اختتامی خطاب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی 2008ء

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے خلافتِ احمدیہ کے سو سالہ سفر کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیاری جماعت کے افراد کو خلافت سے وفا اور اخلاص اور تعلق میں بڑھایا ہے۔
ہم وہ خوش قسمت ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کی اس جماعت میں شامل ہیں جو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو نہ صرف اپنے پر لاگو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ دنیا میں بھی اس تعلیم کو پھیلانے والے ہیں جو آنحضرت ﷺ لے کر آئے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ مسیح موعود کے بعد خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی۔ یعنی وہ خلافت قائم ہو گی جو نبوت کے کام کو آگے بڑھائے گی اور اُس کے طریق پر چلنے والی ہو گی۔ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ وہ قدرت آسمان سے نازل ہو گی، یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی خلیفہ بنائے گا اُس کے ساتھ آسمانی تائیدات اور قدرت کے نظارے بھی ہمیشہ دکھائے گا۔اور خلافتِ احمدیہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے ساتھ اشاعتِ دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کرتی چلی جائے گی اور اس کام کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جائے گا، اُس کے بازو بن جائے گا اور ہر فیصلہ جو خلیفۂ وقت خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اسلام کی اشاعت کے لئے کرے گا وہ خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو گا۔
پس آج ہر احمدی کا بھی کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات و نصرت سے حصہ لینے کے لئے، اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنانے کے لئے، خلافت احمدیہ کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اشاعتِ اسلام کے کام میں حصہ لیں۔
گزشتہ120 سال کی جماعت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر جماعت کی، احمدیت کی حفاظت فرمائی ہے اور جماعت کو ختم کرنے کی دشمن کی ہر تدبیر نے ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھا ہے اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئی ہے۔
آج جب مَیں دنیا کے کسی بھی ملک میں بسنے والے احمدی کے چہرہ کو دیکھتا ہوں تو اُس میں ایک قدرِ مشترک نظر آتی ہے اور وہ خلافتِ احمدیہ سے اخلاص و وفا کا تعلق ہے۔ چاہے وہ پاکستان کا رہنے والا احمدی ہے یا ہندوستان میں بسنے والا احمدی ہے، انڈونیشیا اور جزائر میں بسنے والا احمدی ہے یا بنگلہ دیش میں رہنے والا احمدی ہے، آسٹریلیا میں رہنے والا احمدی ہے یا یورپ و امریکہ میں بسنے والا احمدی ہے یا افریقہ کے دور دراز علاقوں میں بسنے والا احمدی ہے۔
انشاء اللہ تعالیٰ اب جلد وہ دن طلوع ہونے والا ہے جب احمدیوں پر ظلم کرنے والے خس و خاشاک کی طرح اُڑا دئیے جائیں گے۔ کیونکہ یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اور کوئی طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر سکے۔
اختتامی خطاب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 24 اگست 2008ء بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آجکل جماعت احمدیہ میں ، افرادِ جماعت میں خلافتِ احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر ہر بچے، جوان، بوڑھے، مرد، عورت کے دل میں خلافت سے تعلق اور اُس کی اہمیت کا احساس پہلے سے کئی گنا بڑھ کر نظر آتا ہے جس کا اظہار زبانی بھی اور خطوط میں بھی بہت زیادہ احباب و خواتین کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے خلافتِ احمدیہ کے سو سالہ سفر کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیاری جماعت کے افراد کو خلافت سے وفا اور اخلاص اور تعلق میں بڑھایا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زمانے کے امام کا یہ دعویٰ کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے اپنی تائید و نصرت کے شامل حال رہنے کا وعدہ فرمایا ہے، سچا دعویٰ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر سو سال گزرنے کے بعد بھی افرادِ جماعت اُس رسّی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں بلکہ ہر وقت اُسے مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس کے پکڑنے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنی جماعت کے افراد کو حکم دیا تھااور نصیحت فرمائی تھی اور یہ اعلان فرمایا تھا کہ یہ قدرتِ ثانیہ جو میرے بعد آئے گی، یہ خدائی وعدوں کے مطابق دائمی قدرت ہے اور اس سے چمٹے رہ کر ہی ہر فردِ جماعت اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے بھی دیکھے گا اور اپنی روحانی ترقی کی طرف بھی قدم بڑھائے گا، کیونکہ خلافت کی طرف سے ملنے والی ہدایات و نصائح وہی ہوں گی جو خدا تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اب آئندہ تمام زمانوں کے انسانوں کے لئے ہمیں بتائی ہیں اور جوقرآنِ کریم کی تعلیم اور احادیث کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن سامنے ہونے کے باوجود دنیا اُنہیں بھلا چکی ہے یا اُس کی جاہلانہ وضاحتیں کرتے ہوئے اور تفسیریں بیان کر کے اُسے بگاڑ دیا ہے۔ اب غیروں کی تفسیریں پڑھ لیں تو بعض آیات کی عجیب مضحکہ خیز قسم کی تفسیریں کی ہوئی ہیں جو کسی کو اسلام کے قریب لانے کی بجائے دور ہٹانے والی ہو ں گی۔ ان تعلیمات کا صحیح فہم اور ادراک اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عطا فرمایا ہے اور آپؑ کے بعد خلافتِ احمدیہ کے جاری نظام نے اُسے دنیا میں پھیلانے کی ہمیشہ کوشش کی اور کوشش کر رہی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ یہ کوشش جاری رہے گی۔ کیونکہ جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا اُس مقصد کو آگے چلانے کے لئے اس زمانے میں آپ کے عاشقِ صادق کو خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تو آپ کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (الاعراف: 159)

یعنی اے رسول! تو اعلان کر دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور پھر خاتم النبیین کہہ کر اس بات پر بھی مہر ثبت کر دی کہ اب آپ کے بعد کوئی شرعی نبی نہیں ہو سکتا، اور رہتی دنیا تک صرف اور صرف آپؐ کی شریعت قائم رہے گی جو آپؐ پر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی صورت میں اتاری ہے۔
پس اگر اب خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا کوئی ذریعہ ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اب اگر نجات پانے کا کوئی ذریعہ ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آکر یہ نجات مل سکتی ہے۔ پس آؤ اور خالص ہو کر اُس کی غلامی اختیار کرو کہ اس دَر کے علاوہ اب کوئی راہِ نجات نہیں ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ میں تمام دنیا کے انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور ہر زمانے کے انسان کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، سچا دعویٰ ہے، یہ بھی اعلان فرمایا کہ میرے اس نبی کی غلامی میں ہی وہ مسیح و مہدی مبعوث ہو گا جو میرے اس رسول کے پیغام کو محفوظ رنگ میں تمام دنیا تک پھیلائے گا۔ جب وہ ذرائع بھی میسر آئیں گے جب یہ پیغام پھیلانے میں کوئی روک مانع نہیں ہو گی۔ اگر زمینی روکیں پیدا کر دی جائیں گی تو فضاؤں سے یہ پیغام نشر ہو گا۔ اگر ایک علاقے میں مخالفت کا زور ہو گا تو دوسرے علاقے میں احمدیت کی لہلہاتی کھیتیوں کے پنپنے کے لئے زرخیز زمینیں میسر آجائیں گی۔ اگر ایک ملک میں پابندیاں لگیں گی تو دوسرے ملکوں میں احمدیت کے قبول کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی جو دراصل وہ حقیقی اسلام ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج مسیح محمدی کے غلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے وعدے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہیں ، جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بیشمارالہامات کی صورت میں ذکر فرمایا ہے، اس لئے وہ شریعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے لے کر آئے تھے، مسیح موعود کے غلاموں کے ذریعہ دنیا کے کونوں کونوں میں کامیابی سے پھیل رہی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپؐ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا کہ

وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْن (الاحزاب:41)

اور نیز آپؐ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا۔

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (الاعراف: 159)

سو اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک تھیں ، قرآن شریف میں جمع کی گئیں ، لیکن مضمون آیت

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا(الاعراف: 159)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغِ قرآن ہو جاتی۔ اور یہ اُس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اُس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے، بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دئیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو 1257 ہجری تک بھی اشاعت کے وسائلِ کاملہ گویا کالعدم تھے۔ اور اس زمانے تک امریکہ کُل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں ، عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہرگز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمامِ حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے۔ اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی۔ اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں۔ اور یہ دونوں امر اُس وقت غیر ممکن تھے لیکن قرآنِ شریف کا یہ فرمانا کہ

وَ مَنْ بَلَغَ (الانعام:20)

یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی۔ ایسا ہی آیت

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

اس بات کوظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے۔ اور اس آیت میں جو مِنْہُمْ کا لفظ ہے‘‘( یعنی وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ میں جومِنْہُم کا لفظ ہے)’’ وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اُس زمانہ میں جو تکمیلِ اشاعت کے لئے موزوں ہے، مبعوث ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں ہوگا اور اُس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔…اُس وقت حسبِ منطوق آیت

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

اور نیز حسبِ منطوق آیت

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (الاعراف: 159)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور اُن تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدّام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل وجان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اوراس اپنے فرض کو پورا کیجئے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافہ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں۔مگرمَیں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے‘‘۔
(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 260 تا 263)
پس ہم وہ خوش قسمت ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کی اس جماعت میں شامل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو نہ صرف اپنے پر لاگو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ دنیا میں بھی اس تعلیم کو پھیلانے والے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ ذرائع مہیا فرما دئیے ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی وجود نہیں تھا۔ گو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ پرنٹنگ پریس ایجاد ہو چکی تھی، دوسرے ذرائع موجود تھے لیکن جماعت کا اپنا پریس لگانے کے لئے اُس وقت وسائل نہیں تھے اور آسانی سے میسر نہیں تھے اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک علیحدہ تحریک فرمانی پڑی تھی۔ لیکن آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق اور غلامِ صادق سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ایشیا، یورپ اور افریقہ کے کئی ملکوں میں جماعت کے اپنے پریس کام کر رہے ہیں اور اُس پیغام کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ پھر صرف پریسوں تک ہی بات نہیں ، بلکہ انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹیلیویژن کے ذریعے جدید ترین اور تیز ترین ذریعہ تبلیغ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو میسر فرما دیا جو دنیا کے کونے کونے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوئی ہماری خوبی نہیں ، یہ خدا تعالیٰ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے وعدے کا عملی اظہار ہے جو آج پورا ہو رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تائید و نصرت کے وعدے کے پورا کرنے کا عملی ثبوت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے اجراء پر اس حقیقت کا اعلان فرمایا تھا کہ یہ ایم ٹی اے کا اجراء کوئی ہماری خوبی نہیں ہے۔ ہم تو اس کے بارے میں ابھی سوچ ہی رہے تھے بلکہ ریڈیو کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ایم ٹی اے کی شکل میں ہمیں انعام عطا فرما دیا اور تبلیغ کاایک نیا ذریعہ مہیا فرما دیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے اُس وعدے کا اظہار ہے کہ ’’مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘۔(تذکرہ صفحہ 260ایڈیشن چہارم شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ)
پس یہ تبلیغ کے زمین کے کناروں تک پہنچنے کا کام اصل میں تو اُس اعلان کی کڑی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے کروایا تھا کہ

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا(الاعراف: 159)

کہ اے لوگو! تمام دنیا کے انسانوں مَیں تم سب کی طرف مَیں اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ چنانچہ دیکھ لیں ، پریس بھی، انٹرنیٹ بھی اور ایم ٹی اے بھی دنیا کی مختلف زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ مختلف زبانوں میں جماعت کی ویب سائٹ کام کر رہی ہے۔ اٹلی میں بھی وہاں کے احمدی نوجوانوں نے Italian زبان میں بڑی اچھی ویب سائٹ بنائی ہے۔ اس طرح دوسری زبانوں میں بھی ہے۔ اٹلی کی مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ یہی وہ ملک ہے جہاں اس وقت عیسائیت کی خلافت یعنی پوپ کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چند سال پہلے وہاں مرکز اور مسجد کے لئے جگہ خریدنے کے لئے جو کوشش ہو رہی تھی،اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُسے بھی فائنل شکل دے کروہ ہمیں مہیا فرما دی ہے اور مسیح محمدی کے غلاموں کا، مسیح موسوی کے ماننے والوں کو اس آخری نبی کے قدموں میں لانے کی کوششوں کا ایک نیا میدان کھل گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صرف بنی اسرائیل کے لئے نہیں بھیجا تھا بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا۔
پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ شخص جو تکمیل اشاعتِ دین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کے طور پر مبعوث ہونا تھا، ہوا۔ اور مَیں اور آپ اُن خوش قسمتوں میں سے ہیں جنہیں یہ ترقیاں دیکھنی نصیب ہو رہی ہیں۔ اور جن کو یہ توفیق ملی کہ اُن کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔
پس اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے آپ کو بھی اس بات کا اہل ثابت کرنے کی کوشش کریں جس سے ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ اُن برکات سے فیض پاتی چلی جائیں جو حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی جماعت سے جڑے رہنے والوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

اس بات کو ظاہرکر رہی ہے کہ ہدایت کا ذخیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہو گیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدہ:4)۔

یعنی آج مَیں نے تمہارے فائدے کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تمہارے پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ پس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہدایت کامل ہو گئی اور اب کوئی شرعی کتاب نہیں آسکتی۔ اب کوئی شرعی رسول نہیں آسکتا لیکن اشاعتِ دین کا کام باقی ہے جو آخرین نے کرنا ہے۔ اور وہ جیسا کہ مَیں نے حوالہ پڑھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس زمانہ میں یہ اشاعت کا کام ہی ہونا تھا اور ہو رہا ہے۔ کیونکہ

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

کی سچائی اُس وقت ثابت ہوتی ہے جب ہم یہ تسلیم کریں کہ اشاعت کا کام آئندہ زمانے کے لئے ہے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ اُس پیشگوئی کے مصداق بنے جیسا کہ اس کی وضاحت میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اُس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اُس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو گا۔ اس لیے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے۔ اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خداتعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں ، وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے‘‘۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 502)
پس اشاعتِ دین کی تکمیل کا کام نئے زمانے کی ایجادات کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں شروع ہوا اور آپؑ کے صحابہ نے بھی اس میں بھر پور رنگ میں حصہ لیا۔ آج حضرت مسیح موعود
علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب جو قرآنِ کریم کے علم و معرفت کے خزانے سے بھری پڑی ہیں۔ قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر کے نئے نئے راستے دکھاتی ہیں۔ قرآنِ کریم کے اُن خزانوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو اس زمانے میں ظاہر ہونے تھے اور ہو رہے ہیں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو جو آپؐ پر کامل ہوا، آپؐ کے غلامِ صادق کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا تک پہنچانے کا انتظام فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اور آپ کے صحابہ کی صورت میں

