امریکہ کا مجسمۂ آزادی (Statue of Liberty)

دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ جو امریکہ کی آزادی اور جمہوریت کی علامت ہے یعنی مجسمہ آزادی (Statue of Liberty) جزیرہ بڈلوئی میں نصب ہے۔ روزنامہ الفضل ربوہ 14اپریل 2012ء میں اس مجسمہ کا مختصر تعارف شامل اشاعت ہے۔
ا مریکہ نے فرانسیسیوں کی مدد سے برطانیہ کے چنگل سے 4جولائی 1776ء کو آزادی حاصل کی تھی ۔ آزادی کے89سال بعد 1865ء میں ایک فرانسیسی دانشور ، سکالر اور ماہر قانون ایڈورڈ ڈاینے لی فیبوری نے امریکہ اور فرانس کی دوستی کے لئے فرانس کی طرف سے امریکہ کو ایک یادگار تحفہ دینے کا خیال پیش کیا جو دونوں ملکوں کی دوستی اور آزادی کی علامت کے طور پر ہمیشہ قائم رہے ۔ یہی مجسمہ آزادی اس دانشور کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ اس مجسمہ کی تعمیر اور تخلیق کے لئے فرانسیسی عوام نے عوامی سطح پر چندہ جمع کیا اور اسے فرانس کے مشہور مجسمہ ساز اور ایفل ٹاور کے خالق گسٹاف ایفل نے بنایا۔ یہ مجسمہ 4جولائی 1884ء کو امریکی آزادی کے 108 سال پورے ہونے پر فرانسیسی عوام کی طرف سے امریکی عوام کو تحفے کے طور پر دیا گیا۔
کانسی (تانبا) کی پلیٹوں سے بنا ہوا یہ دیو ہیکل مجسمہ 152فٹ بلند ہے جو نیو یارک میں لبرٹی آئی لینڈ پر تعمیر کیا گیا ہے اور اسے نئی دنیا (امریکہ) میں داخلے کے لئے گیٹ وے (Gateway) کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔شہر کی بندرگاہ کے رُخ پر ایستادہ لکڑی کے ڈھانچے کے اوپر بنا یہ مجسمہ ایک ایسی عورت کی شکل ہے جس نے روایتی لباس زیب تن کر رکھا ہے اور اُس کے سر پر سات پروں والا ایک تاج ہے۔ غلامی کی ٹوٹی زنجیریں اُس کے قدموں میں پڑی ہیں۔ اُس کے داہنے ہاتھ میں ایک شمع ہے جسے اس نے بلند کر رکھا ہے اور بائیں ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس پر اعلانِ آزادی کی تاریخ 4جولائی 1776ء درج ہے۔ اسے اس دَور کا سب سے اونچا سکائی سکریپر (Sky Scraper) کہا جا سکتا ہے۔ پلیٹ فارم کو بھی شامل کریں تو اس کی کُل اونچائی 305 فٹ بنتی ہے اور اس پر چڑھنے کے لئے 186 سیڑھیاں ہیں ۔
گستاف ایفل نے اس مجسمہ کے لئے جو داخلی ڈیزائن تیار کیا تھا اُس نے تعمیرات کی دنیا میں چند ایسی اختراعات متعارف کرائیں جو امریکہ میں آئندہ تعمیرات کے لئے نہایت اہم ثابت ہوئیں ۔ وسائل کی فراہمی میں تاخیر کے سبب آخر 1886ء میں 8لاکھ ڈالر کی لاگت سے اپنی بنیاد اور پلیٹ فارم سمیت یہ مجسمہ مکمل ہوگیا۔ اس پر خرچ ہونے والی رقم کا نصف فرانسیسیوں نے اور نصف امریکیوں نے جمع کیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/RP3Vt]

اپنا تبصرہ بھیجیں