اِک نفس مطمئن لئے اپنے لہو میں تر = قادر کا وہ غلام تھا، قادر کے گھر گیا

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پڑپوتے اور قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب ابن مکرم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کو ایک مذہبی تنظیم کے بدنام زمانہ دہشت گرد مجرموں نے 14؍اپریل 1999ء کو اغوا کرکے دن دہاڑے شہید کردیا تھا۔ آپ کی شہادت پر حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’قیامت کے دن تک شہید کے خون کا ہر قطرہ آسمانِ احمدیت پر ستاروں کی طرح جگمگاتا رہے گا‘‘۔
نیز حضور انور نے فرمایا:
’’اے شہید تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہم سب آکر ایک دن تجھ سے ملنے والے ہیں، زندہ باد، غلام قادر شہید، پائندہ باد‘‘۔
آپ کی شہادت پر احباب جماعت نے شہید مرحوم کے بارہ میں اپنے جذبات کا اظہار مضامین اور نظموں کی صورت میں کیا جو اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں۔ اس ہفتہ کا یہ کالم خاص طور پر آپ ہی کے ذکر خیر سے مزیّن ہے۔

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جون 1999ء میں شامل اشاعت، مکرم میاں نسیم احمد طاہر صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار ہدیہ قارئین ہیں:

وہ علم و آگہی میں فقیدالمثال تھا
قادر کا وہ غلام بڑا خوش خصال تھا
جاں نذر کرکے اس نے ثبوتِ وفا دیا
وہ منحنی وجود بڑا باکمال تھا
اس کا وجود باعثِ ترویجِ علم و فن
وہ معدنِ علوم تھا شیریں مقال تھا
لا ریب یہ ہے خون مبشر وجود کا
جو سبطِ میرزا تھا مسیحا کی آل تھا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍جون 1999ء میں شامل اشاعت مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کی ایک نظم سے دو اشعار ہدیہ قارئین ہیں:

نذرانۂ جاں عین جوانی میں کیا پیش
صد رشکِ جوانانِ جہاں ہے مرا مرزا
مُردہ نہ کہو اس کو، وہ ہے زندۂ جاوید
ہے جنت فردوس، جہاں ہے مرا مرزا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 1999ء میں شامل اشاعت مکرم راجہ نذیر احمد ظفر صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار ہدیہ قارئین ہیں:

لاکھ ہوں تالے لبِ اظہار پر
پھر بھی ہم قادر ہیں ہر گفتار پر
کھولتا بھی بولتا بھی ہے یہ خوں
اَور بکھر جاتا ہے ہر اخبار پر
کی حفاظت قوم کی جاں ہار کر
صدقے جاؤں مَیں ترے ایثار پر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جولائی 1999ء میں شامل اشاعت مکرم سید محمود احمد صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

اس دن کی بات نرالی تھی
جب اشک سے رات نہا لی تھی
جو چاند سا چہرہ ڈوب گیا
وہ ذات نصیبوں والی تھی
جو ٹوٹ گئی وہ پھل والی
اِک شجر کی تازہ ڈالی تھی
جب گھر سے چلے تم ہاتھوں میں
ہر شخص کی آنکھ میں لالی تھی
اس آل میں جان سے جانے کی
وہ طرح بھی تم نے ڈالی تھی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍جولائی 1999ء کی زینت مکرم فرید احمد نوید صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

چلا گیا ہے مگر آن بان چھوڑ گیا
ہر ایک راہ پہ اپنے نشان چھوڑ گیا
وہ میرے شہر کا اِک نوجوان شہزادہ
محبتوں کی عجب داستان چھوڑ گیا
وہ ایک جست میں کچھ ایسا سرفراز ہوا
کہ راستے کے سبھی امتحان چھوڑ گیا
وہ اس طرح سے نبھا کے گیا ہے رسم وفا
کہ مدتوں کے لئے ایک مان چھوڑ گیا
خدائے قادر و مؤمن! انہیں اماں دینا
جنہیں وہ تیرے لئے بے امان چھوڑ گیا

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں