اصحاب رسولﷺ کا مثالی انقلاب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر1999ء میں شامل اشاعت مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے ایک تفصیلی مضمون میں صحابہ رسولؐ کے مثالی انقلاب اور شاندار فتوحات کا ذکر ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’یہ صرف نبی کریمﷺ کی تربیت اور قرآن شریف کی کامل تعلیم کا نتیجہ تھا کہ ایک طرف اس نے ان کو فرشتہ بنادیا اور دوسری طرف وہ عقل مجسم ہوگئے‘‘۔
صحابہ کرام کے ذریعہ جو مثالی انقلاب برپا ہوا وہ روحانی، اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ روحانی طور پر لاکھوں کروڑوں سینے توحید کے نور سے منور ہوگئے اور ایک وسیع رقبہ پر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں زبردست فتوحات ہوئیں جو حضرت عثمانؓ کے دور میں بھی جاری رہیں اور کابل سے سپین کے دروازوں تک اسلام کی گونج سنائی دینے لگی۔ حضرت امیرمعاویہؓ کے دور میں افریقہ میں خصوصیت سے اسلام کی خوب اشاعت ہوئی۔
اخلاقی زاویہ نگاہ سے صحابہؓ کی زندگیوں میں جو انقلاب آیا اُس کی مثال حضرت عمرؓ کے بعض واقعات سے دی جاسکتی ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے شرف انسانیت کو قائم کرنے کے لئے اپنی تمام طاقتیں صرف کردیں۔ خلیفہ بننے کے بعد ایک بار آپؓ اپنے غلام کے ہمراہ رات کو گشت کے لئے نکلے۔ مدینہ سے تین میل دور صرارؔ کے مقام پر دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکارہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔ آپؓ نے حقیقت حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ بچے کئی وقتوں سے فاقے سے ہیں اور اُن کو بہلانے کیلئے خالی ہانڈی پانی ڈال کر چڑھا رکھی ہے۔ آپؓ نے اُسی وقت بیت المال سے آٹا، گوشت، گھی اور کھجوریں لیں اور غلام سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دو۔ اُس نے کہا مَیں لئے چلتا ہوں۔ فرمایا: لیکن قیامت میں میرا بار تم نہیں اٹھاؤ گے۔ چنانچہ خود چیزیں لے کر وہاں پہنچے۔ عورت نے کھانا تیار کرنا شروع کیا تو حضرت عمرؓ خود چولہا پھونکتے رہے۔ کھانا تیار ہوا، بچوں نے کھایا تو عورت نے کہا: ’’خدا تم کو جزائے خیر دے۔ سچ یہ ہے کہ امیرالمومنین ہونے کے تم قابل ہو، نہ کہ عمر‘‘۔
ایک دفعہ رات کی گشت میں حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ ایک بدو اپنے خیمہ کے باہر زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔ خیمہ سے رونے کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ اُس کی بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ آپؓ گھر آئے اور اپنی زوجہ حضرت امّ کلثومؓ کو لے جاکر خیمہ میں بھیجا۔ کچھ دیر بعد امّ کلثومؓ کی آواز آئی: ’’امیرالمومنین! اپنے دوست کو مبارکباد دیجئے‘‘۔ امیرالمومنین کا لفظ سن کر بدو چونکا تو حضرت عمرؓ نے اُسے تسلّی دی اور کہا کہ صبح میرے پاس آنا، بچے کا روزینہ لگادوں گا۔
ایک رات مدینہ سے باہر ایک قافلہ اترا۔ حضرت عمرؓ وہاں حفاظت کیلئے خود تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شیرخوار بچہ، ماں کی گود میں رو رہا ہے۔ آپؓ نے ماں سے بچے کے رونے کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگی کہ عمرؓ نے حکم دیا ہے کہ بچے جب تک دودھ نہ چھوڑیں، بیت المال سے اُن کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے، مَیں اسی غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور یہ روتا ہے۔ یہ سُن کر آپؓ رقّت سے بولے: ہائے عمر! تُو نے کتنے بچوں کا خون کیا ہوگا۔ اسی دن منادی کرادی کہ بچے جس دن پیدا ہوں، اُسی تاریخ سے ان کے روزینے مقرر کردیئے جائیں۔
حضرت عمرؓ ایک رات حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے ہاں پہنچے اور فرمایا:شہر سے باہر ایک قافلہ اترا ہے، لوگ تھکے ماندے ہوں گے، آؤ ہم پہرہ دیں۔ چنانچہ دونوں رات بھر پہرہ دیتے رہے۔
سیاسی زاویہ نگاہ سے جو انقلاب آیا اس سے تو تاریخ بھری پڑی ہے۔ خلافت راشدہ میں خوارق و کرامات کا کثرت سے ظہور ہوا جنہوں نے انسانی تہذیب و تمدن پر گہرے اثرات مرتب کئے۔
مصر میں دستور تھا کہ ہر سال ایک کنواری لڑکی کو عمدہ کپڑے اور زیور پہناکر دریائے نیل میں ڈالا جاتا اور مصریوں کے عقیدے کے مطابق اس طرح دریا کا پانی اونچا ہوکر کھیتوں تک پہنچ جاتا۔ جب مسلمانوں نے وہ علاقہ فتح کیا تو اس رسم کو ختم کردیا۔ اتفاق سے دریا کا پانی اونچا نہ ہوا اور چند ماہ بعد کاشتکار جلاوطنی کی تیاری کرنے لگے۔ جب حضرت عمرؓ کو اس کی خبر دی گئی تو آپؓ نے لکھا: بلاشبہ اسلام ماضی کی غلط رسموں کو مٹاتا ہے، میں ایک رقعہ بھیج رہا ہوں، اس کو دریائے نیل میں ڈال دو۔
حضرت عمرؓ کے خط کا مضمون تھا: ’’ اگر تُو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو رُک جا اور اگر اللہ واحد و قہار تجھے بہاتا ہے تو ہم اس سے ملتجی ہیں کہ تجھے رواں کردے‘‘۔ یہ رقعہ نیل میں ڈالا گیا تو اگلے ہی دن پانی سولہ ہاتھ بلند ہوگیا اور زمین سیراب ہونے لگی۔
ایک اسلامی لشکر جب دریائے دجلہ پار کرنے دریا کے کنارہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایرانیوں نے پُل توڑ دیا ہے، دریا میں طغیانی ہے اور دوسرے کنارہ پر ایرانی لشکر صف آراء ہے۔ اچانک حضرت سعدؓ نے بلند آواز میں دعا پڑھی اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ آپؓ کے پیچھے اسلامی فوج بھی دریا میں داخل ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دریا بغیر کسی نقصان کے پار کرلیا۔ یہ منظر دیکھ کر ایرانی دہشت زدہ ہوگئے۔
خلفائِ راشدین نے مفتوحہ علاقوں میں رفاہ عامہ کے بے شمار کام کئے اور سچی خوشحالی کے دَور کا آغاز کیا۔ ان فتوحات کا آغاز اُس وقت ہوا جب رومی لشکر نے شام کی طرف سے اور ایرانی لشکر نے عراق کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور عرب قبائل کو بغاوت پر آمادہ کیا۔ ایسے میں مسلمانوں نے نہایت بے کسی اور مجبوری کی حالت کے باوجود دشمن کو عبرتناک شکست دی۔
شام کی طرف سے رومیوں کا حملہ آور لشکر اسّی ہزار فوجیوں پر مشتمل تھا جبکہ مسلمان چند ہزار تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس محاذ پر اپنے پہلے سپہ سالار حضرت عمروؓ بن العاص کو ایک خط میں لکھا:
’’کیا خدا نے ہم کو اپنے نبی محمدؐ کے ساتھ بڑے لشکروں کے ذریعہ فتح عطا نہیں کی؟۔ ہم رسول اللہ کے ساتھ لڑنے جاتے تو بس دو گھوڑے ہمارے ساتھ ہوتے اور اونٹ اتنے کم کہ باری باری سے ہم ان پر سوار ہوتے۔ جنگ احد میں ہمارے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ سوار تھے۔ اس کے باوجود خدا ہماری مدد فرماتا اور ہمیں دشمنوں پر فتح عطا کرتا۔ خوب یاد رکھو عمرو! خدا کا زیادہ فرمانبردار بندہ وہ ہے جو گناہوں سے دُور رہے…‘‘۔
حضرت عمرؓ کو جب ایرانی محاذ پر مسلمانوں کی قلیل فوج کے ہاتھوں دشمن کی ذلّت آمیز شکست کی اطلاع ملی تو آپؓ نے اسلامی فوج کے سپہ سالار حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو لکھا:-’’خدا سے ڈرنے کی تم کو فہمائش کرتا ہوں۔ خدا جس کے ڈر کی بدولت خوش نصیبی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ڈر سے بے نیاز ہوکر لوگ بدنصیبی کا شکار ہوتے ہیں۔ سعد! تم ان عنایتوں سے واقف ہو جو خدا نے ہمارے ساتھ کی ہیں۔ اس نے شرک اور مشرکوں سے ہمیں بچایا… جس طرح ہم مشرکین کے چنگل سے نکلے، اس کا حال بھی تم جانتے ہو، مسلمانوں کی ایک ٹولی، وہ اور اُن کا زاد راہ، اونٹ پر سوار تھی۔ صرف ایک لحاف تھا جس کو باری باری ہم اوڑھتے تھے۔ ہم میں سے جو لوگ اپنے مأمن (مدینہ) پہنچے وہ تھک کر چور ہوچکے تھے اور جو اپنے وطن (مکہ) میں رہے وہ اپنے توحیدی خیالات کی وجہ سے آزمائشوں میں ڈالے گئے… (ان حالات میں) رسولؐ قسم کھاکر کہتے تھے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے تمہارے ہاتھ آئیں گے۔