ایوان خدمت جرمنی

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے 1989ء میں جب تمام ممالک میں قائم ذیلی تنظیموں میں صدارت کے نظام کا اجراء کیا تو اس کے بعد ہر ملک میں ذیلی تنظیموں نے بہت زیادہ ترقی کی۔ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی 1990ء کی دہائی کے آغاز میں فرینکفرٹ کے علاقہ بونامیس میں واقع دو کمروں پر مشتمل دفتر میں کام کیا کرتی تھی۔ اس میں جگہ کی تنگی کا احساس ہوا تو بڑے دفتر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اِس تحریک کے روح رواں نائب صدر خدام الاحمدیہ مبارک عارف صاحب تھے۔
سالانہ اجتماع 1991ء کے موقع پر نیشنل عاملہ کی میٹنگ میں حضور انور نے نئے مرکز کی منظوری دی اور اس کا نام ایوان خدمت تجویز فرمایا۔ اس کی تعمیر کے لئے جرمنی کے خدام سے سات لاکھ مارک جمع کرنے منظوری دی اور اپنے اختتامی خطاب میں آپؒ نے اپنی طرف سے ایک ہزار مارک کا وعدہ فرما کر اِس تحریک کا اعلان فرمایا۔ حضورؒ کی خواہش تھی کہ جو جگہ خریدی جائے ’’وہ جگہ کھلی اور وسیع ہونی چاہئے۔ جس میں نہ صرف یہ کہ multipurposeہال تعمیر کیا جا سکے بلکہ ساتھ میں کھیل کے میدان بھی ہوں۔ گویا کہ ایک پورا کمپلیکس ہو۔ جس میں ہم اپنا سینٹر بھی بنا سکیں، کھیل بھی سکیں اور اگر ممکن ہو تو اجتماع بھی کرسکیں‘‘۔ اِس میٹنگ کے موقع پر حضوررحمہ اﷲنے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ خدمتِ خلق کے کاموں کو کبھی اِس لئے نہ کرو کہ تبلیغ ہوگی بلکہ بے لوث خدمتِ خلق کرو لیکن یہ لازمی بات ہے کہ آپ کی بے لوث خدمتِ خلق سے تبلیغ کی راہیں خود بخود کُھلتی چلی جائیں گی۔
جب Offenbachمیں ایوان خدمت کی عمارت خریدنی تھی تو اس عمارت کی قیمت 7 لاکھ 90 ہزار تھی۔ مجلس کے پاس صرف پانچ لاکھ اکٹھے ہوئے تھے۔ چنانچہ امیر صاحب کے مشورہ سے حضورؒ سے درخواست کی گئی کہ اگر حضورؒ اجازت دیں تو ہم مرکزی فنڈ سے رقم لے کر یہ جگہ خرید لیں۔ حضورؒ نے اس کا برا منایا اور فرمایا کہ مرکزی فنڈ سے خدام الاحمدیہ جرمنی کو ایک پائی بھی نہیں ملے گی، آپ اپنے فنڈ خود پیدا کریں۔ اس بات سے جہاں خدام کے حوصلے بلند ہوئے وہاں حضور انور ؒ کی خدمت اقدس میں بار بار دعائیہ خطوط بھی لکھے گئے۔ یہ حضور ؒ کی دعائوں کا ہی فیض تھا کہ ہمیں وہ عمارت 5لاکھ 90ہزار میں ہی مل گئی اور حضور اقدس ؒنے اگست 1994ء میں اس کا افتتاح فرمایا۔
2001ء میں فرینکفرٹ میں جماعت احمدیہ جرمنی نے عمارت’’بیت السبوح‘‘ خریدی جس میں دو ملحقہ عمارتیں موجود تھیں۔ بڑی عمارت میں 80 سے زائد دفاتر، دو سپورٹس ہال اور مسجد واقع ہے۔ جبکہ دوسرے حصہ میں 11دفاتر، ایک ہال (طاہر ہال) اور ایک عدد رہائشی اپارٹمنٹ ہے۔ یہ عمارت ہمیں پرانے ایوان خدمت کے بدلہ میں ملی۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ جگہ بھی آئندہ چند سال میں چھوٹی ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی منشاء کے مطابق مجلس کو ایک بڑی جگہ خریدنے کی توفیق عطا ہو۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/aKBv9]

اپنا تبصرہ بھیجیں