھڑا مولا کریم
پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار

یکم جون کو ہمیں وارڈ سے ایک کمرے میں اور دو روز بعد پرائیویٹ کمرے میں منتقل کیا گیا۔ یہاں نسبتاً سکون ملا کیونکہ ACکی کارکردگی بہتر تھی تاہم حالات ایک سرکاری ہسپتال کے پرائیویٹ کمرے کے عین مطابق تھے۔
فضل عمر ہسپتال ربوہ سے ایک ڈاکٹر تشریف لائے اور ہونے والے علاج پر تسلی کا اظہار فرماکر پوچھا کہ اگر خاکسار ربوہ جانا چاہتا ہے تو وہ اس کا انتظام کر سکتے ہیں۔ نیز امیر صاحب کی طرف سے کہا گیا کہ اگر آپ اپنی مرضی کے ہسپتال میں جانا چاہتے ہیں تو اجازت ہے تاہم جماعت کی یہ خواہش ہے کہ تمام مریض ایک جگہ پر ہی رہیں تاکہ حفاظت میں آسانی رہے۔ بھائی کا خیال تھا کہ ہم کسی اَور ہسپتال میں چلے جائیں تاہم خاکسار نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔
4؍ جون کو پنجاب کے سیکرٹری ہیلتھ فواد حسن، سی سی پی او لاہور اور ڈی سی او لاہور بھی تشریف لائے۔ خاکسار نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ان کو تبلیغ بھی کی اور اس بات کا اظہار بھی کیا کہ احمدیوں کے خلاف ظلم کو روکنے کا مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے مرزا صاحب (صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب) سے بات کر رہے ہیں اور مناسب بندوبست کرنے کی کوشش میں ہیں۔
5؍ جون کو خاکسار نے ایک گھونٹ پانی اور جوس پیا۔ ایسا لگا جیسے ایک زمانے کے بعد اللہ کی نعمت چکھنے کی توفیق ملی۔ گویا یہ روزہ تقریباً 9 روز جاری رہا۔ 6؍ جون کو دہی اور چاول کھائے تو جسم میں کچھ طاقت کا احساس ہوا اور نیند نسبتاً بہتر آئی۔ 7؍ جون کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی تو الحمدللہ کامیاب رہا۔ چند قدم چل کر کمرے سے باہر نکلا تو باہر پولیس والا کھڑا تھا۔ خودہی کہنے لگا کہ باہر یہ بات مشہور ہے کہ احمدی تو وہ لوگ ہیں جو ایک چیونٹی کو بھی نہیں مارتے۔ ان کو کیوں مارا گیا؟ مَیں نے کہا تو پھر سوچ لو کہ یہ خون رائیگاں نہ جائے گا لیکن ہم صرف صبر کریں گے اور دعا کریں گے۔
اسی دن خاکسار کو گھر جانے کی اجازت مل گئی۔
ایک قابلِ ذکر بات یہ کہ جماعت کی تحقیقی کمیٹی کے انچارج مظفر اعجاز صاحب نے مجھے بتایا کہ مرکزی ہال کا سب سے پہلا گرینیڈ بعینہٖ اس جگہ پر پھٹا تھا جہاں پر خاکسار کا بیٹا بیٹھا ہوا تھا۔ یکایک میرا خیال اُس سوچ کی طرف گیا جو خدا تعالیٰ نے فائرنگ شروع ہونے سے پہلے میرے ذہن میں ڈالی تھی۔
گھر میں بھی عیادت کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم ہمسایوں میں سے اکثریت نے حال تک نہ پوچھا۔ جون کے آخر میں خاکسار کے زخم کے ٹانکے کھل گئے تاہم پٹی سے زخموں کو مندمل ہونے میں قریباً ایک سال لگا۔ اس دوران وزن اٹھانا، زیادہ دیر چلنا بلکہ کھانا کھانا بھی کافی مشکل تھا۔ اللہ کرے کہ زخموں کے یہ نشانات مغفرت کا سبب بن جائیں۔ (آمین)

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/BB2mH]

اپنا تبصرہ بھیجیں