اڈولف ہٹلر (Adolf Hitler)

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جولائی 2009ء میں مکرم راجہ اطہر قدوس صاحب کے قلم سے اڈولف ہٹلر کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔
اڈولف ہٹلر آسٹریا کے ایک رومن کیتھولک عیسائی گھرانے میں 20؍اپریل 1889ء کو پیدا ہوا۔ وہ اپنی کتاب میں بیان کرتا ہے کہ اُس کا باپ اُسے بچپن سے ہی بہت مارا پیٹا کرتا تھا اور وہ بچپن سے ہی پیار سے محروم رہا۔ سکول میں بھی اچھا طالبعلم ثابت نہ ہوا۔ بعد میں اُس نے مصور بننے کی بھی ناکام کوشش کی۔ اُس آوارہ گردی کے دور میں وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔ اُس نے یہ سمجھ لیا کہ کامیاب سیاست کرنے کے لئے دو صلاحیتیں ضروری ہیں۔ ایک گروہ بندی کا فن اور دوسرا خطابت کا فن۔ چنانچہ وہ مختلف لوگوں سے مل کر تقریر کی مشق کرتا رہا اور اپنی خداداد ذہانت کے باعث دونوں فنون کا ماہر ہوگیا۔
ہٹلر 1907ء میں فوج میں ملازم ہوا اور ترقی کرتے ہوئے افسر بن گیا۔ اُس نے 1922ء میں جرمن حکومت کے خلاف بغاوت کی مگر ناکام رہا۔ 1923ء میں اُس نے جرمن چانسلر کے لئے انتخاب لڑا مگر ناکام رہا۔ ان ناکامیوں کے باوجود اُس کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی اور 1925ء میں وہ پہلے جرنیل اور پھر 1933ء کے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہونے کی وجہ سے چانسلر بن گیا۔ برسراقتدار آتے ہی اُس نے جرمن پارلیمنٹ معطّل کرکے اپنی نازی پارٹی تشکیل دی اور اس طرح ایک آمر کے طور پر ابھرا۔ وہ یہودی قوم کا سخت مخالف تھا۔ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اس نے بیروزباری کا خاتمہ کیا اور بے شمار ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا-اس نے جرمن قوم کو یقین دلایا کہ وہ دنیا کی عظیم ترین فاتح قوم ہے-
ہٹلر نے یکم ستمبر 1939ء کو پولینڈ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا۔ پوری دنیا پر جرمن قوم کی حکمرانی کا خواب دیکھتے ہوئے ہٹلر ایٹم بم تیار کرنے میں مصروف تھا لیکن اس کام میں شریک ایک میاں بیوی نے امریکہ کو وہ راز بیچ دیئے۔ نتیجۃً امریکہ نے پہلے ایٹم بم بنالیا اور 16جولائی 1945ء کو نیومیکسیکو میں ایٹمی دھماکہ کردیا۔ بعد ازاں 6 اگست کو جاپانی شہر ہیروشیما اور 19 اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تو جنگ کا خاتمہ ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی ہٹلر کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ مؤرخین کے مطابق 30 اپریل 1945ء کو برلن کے ایک تہہ خانے میں اپنی بیوی کے ساتھ چھپے ہوئے ہٹلر نے اپنی بیوی سمیت خودکشی کرلی-

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/YyN7q]

اپنا تبصرہ بھیجیں