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

کا وعدہ پورا فرمایا۔
ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اُس وعدے کے پورا ہونے کے گواہ بن کر مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو گئے اور ایک لڑی میں پروئے گئے جبکہ دوسرے مسلمان اُس انکار کی وجہ سے آپس میں پھٹے ہوئے ہیں ، اوراُن کے ہر کام میں بے برکتی ہے۔
باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں سے تمکنت اور رعب کا وعدہ فرماتا ہے، یہ مسلمان کمزوری اور محتاجی کاشکار ہیں۔ چاہے وہ اسلامی ملکوں کے لیڈر ہوں یا اسلامی ملکوں کی حکومتیں ہوں ، آپس کے معاملات کو طے کرنے کے لئے غیروں کی جھولی میں جا کر گرتے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے والے مسلمان لیڈر غیروں کو آوازیں دیتے ہیں کہ آؤ اور ہماری مدد کرو۔ اسلامی حکومتیں ہیں تو وہ غیر مسلم حکومتوں کی مرضی پر اپنے معاملات طے کرتی اور چلاتی ہیں۔ مسلمانوں کی ملکی دولت تو غیر مسلموں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ اگر لیڈروں اور ملکی سربراہوں کو کوئی دلچسپی ہے تو صرف اتنی کہ ہماری جائیدادیں بن جائیں ، ہمارے بینک بیلنس بن جائیں ، ہم امیر ہو جائیں۔ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اسلامی ملکوں کے اندرونی فسادات کو روکنے کے لئے غیر اسلامی ملکوں کی فوجوں سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ سب اُس نافرمانی کانتیجہ ہے جو خدا تعالیٰ کے کلام کو نہ مان کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے، اس زمانے کے امام کا انکار کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ بجائے اس کے کہ آج مسلمان ممالک اپنی دولت کا صحیح استعمال کرتے اور مسیح موعود کے ماننے والوں میں شامل ہو کر تکمیلِ دین کے لئے آخری مقصد یعنی اشاعتِ دین کا کام سرانجام دیتے، اس دولت کو مسیح محمدی کے قدموں میں رکھ کر غیر مسلم دنیا میں اشاعتِ اسلام کے اہم فریضہ میں ہاتھ بٹاتے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی مخالفت کرکے نہ دین کے رہے اور نہ دنیا کے۔اور جب تک یہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ پورا ہو چکا ہے اور آنے والا مسیح آچکا ہے اور اُس کی مخالفت کے بجائے اُس کی مدد کرنا ہمارا فرض اوّلین بنتا ہے، اُس وقت تک وہ اسی موجودہ حالت سے دوچار ہوتے رہیں گے اور ذلت کا سامنا کرتے رہیں گے۔
پس مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک احمدی کا ایمان اور زیادہ بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کے جذبات اور زیادہ اُبھرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں اس نعمت سے نوازا ہے۔ پھر یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کے طور پر مبعوث ہوئے اور قرآنی علم و عرفان کے خزانے شائع کر کے اسلام کی اشاعت کے سامان پیدا فرما دئیے اور مخالفینِ اسلام پر اتمامِ حجت کر دی اور دلائل سے اُن کے منہ بند کردئیے اور اپنی زندگی میں قربانیاں کرنیو الوں کی ایسی جماعت قائم کر دی جنہوں نے صحابہ کا رنگ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور انہوں نے

رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ (المائدہ :120)

کا درجہ پایا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخرین میں جو میرا بروز کھڑا ہو گا وہ صرف اپنی زندگی تک ہی اشاعتِ اسلام کا کام نہیں کرے گا بلکہ اُس کے بعد خلافت کا سلسلہ بھی شروع ہو گا جو دائمی ہو گا۔اور پھر مسیح محمدی نے بھی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے سلسلہ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہو گی کہ میرے بعد نظامِ خلافت چلے گا جو اشاعتِ اسلام کے کام کو آگے بڑھائے گا، جو میرے مشن کی تکمیل کرے گا اور جب تک اُن باتوں کی تکمیل نہ ہو جائے، جب تک وہ مشن مکمل نہ ہو جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا ہے۔ جب تک تمام دنیا پر اتمامِ حجت نہ ہو جائے، قیامت نہیں آئے گی۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ :
’’خدا فرماتا ہے کہ مَیں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفا دار اور صادق خدا ہے۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اُس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے، پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دُعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دُعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے‘‘۔
(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-306)
پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود ہی حقیقت میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے کیونکہ اس طرح