… خدا نے تم کو زندہ رکھا اور یہ پیشگوئی خود تمہارے ہاتھوں پوری ہوئی۔ دنیا کے ٹھاٹ باٹ میں نہ پڑنا حتیٰ کہ ان بھوکے مجاہدوں سے جاملو جنہوں نے میلے کچیلے کپڑوں میں دنیا چھوڑی، جن کے پیٹ پیٹھوں سے لگے تھے، جن میں اور خدا کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے، دنیا نے ان پر اپنا جادو نہیں چلایا اور مایا نے ان کے ایمان میں کوئی خلل پیدا نہیں کیا… وہ مبارک قوم بنے رہو جس کے بارہ میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو پیشوا بنایا ہے، ہمارے حکم سے وہ لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتے ہیں، ہم نے ان کے دل میں ڈال دیا ہے کہ عمل صالح کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ ہمارے وفادار اور جاں نثار ہیں۔‘‘
حضرت مسیح موعودؑ صحابہؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں: ’’انہوں نے موت کے سامنے سے منہ نہ پھیرا … وہ لوگ جنگ کے وقتوں میں اپنی قدم گاہوں پر استوار اور قائم رہتے تھے اور خدا کے لئے موت کی طرف دوڑتے تھے‘‘۔
ایک دوسری جگہ فرمایا: ’’مکہ میں دشمنوں کی خون ریزیوں پر جو صبر کیا گیا تھا اس کا باعث کوئی بزدلی اور کمزوری نہیں تھی بلکہ خدا کا حکم سن کر انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور بھیڑوں کی طرح ذبح ہونے کو طیار ہوگئے تھے۔ بے شک ایسا صبر انسانی طاقت سے باہر ہے اور گو ہم تمام دنیا اور تمام نبیوں کی تاریخ پڑھ جائیں تب بھی ہم کسی امت میں اور کسی نبی کے گروہ میں یہ اخلاق فاضلہ نہیں پاتے‘‘۔
ایک امریکی مؤرخ مائیکل ہارٹ لکھتا ہے کہ عرب کے بدو قبائل تندخو جنگجوؤں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے لیکن وہ تعداد میں کم تھے۔ شمالی زرعی علاقوں میں آباد وسیع بادشاہتوں کی افواج کے ساتھ ان کی کوئی برابری نہیں تھی۔ تاہم یہ واحد خدا پر ایمان لے آئے۔ ان مختصر عرب فوجوں نے انسانی تاریخ میں فتوحات کا ایک حیران کن سلسلہ قائم کیا … ہم جانتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں۔ یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایسا بے نظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں (حضرت) محمدؐ کو انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ متاثرکن شخصیت کا درجہ دینے کا جواز بنتا ہے۔‘‘
ایک فرانسیسی محقق ڈاکٹر گستاؤلی بان رقمطراز ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی قوم کے لئے ایک ایسا زبردست تخیل جو پہلے ان میں ہرگز نہ تھا، پیدا کردیا اور اسی تخیل کی وجہ سے اسلام کی ساری ترقی ہوئی۔ یہ ایسا تخیل تھا جس کے آگے سچائی بھی گرد تھی۔ دین اسلام کے پیروان نے کبھی اپنے مذہب کیلئے جان دینے میں تامل نہیں کیا … خلفائے اسلام نے ملکی اغراض کے مقابل میں ہرگز بزور شمشیر دین کو پھیلانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اقوام مفتوحہ کے مذاہب و رسوم و اوضاع کی پوری طرح سے حرمت کی۔ مصر میں انہوں نے رعایا کے ساتھ ایسا عمدہ برتاؤ کیا کہ سارے ملک نے بہ کشادہ پیشانی دین اسلام اور زبان عربی کو قبول کرلیا ۔ یہ وہ نتیجہ ہے جو ہرگز بزور شمشیر حاصل نہیں ہوسکتا … جہاں کہیں عرب پہنچے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اثر ان ملکوں میں ہمیشہ کے لئے قائم ہوگیا ہے۔
برطانوی مفکر ایچ جی ویلز لکھتا ہے کہ اسلامی سلطنت کو صحیح معنوں میں عروج دینے کا سہرا حضرت ابوبکرؓ کے سر جاتا ہے۔ حضرت محمدؐ اگر مسلم خلافت کا ذہن اور تخیل ساز تھے تو حضرت ابوبکرؓ اس کا ضمیر اور ارادہ تھے۔ انہوں نے چٹانوں کو ہلا دینے والے اعتقاد کے ساتھ تین چار ہزار کی محدود فوج کے ساتھ مدینہ سے دنیا بھر کے فرمانرواؤں کو لکھے جانے والے پیغمبر خدا کے مکاتیب کی روشنی میں تمام دنیا کو خدا کی اطاعت پر آمادہ کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں