آنکھیں۔ نعمتِ عظمیٰ

ہمارے جسم میں استعمال ہونے والی توانائی کا چالیس فیصد ہماری آنکھیں استعمال کرتی ہیں۔ آنکھوں کی حفاظت کے حوالے سے مکرم نصیر احمد عارف صاحب کا ایک معلوماتی مضمون ہفت روزہ ’’بدر‘‘ 9؍جون 2011ء میں شامل اشاعت ہے۔
یہ ضروری بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم کسی بھی عارضہ سے دوچار ہوکر جو بھی دوا استعمال کرتے ہیں اُس کے اثرات ہماری آنکھوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس لیے دواؤں کے زیادہ استعمال یا نشہ آور اشیاء (سگریٹ وغیرہ) سے پرہیز کرنا چاہئے اور علاج بالغذا پر زور دینا چاہئے۔
اپنی آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ گندے ہاتھ یا گندے کپڑے آنکھوں کو نہ لگائیں۔ غسل اور وضو کرتے وقت نیز رات سونے سے پہلے آنکھوں میں پانی کے چھینٹے دے کر انہیں دھونا چاہیے۔ غرارے کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنا بھی آنکھوں کے لیے مفید ہے۔ اگر آنکھوں میں کچھ پڑ جائے تو کبھی نہ ملیں بلکہ پانی کے چھینٹوں سے صاف کرنے کی کوشش کریں۔ تیز دھوپ، روشنی اور دھواں آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
آنکھوں کی صحت کے لیے چند امور ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ صبح کی سیر اور سبزے کو دیکھنے سے آنکھوں کو طاقت ملتی ہے۔ اسی طرح وہ خوراک جس میں وٹامن A ہو وہ فائدہ مند ہے جس میں دودھ، دہی، انڈا، مکھن اور مچھلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سونف، بادام اور مونگ پھلی میں بھی کافی وٹامن A پایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ وٹامن C بھی استعمال کریں تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ فالتو مادے جسم سے نکل جائیں گے۔
اگر ہمارے جسم میں خون کی کمی پیدا نہ ہو تو بھی جسم کئی قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں فولاد استعمال کرنا چاہئے جو چند سبزیوں مثلاً پالک، مولی، شلجم، بندگوبھی، کھیرا، کدّو، ٹینڈے وغیرہ میں اور خصوصاً ان سبزیوں کے چھلکے میں پایا جاتا ہے۔
آنکھوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ کم روشنی میں نہ پڑھیں۔ نیز پڑھتے وقت کتاب پر روشنی پڑنی چاہیے نہ کہ آنکھوں پر۔ اسی طرح لیٹ کر یا جُھک کر بھی نہ پڑھیں۔ چلتی ہوئی گاڑی میں بھی پڑھنے سے گریز کریں۔ اسی طرح مسلسل نہ پڑھیں اور کمپیوٹر بھی مسلسل استعمال نہ کریں بلکہ ہر آدھے گھنٹے بعد کچھ دیر کے لئے اپنی آنکھوں کو بند کرکے انہیں آرام دیں۔ خواتین جب سلائی کڑھائی کا باریک کام کریں تو بھی آنکھوں کو آرام دینے کے لیے وقفہ کریں۔
اگر بچپن میں ہی نظر کی کمزوری پیدا ہوجائے تو یاد رکھیں کہ بچوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک دینے سے اُن کی نظر کی کمزوری ختم ہوسکتی ہے۔ نیز بچوں کے حوالے سے ایک احتیاط ہمیشہ کریں کہ بہت چھوٹے بچوں کو نوکیلی چیزیں نہیں تھمانی چاہئیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/w8fV1]

اپنا تبصرہ بھیجیں