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ مسیح موعود کے بعد خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی۔ یعنی وہ خلافت قائم ہو گی جو نبوت کے کام کو آگے بڑھائے گی اور اُس کے طریق پر چلنے والی ہو گی۔ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ وہ قدرت آسمان سے نازل ہو گی، یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی خلیفہ بنائے گا اُس کے ساتھ آسمانی تائیدات اور قدرت کے نظارے بھی ہمیشہ دکھائے گا۔اور خلافتِ احمدیہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے ساتھ اشاعتِ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کرتی چلی جائے گی اور اس کام کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جائے گا، اُس کے بازو بن جائے گا اور ہر فیصلہ جو خلیفۂ وقت خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اسلام کی اشاعت کے لئے کرے گا وہ خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر نہ ہی خدا تعالیٰ کی قدرت ہے اور نہ ہی آسمان سے نازل ہونے والی ہے۔
اور اس بات نے اس معاملہ کو بھی حل کر دیا کہ بندوں کے انتخاب کو خدا تعالیٰ کا انتخاب کس طرح سمجھا جائے۔ اگر بندوں کے انتخاب کو خدا تعالیٰ کی تائید حاصل نہ ہو تو بیشک یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن اگر اس انتخاب کو آسمانی تائیدات مضبوط کر رہی ہوں تو یہ بندوں کا انتخاب نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا بندوں کو ذریعہ بنا کر اپنی قدرت کا نازل کرنا ہے۔ آج ہر شہر اور ہر ملک میں ہر لمحہ اور ہر دن جماعت کی ترقی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یقینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی اٰخَرِیْن میں مبعوث ہونے والے وہی نبی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کرنی تھی اور آپؑ کے بعد خلافتِ احمدیہ بھی یقینا اُسی سچے وعدوں والے خدا کی تائید یافتہ ہے جس کے ذریعہ سے یہ کام آگے بڑھنا تھا۔
پس آج ہر احمدی کا بھی کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات و نصرت سے حصہ لینے کے لئے، اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنانے کے لئے خلافت احمدیہ کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اشاعتِ اسلام کے کام میں حصہ لیں تا کہ ہمیشہ اُن لوگوں میں شامل رہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

وَعَدَﷲ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْامِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّ لَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا (النور:56)

اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسبِ حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا جس طرح اُس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا۔ اور جو دین اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے وہ اُسے مضبوطی سے اُن کے لئے قائم کر دے گا۔ اور اُن کے خوف کی حالت کے بعد وہ اُن کو امن کی حالت میں تبدیل کر دے گا۔
پس ایمان میں مضبوطی والوں کے ساتھ، اور اعمالِ صالحہ بجا لانے والوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ خلافت کے انعام سے فیض پاتے رہیں گے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُس دین کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کونسا دین پسند کیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ

وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدہ:4)

تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
’’ مَیں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا۔ یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا، نہ اَور طریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 368)
پس یہ وہ مقام ہے جو ایک احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس بات کو سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی حقیقت کامل فرمانبرداری ہے اور اپنے وجود کی قربانی ہے۔ اور یہی کامل فرمانبرداری اور قربانی ہے جو بہترین اعمال کی انتہا ہے۔ اور یہ فرمانبرداری اور کامل اطاعت دکھانے والے اور قربانی کے لئے تیار رہنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کی نشر و اشاعت میں خلافت کا ہاتھ بٹانے والے ہیں اور اس کام کے لئے اپنا مال، جان اور وقت قربان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ اِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ( حٰم سجدۃ:34)

یعنی اور اُس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہو گی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک اور صالح عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یہ حکم پھر اسی طرف توجہ پھیرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کو اپنے عمل بھی اُس تعلیم کے مطابق ڈھالنے چاہئیں جس کی طرف وہ دوسرے کو بلا رہا ہے۔ جس پیغام کی اشاعت میں ممد و معاون بن رہا ہے۔ اور وہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مکمل طورپر اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا جُوا اپنی گردن پر نہ ڈالے۔ اور جب یہ صورتحال پیدا ہو گی، جب ہر احمدی کی یہ کیفیت ہو گی تو وہ جہاں خلافت کے انعام سے فیض پانے والا ہو گا، حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے والوں سے وابستہ انعامات کا وارث بنے گا وہاں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اُمت میں بھی شامل ہوگا، صرف دعویٰ ہی نہیں ہو گا جیسا کہ آجکل کے مسلمان کرتے ہیں۔ اور پھر اس کے ساتھ دنیا میں امن و سلامتی کا پیغام پہنچانے والا بھی ہو گا۔ اس خوبصورت پیغام کی وجہ سے، اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتاری، مخالفین کو اس ذریعہ سے یہ پیغام بھی پہنچایا جا سکتا ہے کہ اُن کی سختی کا جواب پیار سے دیا جائے اور جب سختی کا جواب نرمی سے ہو، غصے کا جواب صبر سے ہو تو ایک وقت آتا ہے جب مخالف سے مخالف بھی بات سننے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے سوائے اُن کے جن کے دل خدا تعالیٰ کی طرف سے سخت کر دئیے گئے ہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ان کو ہدایت نہیں ملنی۔ اور جب مخالفِ اسلام، اسلام کے محاسن کا علم حاصل کرے گا تو یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا کہ واقعی یہ کامل دین ہے۔
پس ہر احمدی کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ خلافت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے لئے ہر قربانی کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں۔ اس زمانے میں مسیح محمدی کے غلاموں میں شامل ہو کر ’’نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے ایمان کو بھی کامل کرتے چلے جائیں ، اور اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کے معیار بھی بلند سے بلند کرتے چلے جائیں۔ اور جب یہ ہو گا تو ہر فرد اس زمانے کے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو انفرادی طور پر اپنے ساتھ بھی پورا ہوتا دیکھے گا۔ اور اجتماعی طور پر تو یہ مقدر ہو ہی چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے مومنوں کی اس جماعت نے جو مسیح محمدی سے منسوب ہے تمام دنیا پر غالب آنا ہے۔دشمن کا ہر حملہ چاہے وہ سامنے سے ہو، چاہے پیچھے سے ہو، چاہے دائیں سے ہو یا بائیں سے ہو، اُس کام کو جو مسیح موعود کے سپرد ہو چکا ہے اُس میں روک نہیں ڈال سکتا کیونکہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی یہ جماعت خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور حفاظت کی ڈھال میں محفوظ ہے۔ اور یہ ایسی ڈھال ہے جس نے ہر طرف سے جماعت کو اپنی حفاظت میں لیا ہو اہے، اپنے حصار میں لیا ہوا ہے اور گزشتہ120 سال کی جماعت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر جماعت کی، احمدیت کی حفاظت فرمائی ہے اور جماعت کو ختم کرنے کی دشمن کی ہر تدبیر نے ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھا ہے اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئی ہے۔
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کا کوئی براعظم نہیں جس کے بڑے بڑے ملکوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام مسیح محمدی کے غلاموں نے نہ پہنچا دیا ہو، بلکہ اکثر چھوٹے چھوٹے ملک اور جزائر بھی اس نور کی روشنی سے فیضیاب ہورہے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نور کا پرتَو ہے۔
اور آج یہ کام ہم صرف اس لئے باحسن انجام دے رہے ہیں کہ خلافت کے انعام سے انعام یافتہ ہیں۔ آج جب میں دنیا کے کسی بھی ملک میں بسنے والے احمدی کے چہرہ کو دیکھتا ہوں تو اُس میں ایک قدرِ مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے خلافتِ احمدیہ سے اخلاص و وفا کا تعلق۔ چاہے وہ پاکستان کا رہنے والا احمدی ہے یا ہندوستان میں بسنے والا احمدی ہے، انڈونیشیا اور جزائر میں بسنے والا احمدی ہے یا بنگلہ دیش میں رہنے والا احمدی ہے، آسٹریلیا میں رہنے والا احمدی ہے یا یورپ و امریکہ میں بسنے والا احمدی ہے یا افریقہ کے دور دراز علاقوں میں بسنے والا احمدی ہے، خلیفہ وقت کو دیکھ کر ایک خاص پیار، ایک خاص تعلق، ایک خاص چمک چہروں اور آنکھوں میں نظر آرہی ہوتی ہے۔ اور یہ صرف اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت اور وفا کا سچا تعلق ہے۔ اور یہ صرف اس لئے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل اطاعت اور محبت کا تعلق ہے، یہ اس لئے ہے کہ اس بات کا مکمل فہم و ادراک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کُل انسانیت کے نجات دہندہ بنا کر بھیجے گئے ہیں اور خلافتِ احمدیہ آپ تک لے جانے کی ایک کڑی ہے۔ اُس وعدہ کی نشانی ہے جو خدائے واحد کے قدموں میں ڈالنے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔
پس کیا کبھی ایسی قوم کو ایسے جذبات رکھنے والی روحوں کو کوئی قوم شکست دے سکتی ہے؟ کبھی نہیں اور کبھی نہیں۔ اب جماعت احمدیہ کا مقدر کامیابیوں کی منازل کو طے کرتے چلے جانا ہے اور تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔ یہ اس زمانے کے امام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔
’’یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اُٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ …سو اے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہو گا‘‘۔
(تجلیاتِ الہیہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409-410)
پس آج بعض جگہ پر اگر ہمیں مخالفین بظاہر زور میں نظر آرہے ہیں اور احمدی ظلم میں پستے ہوئے نظر آرہے ہیں تو یہ عارضی تکلیفیں ہیں ، یہ عارضی حالت ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جلد اب وہ دن طلوع ہونے والا ہے جب احمدیوں پر ظلم کرنے والے خس و خاشاک کی طرح اُڑا دئیے جائیں گے۔ کیونکہ یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اور کوئی طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر سکے۔
پس آج دنیا میں بسنے والے وہ مظلوم احمدی جو چاہے انڈونیشیا میں بس رہے ہوں یا بنگلہ دیش میں بس رہے ہوں یا پاکستان میں رہنے والے ہوں ، صبر اور دعا سے خدا کا فضل مانگتے ہوئے اُس کے حضور سجدہ ریز رہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آخری فتح مسیح محمدی کے غلاموں کی ہی ہے کیونکہ آپ ہی وہ قوم ہیں جو اخلاص و وفا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہر کوشش میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت دکھاتے ہوئے اس کام کی توفیق دیتا چلا جائے۔ہمیشہ یاد رکھیں ہم وہ خوش قسمت ہیں جن کے ساتھ مسیح الزمان کی دعائیں شامل ہیں ، اُس شخص کی دعائیں شامل ہیں جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کا آنا میرا آنا ہے۔
(صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعۃ باب قولہ واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم حدیث 4897)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔
’’ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برحق رسول تھے اور خدا کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 261۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ)
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور یقین میں بڑھاتا چلا جائے اور ہم ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث بنتے چلے جائیں۔ اب اس جلسے کا اختتام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے کہ ان دنوں میں جو پاک تبدیلیاں آپ لوگوں نے اپنے اندر پیدا کیں ، اُنہیں ہمیشہ اپنے اندر قائم رکھیں اور ہر دن آپ کے ایمان اور ایقان کو بڑھاتا چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو خیریت سے اپنے اپنے گھروں میں واپس لے جائے اور ہمیشہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔ ہمیشہ آپ کی حفاظت کرے۔ اور ہر وہ فیض اور ہر وہ دعا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے فرمائی اُس کو ہمارے حق میں قبول فرمائے۔اس دفعہ اس حوالے سے جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی اس امید کا بلکہ یقین کا اظہار کیا تھا اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یقین رہا ہے کہ ہماری تعداد بڑھتی ہے، اس سال میں خاص طور پر حیرت انگیز طور پر بڑھ رہی ہے۔ میرا اندازہ تھا کہ پچھلے سال سے تین چار ہزار زیادہ حاضری ہو گی لیکن یہ جو حاضری سامنے آئی ہے اس میں گزشتہ سال اس وقت ٹوٹل حاضری ستائیس ہزار تھی اور اِس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے، شامل ہونے والوں کی کُل تعداد سینتیس ہزار پانچ سو گیارہ ہے۔ ان میں خواتین کی تعداد ساڑھے انیس ہزار ہے اور مرد اٹھارہ ہزارہیں۔، عورتیں مردوں سے بڑھ گئی ہیں۔ اب دعا کر لیں۔ (دعا)

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/n9bJH]

اپنا تبصرہ بھیجیں